ہزارہ

کاروکاری، خواتین کو زمینوں میں حصہ نہ دینے کے لئے قتل اور زمانہ جاہلیت کے جرگے اور انکے ریاست کے اندر ریاست نما حکومتیں، حکومتوں کی بیڈ گورننس اور بدترین بے انتظامی ہے۔

سابق گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان ملک کے لئے نا گزیر ہوچکے ہیں انکا ویژن و بیانیہ اعتدال پسندی اور قبائلی روایات کو بھی مثبت سوچ کی طرف لانے کا عمل ” میری پہچان پاکستان“ اور دین اسلام کی تعلیمات میں موجود ہے۔ ترجمان میری پہچان پاکستان

کراچی (ڈسٹرکٹ رپورٹر ) ایم پی پی (میری پہچان پاکستان) کے ترجمان نے کہا ہے کہ کاروکاری، خواتین کو زمینوں میں حصہ نہ دینے کے لئے قتل اور زمانہ جاہلیت کے جرگے اور انکے ریاست کے اندر ریاست نما حکومتیں، حکومتوں کی بیڈ گورننس اور بدترین بے انتظامی ہے۔ بلوچستان واقعہ کے بعد یہ سوال پیدا ہو رہا ہے کہ جو کاروکاری قتل عام نہیں روک سکتے۔ وہ فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کے لئے کیسے متحرک رہ سکتے ہیں؟ سیکورٹی فورسز کو ہی کیا ہر کام کرنا ہے۔ عوام سوال کر رہے ہیں۔ اندرون سندھ، کے پی کے، بلوچستان میں یہ روایات ختم کرانے کے لئے بے رحم آپریشن کی ضرورت ہے۔ پاکستان کا بہترین چہرہ چند مکروہ ذہنیت افراد کی وجہ سے خراب نہیں ہونا چاہئے۔ سابق گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان ملک کے لئے نا گزیر ہوچکے ہیں انکا ویژن و بیانیہ اعتدال پسندی اور قبائلی روایات کو بھی مثبت سوچ کی طرف لانے کا عمل ” میری پہچان پاکستان“ اور دین اسلام کی تعلیمات میں موجود ہے۔ اس لئے حکومت بیڈ گورننس کا خاتمہ کرے۔ کسی بھی غیر قانونی عمل کی حوصلہ افزائی نہیں ہونی چاہئے۔ تمام تنازعات کا حل مزاکرات ہیں۔ قبائلی سسٹم کو وزیر اعلی اور وزیر اعظم بہتری اور قانون کی عمل داری پر لائیں۔ نبی اکرم ﷺ کے آخری خطبے میں ہر بات کا جواب ہے ایک نبی کے امتی جرگوں اور قبائلی نظام سے اسکی بے حرمتی کے مرتکب نہ ہوں سرف ایک قوم پاکستانی قوم بنیں۔ غیرت کے نام پر جعلی قتل اور دیگر جاہلانہ روایات کو اسمبلی میں لاکر انسانی جانوں بالخصوص خواتین کو مکمل تحفظ کیا جائے۔

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button