کراچی میں فیلڈ مارشل کے دوروں اور شکایات کے راستے میں سب سے بڑا روڑا کراچی کی انتظامیہ، سسٹم انتظامی افسران، کے ایم سی، کے ڈی اے ایم ڈی اے، ایس بی سی اے اور واٹر کارپوریشن ہیں کراچی رائٹس آرگنائزیشن
کراچی (اسٹاف رپورٹر) کراچی رائٹس آرگنائزیشن نے چیئرمین بلاول بھٹو اور صدر آصف زرداری سے مطالبہ کیا ہے کہ کراچی میں فیلڈ مارشل کے دوروں اور شکایات کے راستے میں سب سے بڑا روڑا کراچی کی انتظامیہ، سسٹم انتظامی افسران، کے ایم سی، کے ڈی اے ایم ڈی اے، ایس بی سی اے اور واٹر کارپوریشن ہیں۔انکے سرپرست اعلی مئیر ہیں۔ جو خود کو بلاول کی قربت اور وزیر اعلی سندھ کا ہم پیالہ ہم نوالہ بنا کر چرب زبانی سے مخالفین کو زچ کرکے اپنا الو سیدھا کر رہے ہیں، کراچی رائٹس کی پوری ٹیم اور 17رکنی کابینہ مطالبہ کرتی ہے کہ مئیر کراچی سے فوری چیئرمین بلاول بھٹو استعفی لے کر سلمان مراد بلوچ کو مئیر کراچی کی ذمہ داریاں دیں۔ ایم کیو ایم بھی کراچی کی اتنی ہی مجرم ہے جتنا پیپلز پارٹی کے کرپٹ افراد، علی خورشیدی صرف باتیں کرتے ہیں انکی ناک تلے اورنگی جو انکا اپنا حلقہ ہے۔ منشیات، ببدعناونی، مرڈرز، زمینوں پر قبضے اور رشوت وصولیوں کے کھیل ہو رہے ہیں۔ کراچی تباہ حال ہے انکے اراکین اسمبلی نے ابتک کہیں کوئی کام نہیں کیا انہیں قوم کا اور کراچی سمیت شہری علاقوں کا بدترین مجرم قرار دیتے ہیں۔ بلاول بھٹو محترم ہیں مئیر کے حلف کے وقت کہا تھا کہ چار سال بعد مرتضی وہاب سے نہیں مجھ سے حساب لینا کراچی میں ترقی نہ ہو تو۔ مئیر نے تو حساب تو دور کی بات انہیں دوسال ایک ماہ میں ہتھکڑی لگانے کے انتظامات کردیئے ہیں۔ 17رکنی اراکین نے کہاہے کہ بلدیہ کراچی میں تاریخ کے بدترین کرپشن اور کرپٹ افسران کی رشوت سازی ٹھیکیداروں کو عدالتی احکامات کے باوجود 25فیصد رقوم کی ادائیگی، رشوت لے کر تعیناتیاں، سسٹم افسران کی بھرتیاں، جعلی ترقیاں، جعلی بھرتیاں، جعلی آکشن، بد انتظامی، کراچی میں دو ماہ ایک سال گزر جانے کے باوجود صرف سندھ حکومت کے پرانے پروجیکٹس کو اپنا دکھا کر، پرانے پارکوں میں لیپا تھوپی کرکے انکے افتتاح، بیٹرز سے رقوم کی وصولی، کرم اللہ وقاصی جیسے کرپٹ نمائنہ مئیر کی 50لاکھ رشوت کے عوض جعلی افسران کی تعیناتیاں، جعلی ایس سی یو جی افسران کی بھرتیاں اور ایڈجسٹمنٹ، جعلی انکوائریز، کرپٹ اور چھ سال سے تعینات کلک کو برباد کرنے والے اربوں روپے کے ہیر پھیر میں ملوث میونسپل کمشنر سے وصولیاں، ٹھیکوں میں بدعنوانیوں کے علاوہ بلدیہ کراچی کی زمینوں کو چھن جانے کے باوجود عدالتی اپیلوں سے بھی واپس نہیں لا سکے۔ بیرسٹر ہونے کے باوجودبلدیہ کراچی، واٹرکارپوریشن میں قانون کی عمل داری نہ ہونا، پنشنرز اور ریٹائرڈ ملازمین کی رقم ٹھیکوں اور بندر بانٹ کی نذر کرنا، ٹاؤنز کی مکمل ناراضگی، پیپلز پارٹی کے چیئرمینوں کا عدم اعتماد، پی پی پی کے کرپٹ ٹاؤنز چیئرمین کا اپنے ہی ساتھیوں کا قتل اور زمینوں پر قبضوں، گلشن ضیاء، اتحاد ٹاؤن اور مختلف علاقوں کو سسٹم کے حوالے کرکے علی حسن بروہی، فیاض سولنگی، یونس میمن، اے جی، علی حسن زرداری، محمد علی شیخ، ضلعی انتظامیہ اور نیب کی بڑی بڑی لسٹوں میں موجود ہاتھیوں کی سرپرستی اور انکے ایماء پر زمینوں سے عدالتی چالوں سے دستبرداری، اپیلوں کو سرد خانے کی نذر کرنے، پٹرول اور متعدد فراڈ اسکینڈل میں میئر کے معتمد خاص کو سیکور کرنا، پیپلز پارٹی کے مذدور نشست پر منتخب اسلم سموں کی جعلی ایل پی سیز پر افسران کی ایڈجسٹمنٹ، نیب زدہ سزا یافتہ افسران کو تنخواہوں کی ادائیگی۔ اینٹی کرپشن سے کئی کئی ایف آئی آرز، نیب سے ضما نتوں پر آئے افسران کو بھاری رقوم لے کر اہم ترین عہدوں پر تعیناتی، مفرور ماروائے قانون سالہا سال غائب رہنے والے افراد کو تنخواہوں کی ادائیگی، جعلی لیٹرز جعلی ایڈجسٹمنٹ، ڈرائیورز کو افسر بنانے اور لیب اٹینڈنٹ کو ماروائے قانون افسر بنانے، نیب اور اینٹی کرپشن کی سنگین نوعیت کی انکوائریز اور ایف آئی آر، نیسلے ٹاور جیسے معاملات میں ملوث افسران کو اہم عہدوں پر تعیناتی، بلدیہ کراچی میں گھس کر افسر کا قتل، بلدیہ کراچی میں چوری، ریکارڈ کی ہیرا پھیری، ٹھیکوں میں ٹرانسپرنسی انٹر نیشنل کی آبزرویشن کے باوجود ادائیگی اور ٹھیکوں کو ایوارڈ کرنا، کاسمیٹک آپریشن، جعلی انکوائریز رپورٹس، اپنی ڈاک دیکھنے کی زحمت نہ کرنا میونسپل کمشنر کو سارے اختیارات اور اسکی بھیجی ہوئی ہر غلط اور ڈیلنگ نوٹ شیٹ پر آنکھ بند کرکے دستخط کرنا کیونکہ انکو انکا حصہ مل جاتا ہے۔ سمیت متعدد غیر قانونی سرگرمیاں۔ محفلوں میں شرکت کے معاملات کے بعد انکا میئر کے منصب پر رہنا کراچی دشمنی ہے۔ چرب زبانی سے وہ چیئرمین بلاول بھٹو کو مرعوب کرسکتے ہیں کراچی کے تین کروڑ عوام کو نہیں۔ سعید تنولی، شاہد راجہ، رستم خاصخیلی، نعمان سیٹھی، دیدار بھٹی، قیوم زئی، شبانہ گل، نادرہ پروین، کلثوم چانڈیو، زید عباس، رضی عباس، رشید رضوی، عمیر جتوئی، نعمان مگسی، امداد ساریو، غلام مرید سومرو، فرید آرائیں ودیگر منتظمین نے کہا ہے کہ توہین عدالت کی مسلسل کاروائیاں کرکے بلاول بھٹو کی محنت کو بٹہ لگایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 37افسران کی بحالی کے چاچڑ مافیا، معظم، سید عباس رضا زیدی (ناظم آباد) سابق یونٹ انچارج ایم کیو ایم) کے زریعے مئیر کے معتمد خاص کے زریعے لینڈ سے منتھلی اور جعلی کاموں کی رقوم پہنچاتا ہے،۔لینڈ سے اسی فیصد، ویلفیئر ڈپارٹمنٹ سے 50فیصد کمیشن لے کر انکے چیک کلیئر کراتا ہے۔پانچ سے د س لاکھ روپے روزانہ کی بنیاد پر رشوت لی جا رہی ہے۔ اس سسٹم کے مرکزی کردار فیصل رضوی ہیں جنہوں نے پی ڈی بس ٹرمینل اور اورنگی کا چارج ملنے کے بعد سابقہ افسران کو خراب بتاکر دو سو گز کا کلفٹن میں ایک نیا بنگلہ معظم قریشی اور عباس زیدی کو خرید کر دیا ہے، اسٹیٹ ایجنسی کی آڑ میں زمینیں بھگتائی جا رہی ہیں۔ چیئرمین بلاول بھٹو غریب افراد کو 20لاکھ گھر بنوا کر دے۔ رہے ہیں جبکہ مئیر فیصل رضوی، افضل زیدی کے ایماء پر قانونی ہزاروں افراد کو بے گھر کرنے پر تلا ہوا ہے اور انکے خلاف نوٹی فیکیشن جاری کراکے پیپلز پارٹی کا ووٹ بنک ختم کر رہے ہیں۔ جبکہ نعمت اللہ خان کی سپریم کورٹ میں دائر پیٹیشن میں کراچی کے پرائم علاقوں فیڈرل بی ایریا اور سرجانی سمیت اورنگی کے 22پارک جو اورنگی کے ایم کیو ایم کے پی ڈی ملک نے لیز کردیئے تھے انہیں نہ فیصل رضوی نے واگزار کرایا نہ کے ڈی اے نے اور مئیر درپردہ ایم کیو ایم کی مکمل سپورٹ کرتے ہیں۔ سپریم کورٹ میں تمام اداروں کی قبضوں کی رپورٹ پیش ہے جسمیں غیر قانونی مساجد، امام بارگاہیں،پارکس، گراؤنڈز، فلاحی مراکز شامل ہیں لیکن
ان پر کام کرنے کے بجائے سیاست کی جا رہی ہے اور بدعنوان افسران کے زریعے مالکان سے ٹیمیں رقوم وصول کر رہی ہیں۔ چائنا کٹنگ ختم کرانے کے بجائے انہیں لیز موٹیشن، اور سارے کاغزات دگنی رقم لے کر قانونی بنایا جا رہا ہے۔ پی پی پی ویسٹ اور اہم منصب پر فائز عہدیدران کراچی اور سندھ کے اہم عہدیداران اکیلے رہنے والے فیصل رضوی کے کلفٹن کے بنگلے میں عیاشی اور لابنگ کے علاوہ رقص و سرور کی محفلوں میں جاکر شراب اور شباب کی محفلیں جما رہے ہیں۔ مئیر کی ٹیم بھی اس میں شامل ہے۔ جبکہ میونسپل کمشنر اور اسکے دست راست محسن شیخ بھی اکثر دیکھے گئے ہیں۔ اس قدر کرپشن اور بد انتظامی سے مئیر کراچی نے باعزت خاتون فوزیہ وہاب کے نام پر بھی بٹہ لگا دیا ہے۔ کراچی رائٹس آرگنائزیشن معہ ثبوت آپکو گوہان کے ساتھ ریکارڈ فراہم کرنے کو تیار ہے۔ مئیر نے ہر سیٹ کے نرخ مقرر کردیئے ہیں اور واٹر کارپوریشن اور کے ایم سی بکاؤ ادارہ بن چکے ہیں۔ ڈبل نوکریوں کا کیس جو سعید غنی نے پکڑا تھا وہ بھی لابنگ کرکے دبا دیا گیا۔ سلمان مراد بلوچ انتہائی بردبار اور عوامی خدمت کا جزبہ رکھنے والے ڈپٹی میئر ہیں۔ بلاول بھٹو اگر کراچی کے دیہی اور شہری علاقوں کی ترقی اور کرپشن پر کنٹرول چاہتے ہیں تو مئیر کو فارغ کریں۔ چاچڑ سسٹم، کرم اللہ وقاصی سسٹم، سسٹم افسران جو او پی ایس پر ہیں انہیں فارغ کریں۔ تمام افسران کی پہلی تعیناتی اور سروس ریکارڈ چیک کریں۔ تمام جعلی انکوائریز کی جگہ مئیر کی انکوائری کرائیں جس پر وہ اثر انداز نہ ہوسکتے ہوں۔ حساس اداروں سے رپورٹ لی جائے کل پیپلزپارٹی کو جیلوں میں لیجانے والے پی پی پی کے افراد اور افسران جعلسازترقی یافتہ اور تقرری شدہ افراد کو پہلے بنک اسٹیٹمنٹ سے چیک کریں۔ مئیر کی ڈھکوسلے بازی میں نہ آئیں تو وہ دو سال بعد کراچی میں کچھ نہ کچھ بہتری لاکر سرخرو ہو سکیں گے۔



