آج کے کالمزکالمز

زندہ ہے بھٹو زندہ ہے !

شرجیل انعام میمن

وزیر اطلاعات اور ٹرانسپورٹ ، حکومت سندھ
جب ہم یہ کہتے ہیں کہ ” زندہ ہے بھٹو زندہ ہے ” تو کچھ لوگ اپنی متعصبانہ اور تنگ نظر سوچ کی وجہ سے اس بات کا مذاق اڑاتے ہیں اور وہ اپنے اس رویے پر غور بھی نہیں کرتے۔ یہ لوگ تاریخ سے نابلد ہیں ۔ انہیں معلوم نہیں کہ انسانی سیاسی تاریخ میں بڑے بڑے رہنما پیدا ہوئے ، جو مقبولیت کی انتہا پر تھے اور جنہوں نے تاریخ کی کایا پلٹ کر دینے والے انقلابات برپا کئے لیکن تاریخ نے وقت کے ساتھ ان کے سیاسی فلسفہ کو غلط ثابت کیا اور وہ سیاسی طور پر مر چکے ہیں ۔ کیونکہ انہوں نے انتہا پسندی اور اشتعال انگیزی کو ہوا دے کر عوامی حمایت یا مقبولیت حاصل کی اور اس عوامی حمایت سے جو تبدیلی یا انتشار برپا کیا ، وہ انہی رہنماوں ، ان کی سیاسی جماعتوں اور خود عوام کے لیے تباہ کن ثابت ہوا ۔ ان رہنماوں میں دائیں اور بائیں بازو کی سیاست کرنے والے ، قوم پرست اور مذہبی سوچ کے حامل سیاست دانوں کے ساتھ ساتھ فوجی طالع آزما بھی شامل تھے ۔
تاریخ میں چند سیاسی رہنما ایسے ہیں ، جن کا سیاسی فلسفہ آج بھی زندہ اور کارگر (Relevant) ہے اور یہ کہا جاسکتا ہے کہ وہ آج بھی اپنی سیاسی سوچ اور اپچ (Approach ) کی وجہ سے مکانی اور زمانی طور پر زندہ ہیں ۔ ان میں سے ایک شہید ذوالفقار علی بھٹو بھی ہیں ۔ یہ وہ رہنما ہیں ، جنہیں تاریخ کا بہت گہرا ادراک تھا اور انہوں نے تاریخ کے تجربات کو سامنے رکھتے ہوئے اپنا سیاسی ویژن دیا ۔ شہید بھٹو کا سیاسی ویژن تین بنیادی اصولوں پر استوار ہے ۔ پہلا بنیادی اصول یہ ہے کہ اپنے ملک اور اپنی قوم کے مفادات کو خارجی سیاست میں ہمیشہ مقدم رکھا جائے ۔ دوسرا اصول یہ ہے کہ داخلی طور پر بنیادی مسائل کو حل کیا جائے اور اس کے لیے محروم اور کچلے ہوئے طبقات ، قومیتوں اور گروہوں کو ان کے حقوق دلوائے جائیں ۔ ان کے وسائل پر ان کا حق تسلیم کیا جائے ، انہیں معاشی طور پر مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ انہیں شہری آزادیوں سمیت تمام بنیادی انسانی حقوق حاصل ہوں ۔ تیسرا بنیادی اصول یہ ہے کہ مذکورہ بالا دونوں بنیادی اصولوں پر عمل پیرا ہونے کے لیے طویل اور صبر آزما جمہوری جدوجہد کا راستہ اختیار کیا جائے ، جو پر امن ہونے کے ساتھ ساتھ پائیدار بھی ہے اور مرحلہ وار پیش رفت اور فتوحات کا پیش خیمہ بھی ہے ۔
جمہوری جدوجہد کا راستہ تباہ کن مہم جوئی یا انتشار کے راستے سے بہتر ہے ۔ مہم جوئی اور انتشار کا راستہ سامراجی اور عوام دشمن قوتوں کے فائدے میں ہوتا ہے کیونکہ اس کے ذریعہ عوام سے وہ بھی چھن جاتا ہے ، جو اس نے پرامن جمہوری جدوجہد سے حاصل کیا ہوتا ہے ۔ اس لیے سامراجی اور عوام دشمن قوتیں پر امن جمہوری جدوجہد کا راستہ اختیار کرنے والوں سے ہمیشہ خوف زدہ رہتی ہیں اور انہیں اپنے قہر کا نشانہ بناتی ہیں ۔ بھٹو خاندان اور پیپلز پارٹی کے رہنماوں اور کارکنوں کی بے مثل قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں ۔ پیپلز پارٹی کی پر امن جمہوری جدوجہد اور قربانیوں کا سلسلہ آج تک جاری ہے ۔ آج اگر پاکستان میں ایک وفاقی پارلیمانی جمہوری آئین ہے ، جمہوریت ہے ، وفاقی اکائیوں اور عوام کو کچھ ملا ہے تو وہ شہید بھٹو اور ان کے سیاسی ویژن پر عمل کرنے والی پاکستان پیپلز پارٹی کی وجہ سے ملا ہے ۔ شہید بھٹو کے سیاسی ویژن کی بنیاد پر پیپلز پارٹی آج بھی عوام کی حقیقی نمائندہ جماعت کے طور پر جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہے اور ابھی تک کارکر ( Relevant ) ہے ۔ اس لیے بھٹو آج بھی زندہ ہے ۔
شہید بھٹو کے سیاسی ویژن اور فلسفے کو سمجھنا ہے تو ان کی تحریروں ، انٹرویوز اور تقریروں کا بہت گہرائی کے ساتھ مطالعہ ضروری ہے ۔ 30 نومبر 1967 ء کو پاکستان پیپلز پارٹی کے پہلے تاسیسی اجلاس میں شہید ذوالفقار علی بھٹو نے اپنی تحریر کردہ ” بنیادی دستاویزات ” پیش کیں ، جو پارٹی نے منظور کر لیں ۔ ان بنیادی دستاویزات میں یہ قرار دیا گیا کہ اسلام ہمارا دین ہے ، جمہوریت ہماری سیاست ہے ، سوشلزم ہماری معیشت اور طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں ۔ پھر ان بنیادی دستاویزات کی توضیح کے لیے شہید بھٹو نے اپریل 1968 ء میں پاکستان پیپلز پارٹی کا ایک تفصیلی پروگرام تحریر کیا ، جس میں وہ ایک جگہ لکھتے ہیں کہ ” پاکستان ایک بھنور میں پھنس گیا ہے ۔ جب ہم اپنی قومی زندگی کے گزشتہ 20 سالوں پر نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں ایک خطرناک رحجان نظر آتا ہے ، جو بین الاقوامی اور برصغیر کے مسائل سے مل کر پیدا ہوا ہے ۔ یہ سوچنا غیر معقول ہو گا کہ یہ بحران موجودہ دور کا روزمرہ کا بحران ہے یا قدرتی عمل کا نتیجہ ہے ۔ اس غالب منفی رحجان کو پلٹنا ہو گا ۔
ذوالفقار علی بھٹو شہید جیسا عالم اور مدیر سیاست دان صدیوں میں پیدا ہوتا ہے ۔ وہ حالات کو بین االاقوامی اور تاریخی تناظر میں دیکھتے تھے ۔ ان کی سوچ سطحی نہیں بلکہ گہری تھی ۔ جس زمانے میں انہوں نے پارٹی بنائی ، اس زمانے میں عالمی اشتراکی تحریک بہت مضبوط تھی اور سوشلسٹ انقلابات برپا ہو رہے تھے لیکن شہید بھٹو کی نظر مستقبل پر تھی ۔ انہیں پتہ تھا کہ اس اشتراکی تحریک کا انجام کیا ہو گا ۔ اس لیے انہوں نے ملک میں اشتراکی آمریت کا نعرہ لگانے کی بجائے جمہوریت کو اپنی سیاست قرار دیا ، جس پر بالآخر اشتراکی ( سوشلسٹ ) ممالک کو بھی آنا تھا لیکن بڑی تباہی کے بعد ۔ شہید بھٹو نے سوشلزم کو سیاست نہیں بلکہ اپنی معیشت قرار دیا ۔ بنیادی دستاویزات اور پارٹی پروگرام میں انہوں نے اس کی مدلل وضاحت کی ۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں سرمایہ داری وہ نہیں ہے ، جو یورپ اور دیگر سرمایہ دار ممالک میں ہے ۔ وہاں کی سرمایہ داری جمہوریت اور شہری آزادیوں کی حامی ہے جبکہ پاکستان میں سرمایہ داری کے نام پر صرف 22 خاندان سرمایہ لوٹ رہے ہیں اور وہ عوام کے جمہوری حقوق کے مخالف اور آمریت نواز ہیں ۔ وہ اپنے کارخانوں کو گنجائش کے مطابق نہیں چلاتے اور نہ ہی مزید صنعت کاری ہونے دیتے ہیں ۔ وہ صنعتوں کے نام پر ریاستی سرمایہ قرضوں کے نام پر ہڑپ کرتے ہیں ۔ ان کی وجہ سے محنت کشوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا نہیں ہو رہے اور ملک کی اکثریتی دیہی آبادی انتہائی غربت کا شکار ہے ۔ بنیادی دستاویزات میں نجی سرمایہ کاری کی مخالفت بھی نہیں کی گئی بلکہ یہ لکھا گیا کہ ” نجی سرکایہ کاری کی اجازت محض قابلیت ، ہر مندی اور جائز نفع رسانی کے اصولوں پر ہو گی ۔ نہ کہ بڑے خاندانوں کی سرپرستی اور نوکر شاہی کی ناجائز دھڑے بندیوں کی بناء پر ۔ نجی سرمایہ کاری اس حد تک نفع اندوز ہو سکتی ہے جبکہ محنت کش طبقہ اس کی نفع رسانی میں برابر کا شریک ہو ۔ شہید بھٹو سوشلزم کے حامی تھے لیکن ان کا کہنا تھا کہ سوشلزم محض ایک آرڈر یا آمریت سے نافذ نہیں ہوتا ۔ غیر طبقاتی او ر سوشلسٹ معاشرے کے قیام اور سرمایہ دارانہ استحصال سے بجات کے لیے انسان کو تاریخی مرحلوں سے گذرنا ہے ۔ یہ سفر عوام دوست سیاسی پروگرام کے تحت جمہوریت سے ہی طے ہو سکے گا۔
ایک اور بڑا کارنامہ شہید بھٹو کا یہ ہے کہ انہوں نے 1973 ء کے دستور کے ذریعہ پاکستان کو نہ صرف وفاقی پارلیمانی جمہوری نظام حکومت دیا بلکہ وفاقی اکائیوں کو زیادہ سے زیادہ خود مختاری دے کر ان کا احساس محرومی ختم کیا ۔ شہید بھٹو نے پاکستان کو غیر جانبدارانہ خارجہ پالیسی دی ، جس کی وضاحت انہوں نے اپنی کتاب ” آزادی موہوم ” ( Myth of Independence) میں کی ۔ وہ پاکستان کو امریکی مفادات کی بھینٹ چڑھانے کے مخالف تھے اور اسے چین کے قریب لانے کی وکالت کرتے رہے لیکن انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ چین سے تعلقات میں بھی پاکستان کے مفادات کو سامنے رکھا جائے ۔
انہوں نے یہ کہہ کر ہر بحران کا تاریخی طور پر ایک آزمودہ حل بتا دیا کہ طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں ۔ ہر بحران میں عوام سے رجوع کرنا ضروری ہے ۔ یہ بھٹو ازم ہے ۔ اس کے علاوہ کوئی اور نظریہ کارگر نہیں ہے ۔ لیکن افسوس کہ شہید بھٹو کے فلسفے اور ویژن کے برعکس کیا گیا ۔ عالمی طاقتوں کے کھیل میں پاکستان کو جھونک کر کبھی فوجی حکومتیں قائم کی گئیں اور کبھی نسلی ، لسانی ، علاقائی ، مذہبی اور نام نہاد سیاسی انتہا پسندی کو فروغ دے کر پیپلز پارٹی کے مقابلے میں کھڑا کیا گیا ۔ آج ملک پھر اسی بھنور میں پھنسا ہوا ہے ، جس کی نشاندہی شہید بھٹو نے اپنی کتاب ” اگر مجھے قتل کیا گیا ” میں کی تھی ۔ شہید بھٹو کے عدالتی قتل کے بعد شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے ملک کو بحران سے نکالنے کے لیے شہید بھٹو کے سیاسی فلسفے پر عمل کیا اور اپنی جان قربان کر دی اور اب بلاول بھٹو زرداری اس فلسفے کو لے کر آگے بڑھ رہے ہیں ۔ شہید بھٹو کے الفاظ میں بلاول بھٹو عوام کے ساتھ روابط قائم کرکے اور ان کی آرزؤوں اور تمناوں کے ساتھ اپنے آپ کو وابستہ کرکے آگے بڑھ رہے ہیں ۔ شہید بھٹو آج بھی زندہ ہیں اور رہنمائی کر رہے ہیں کیونکہ انہوں نے ایک آمر کے ہاتھوں مرنا پسند کیا ، تاریخ کے ہاتھوں نہیں ۔ ان کے سیاسی فلسفے کو تاریخ نے بھی درست ثابت کیا ہے ۔آج کے حالات میں پھر شہید بھٹو سے رجوع کرنے کی ضرورت ہے۔.0/

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button