آج کے کالمزکالمز

سیاحتی مقام پر ٹول پلازہ کا قیام

میاں صلاح الدین خضری

وہ علاقے، جہاں قدرت نے اپنے جلوے بکھیرے، فطرت نے اپنے نقوش چمکائے، اور فضاؤں میں روحانیت اور سکون کی تاثیر گھول دی۔ وہ صرف زمین کے ٹکڑے نہیں بلکہ قوموں کے لیے سرمایہ و ساکھ ہوتے ہیں۔ ان علاقوں کو آباد رکھنا، سیاحت کو فروغ دینا، مقامی معیشت کو تقویت دینا، دراصل قومی فلاح کی جانب ایک اہم قدم ہوتا ہے۔

ایسے میں اگر وہاں کوئی رکاوٹ، کوئی مالی بوجھ، کوئی جُزوی اقدام بھی ایسا اٹھایا جائے جو آنے والے مہمانوں کے قدم روک دے، تو یہ صرف سڑک پر لگایا گیا ٹول نہیں ہوتا بلکہ پورے معاشی، سماجی نظام پر ایک قدغن بن کر اترتا ہے۔

مقامی لوگوں کو وقتی اطمینان دلا کر مستقبل میں مستقل مالی بوجھ ڈالنے کی جو روایت مختلف علاقوں میں دیکھی گئی، وہی اندیشہ آج بھی جنم لے رہا ہے۔ خاموشی سے لگائے گئے ٹول پلازے، وہ زخم ہیں جو وقت کے ساتھ ناسور بن سکتے ہیں۔

مقتدر و ارباب واختیار سے مطالبہ کرتے ہیں
سیاحت کی راہ ہموار کیجیے، رکاوٹیں نہ کھڑی کیجیے۔
ٹول پلازہ نہیں، ترقی دیجیے۔

یہ صدا کسی ایک فرد یا گروہ کی نہیں، بلکہ اس دھرتی کی ہے جو چاہتی ہے کہ اس کے دامن میں آنے والے ہر مہمان کو خیر مقدم ملے، نہ کہ وصولی کی رسید۔

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button