
پاکستان کو خوبصورت اور صحت مند بچوں کی ضرورت ہے، ہر طرح کی معذوری کو ختم کرنا بہت بڑا جہاد ہے اس سلسلہ میں ہم سب کو مل کر ساتھ چلنا ہے اور اپنے حصہ کی شمع روشن کرنی ہے، گجرات میں ایک بین الاقوامی معیار کا ادارہ عائشہ بشیر ہسپتال کے نام سے کام کر رہا ہے جو معذوری کے خلاف جہاد میں پیش پیش ہے، گزشتہ دنوں عائشہ بشیر ہسپتال جلیانی جی ٹی روڈ گجرات جانے کا اتفاق ہوا، کٹے ہونٹ و تالو والے مریضوں اور بچوں سے ملاقات ہوئی یہ جان کر خوشی ہوئی کہ 30000 سے زائد مفت آپریشن کیے جا چکے ہیں اور یہ آپریشن بھی برطانیہ، امریکہ، آئرلینڈ و دیگر ممالک سے آنے والے اعلیٰ تربیت یافتہ سرجنز نے کئے اس کا سارا اعزاز بلاشبہ ڈاکٹر اعجاز بشیر کو جاتا ہے، عائشہ بشیر ہسپتال ایک اعلیٰ ادارے کے طور پر کھڑا ہے جو کٹے ہونٹ اور تالو والے افراد کی جامع دیکھ بھال کرتا ہے۔ ہمارا مشن کٹے ہونٹ اور تالو یا کرینیوفیشل کنڈیشنز سے متاثرہ شیر خوار بچوں، بچیوں اور بڑوں کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانے پر مرکوز ہے۔ یہاں ہم نے چیئرمین ڈاکٹر اعجاز بشیر، حمزہ اعجاز، محسن علی عارف ودیگر سے ملاقات کی، ہسپتال کے مختلف شعبہ جات کا دورا کرایا گیا اور ہمیں اس مرض کے حوالہ سے آگاہی حاصل ہوئی۔
کٹے ہونٹ و تالو کا مرض کیا ہے.؟

عام طور پر حمل کے پہلے تین مہینوں کے دوران ہونٹ اور تالو بنتے ہیں۔ اگر یہ جزو صحیح نہیں جڑ پاتے تو دو حصوں کے درمیان ایک خلا رہ جاتی ہے جس کو کلیفٹ کہتے ہیں۔ کٹے ہونٹ اور تالو اپنی اقسام اور نوعیت کے لحاظ سے مختلف ہو سکتے ہیں۔ کٹے ہونٹ اور تالو پیدائشی نقص کی عام اقسام ہیں جو کہ ایک ہزار بچوں میں سے ایک بچے میں ہوتے ہیں۔ زیادہ تر بچے جن کے تالو یا ہونٹ کٹے ہوتے ہیں وہ صحت مند ہوتے ہیں، ان میں کوئی اور پیدائشی نقص نہیں ہوتا، لیکن چند بچوں کو کلیفٹ کے ساتھ اور بھی طبی مسائل ہو سکتے ہیں۔
اقسام:۔
ہونٹ کا کٹاؤ چھوٹا یا جزوی ہو سکتا ہے، اس کے برعکس ایک مکمل کٹاؤ ناک تک بڑھا ہوا ہوتا ہے۔ کٹاؤ یکطرفہ بھی ہو سکتا اور ہونٹ کے دونوں اطراف بھی، کٹا ہوا تالو اس وقت ہوتا ہے جب کھوپڑی کے دو حصے جو سخت تالو بناتے ہیں آپس میں نہیں ملتے۔ نرم تالو میں بھی ایک خلا یا کٹاؤ ہوتا ہے۔ ایک مکمل کٹا ہوا تالو بھی ہونٹ میں خلا ہونے کا باعث بن سکتا ہے،
وجوہات:۔
کٹے تالو اور کٹے ہوئے ہونٹ کی کوئی واضح وجہ نہیں ہے، لیکن ڈاکٹروں کو شبہ ہے کہ یہ جینیاتی اور ماحولیاتی وجوہات کی بناء پر ہوتے ہیں۔
جنیات کٹے ہونٹ اور تالو میں اپنا کردار اس طرح ادا کرتے ہیں کہ والدین میں سے ایک یا دونوں میں ایسے جینز ہوتے ہیں جو کہ تالو یا ہونٹ کٹے ہونے کا باعث بنتے ہیں اس کے علاؤہ سگریٹ نوشی، شراب پینا، نشہ آور دوائیں استعمال کرنا، قبل از پیدائش ماں کی صحت کا کمزور ہونا کہ بچہ بننے کے عمل میں جو ضروری وٹامنز اور فولک ایسڈ چاہیے ہوتے ہیں اُن کا نہ ملنا۔
مسائل:۔
کٹے ہونٹ و تالو والے بچوں کو بہت سے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے، ایسا بچہ جب پیدا ہوتا ہے تو والدین کے لیے سخت امتحان شروع ہو جاتا ہے، سب سے پہلے چہرہ دیکھ کر ہی غمگین ہو جاتے ہیں، اس وجہ سے کہ” لوگ کیا کہیں گے” خوف زدہ ہو جاتے ہیں، بچے کو چھپا کر بھی رکھتے ہیں، کہیں آنے جانے سے گریز کرتے ہیں کہ لوگ بار بار پوچھیں گے دل دکھے گا۔ بچے کو دودھ پلانے میں دقت آتی ہے، والدین چمچ کے ذریعے یا کسی اور طریقے سے بچوں کو دودھ دیتے ہیں، تالو کے کٹے ہونے کی وجہ سے دودھ عموماً کان کی نالی میں چلا جاتا ہے جس سے انہیں کان کا انفیکشن ہو سکتا ہے، مسلسل انفیکشن رہنے سے ان کی سماعت بھی متاثر رہتی ہے، ایسے بچوں کے دانت بھی ٹیڑھے میڑھے ہوتے ہیں جس سے ان کی ظاہری خوبصورتی متاثر ہوتی ہے، یہ بچے صحیح طرح سے کھانا چبا نہیں سکتے اس وجہ سے ان کا نظام انہضام بھی متاثر ہوتا ہے
ایسے بچے اپنی حالت، معاشرے کا ان کے ساتھ رویہ، لوگوں کی باتیں اور نظروں سے بچنے کے لیے تنہائی میں وقت گزارنے کو ترجیح دیتے ہیں اس طرح وہ احساسِ کمتری، عدم خود اعتمادی کا شکار بن جاتے ہیں،
تالو کٹا ہونے کی وجہ سے جب بچہ بولتا ہے تو صحیح الفاظ بیان نہیں کر پاتا، دوسرے لوگوں کو ان کی بات سمجھ نہیں آتی، بچے کی ناقص گویائی پر ہنستے ہیں تو ان بچوں میں احساسِ محرومی اور بڑھ جاتی ہے۔
علاج:۔
بچے کے کٹے ہونٹ اور تالو کی نوعیت پر منحصر ہوتا ہے کہ اس کو کتنے آپریشن کی ضرورت ہے، اس کا تعین ماہر ڈاکٹر کی ٹیم کرتی ہے۔
بچہ صحت مند ہو اس کا وزن پانچ کلو ہو، اس کا ایچ۔ بی 9 سے 10 کے درمیان ہو تو 3 ماہ کی عمر میں ہونٹ کا پہلا آپریشن ہوتا ہے اور اگر ہونٹ دونوں اطراف سے کٹا ہو تو دوسرا آپریشن 6 ماہ کی عمر میں کیا جاتا ہے، جب بچہ ایک سال کا ہوتا ہے تب اس کے تالو کا آپریشن کیا جاتا ہے، اگر تالو زیادہ کھلا ہو تو ایک سے زیادہ آپریشن کی ضرورت پڑھ سکتی ہے ۔ جب بچہ بولنا شروع کرتا ہے تو اس کی اسپیچ تھراپی کا مرحلہ شروع ہو جاتا ہے، بچے کو درست الفاط کی ادائیگی کے لیے بار بار مشق کرائی جاتی ہے۔ چھ سال کی عمر میں جب اس کے پکے دانت نکلنا شروع ہوتے ہیں تب اس کے دانتوں کا علاج کیا جاتا ہے۔ جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا ہے کہ ایسے بچوں کے دانت ٹیڑھے نکلتے ہیں لہذا مختلف طریقہ علاج کے ذریعے ان کو سیدھا کیا جاتا ہے۔ پندرہ سال سے اٹھارہ سال کی عمر میں بچے کی ناک کا آپریشن کر کے اس کو درست اور خوبصورت شکل دی جاتی ہے ۔
ڈاکٹر اعجاز بشیر صاحب نے اپنے خاندان اور برطانوی کلیفٹ سرجن کی مدد سے ایک ایسا ادارہ قائم کیا جس کا نام عائشہ بشیر ہسپتال ہے،
عائشہ بشیر ہسپتال ایک ایسا مثالی ادارہ ہے جہاں ایک چھت کے نیچے کٹے ہونٹ اور تالو والے بچے کو وہ تمام سہولیات مہیا کی جاتی ہیں، جس کی بچے کو ضرورت ہوتی ہے، اس میں بچوں کے اسپیشلسٹ اس کا طبعی معائنہ کرتے ہیں، جب وہ بچے کو مکمل طور پر تندرست قرار دیں تو ماہر کلیفٹ سرجن بچے کا آپریشن کرتے ہیں، ماہر آرتھوڈنٹک بچے کے دانتوں کا علاج کرتے ہیں، ماہر اسپیچ تھراپسٹ بچے کو الفاظ کی صحیح ادائیگی کی مشق کراتے ہیں، ماہر آڈیولوجسٹ بچے کے کانوں کا معائنہ کر کے ضرورت کے مطابق علاج کرتے ہیں اور ضرورت پڑنے پر آلہ سماعت بھی لگایا جاتا ہے، ماہر نفسیات بچوں اور ان کے والدین میں موجود احساس کمتری اور احساس محرومی کو ختم کرنے میں مدد کرتے ہیں، ایک نارمل زندگی گزارنے کا احساس پیدا کرتے ہیں۔
2010 میں ڈاکٹر اعجاز بشیر نے اپنے خاندان کی ملکیت، دو ایکڑ زمین کو انسانیت کی خدمت کے لیے وقف کر کے، اس پر مثالی ادارہ تعمیر کیا جہاں دنیا بھر سے ماہر پلاسٹک سرجن اور ماہر کلیفٹ سرجن اپنی ٹیم کے ساتھ سال میں دو بار تشریف لاتے ییں۔
الحمدللہ اس ہسپتال میں بین الاقوامی معیار کی سرجری ز کی جاتیں ہیں، مستحق اور نادار افراد کو یہ سہولیات مفت فراہم کی جاتی ہیں، بچے کی پیدائش سے لے کر 18 سال کی عمر تک مختلف علاج اس کے ساتھ چلتے رہتے ہیں، نا صرف پاکستان بلکہ مختلف ممالک سے لوگ علاج کی غرض سے عائشہ بشیر ہسپتال رجوع کرتے ہیں۔ یہ ادارہ بین الاقوامی ڈاکٹرز کی ٹریننگ کا مرکز بھی بن چکا ہے۔
یہ ہسپتال اینٹوں سے نہیں، ماؤں کے آنسو، بچے کی ادھوری مسکراہٹ، اور معاشرے کے زخم خوردہ طنز سے اٹھنے والی آہوں کے اثر سے بنا ہے، ڈاکٹر اعجاز بشیر نے خواب نہیں، حسرتیں پوری کیں وہی درد، وہی خدمت جو ہمیں ایدھی میں دکھائی دیا، عبد الستار ایدھی اور ڈاکٹر اعجاز بشیر جیسے لوگ مٹی سے نہیں، محبت اور قربانی سے بنے ہوتے ہیں یہاں بھی انسانیت بولتی ہے وہاں دعائیں جیتی ہیں،۔ ان کی ذات ایک مسیحا ہے اور ان کا ہسپتال ایک چراغ، جو ان چہروں پر مسکراہٹ کی روشنی بکھیرتا ہے جنہیں دنیا اکثر نظر انداز کرتی ہے،
اللّٰہ تعالیٰ سے دعا ہے یہ ادارہ دن دگنی رات چوگنی ترقی کرے۔۔ آمین



