آج کے کالمزکالمز

پروفیسر ملک غلام حبیب گجر کی یاد میں

خصوصی تحریر :راجہ نور الہی عاطف

قارئین محترم آج کا کالم ایک ایسی عظیم المرتبت ہستی کے نام ہے کہ جو اپنی ذات میں ایک انجمن تھے ۔ آپ معلم کے روپ میں روحانی باپ اور علم و ادب کے خیابان میں ایک شگفتہ پھول تھے ۔ اس عظیم ہستی کی شخصیت ہرگز کسی تعارف کی محتاج نہیں ۔ پھر بھی ایک شاگرد ہونے کے ناطے انہیں خراج تحسین پیش کرنے کی حقیر سی کوشش کر رہا ہوں ۔ جس ذی احتشام شخصیت کا تذکرہ کرنے جا رہا ہوں وہ عزت مآب، فیض انتساب جناب پروفیسر ملک غلام حبیب گجر مرحوم ہیں ۔ محترم المقام پروفیسر ملک غلام حبیب گجر نورپورتھل کی معزز گجر فیملی کے قابل فخر چشم و چراغ تھے ۔ انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم آبائی شہر نورپورتھل کے نواح میں ڈیرہ گجرانوالا پر واقع گورنمنٹ پرائمری سکول سے حاصل کی ۔ بعد میں مقامی گورنمنٹ ہائی سکول میں زیر تعلیم رہے ۔ آپ زمانہ ء طالب علمی ہی سے بہت لائق اور قابل سٹوڈنٹ تھے ۔ آپ کے والدین نے آپ کی بہت اچھی تعلیم و تربیت کی۔ نصابی اور ہم نصابی سرگرمیوں کے حوالے سے آپ ہر جماعت میں ہمیشہ نمایاں طالب علم رہے ۔ اپنی مودب اور ہردلعزیز طبیعت کی وجہ سے ہمیشہ اپنے اساتذہ کرام کے منظور نظر رہے ۔ تعلیمی عمل مکمل ہونے کے بعد آپ نے معلمی کا پیشہ اختیار کیا ۔ موصوف طویل عرصے تک بطور معلم خدمات انجام دے کر قوم کی خدمت کا فریضہ سرانجام دیتے رہے ۔ آپ نے گورنمنٹ ایلیمنٹری سکول چن ،گورنمنٹ ہائی سکول نورپورتھل، گورنمنٹ کالج بھلوال اور گورنمنٹ ڈگری کالج نورپوتھل میں تدریسی فرائض بطریق احسن سرانجام دیے ۔اللہ تعالی اکے فضل و کرم سے آپ کو اعزاز حاصل ہے کہ اپنے بہترین ادبی اور علمی رجحان کی وجہ سے اکثر سرکاری تقریبات کی نقابت کے فرائض نہایت خوش اسلوبی سے سر انجام دے کر ہمیشہ شرکائے محفل سے خوب داد و تحسین

وصول کی ۔ آپ کی علم دوستی کا اعتراف آپ کے رفقاءے کار بخوبی کرتے تھے ۔ اللہ تعالی ا نے آپ کو اردو اور فارسی زبانوں پر عبور عطا کیا تھا ۔ آپ کو اردو اور فارسی کے متعدد شعراء کا کلام ازبر تھا ۔ جب آپ کسی بھی کلاس کا اردو کاپیریڈ لیتے تھے تو نثر اور نظم کے اسباق سے متعلقہ اشعار کا ایک بہت بڑا ذخیرہ ان کی زبان پر امڈ آتا تھا اور پوری کلاس ان کے لیکچر کو نہایت انہماک سے سنتی تھی ۔ راقم الحروف کو کیونکہ ان کا شاگرد ہونے کا اعزاز حاصل ہے ۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ وہ ہمیں غزلوں اور نظموں کی تشریح کے دوران ان سے متعلقہ اتنے اشعار لکھوا دیتے تھے کہ جن کو یاد کرنے کے بعد امتحانی پرچوں میں لکھنے پر ممتحن ہمیں زیادہ سے زیادہ نمبر دینے پر مجبور ہو جاتے ۔ گرانقدر محترم المقام جناب پروفیسر ملک غلام حبیب گجر کو اللہ پاک نے دیگر متعدد خوبیاں عطا کرنے کے ساتھ ساتھ فی البدیہہ اردو فارسی اشعار کہنے کا بھی خاص ملکہ عطا کیا تھا ۔ آپ دوران گفتگو موقع محل کی مناسبت سے اشعار چست کرتے تھے ۔ ایک مرتبہ سر پروفیسر ملک غلام حبیب گجر ہمیں جماعت نہم کا اردو کا سبق پڑھا رہے تھے کہ اس دوران ان کے معزز و محترم رفیق کار استاد ذی وقار جناب پروفیسر ملک احمد خان بوڑانہ نے کلاس روم میں ْکر ان سے معذرت خواہانہ انداز میں کہا کہ گزشتہ روز ہم آپ کے گھر کے قریب سے گزر کر جب تھوڑا ْگے پہنچے تو ہم دوستوں کو خیال ّیا کہ جناب گجر صاحب کے ساتھ مختصر نشست ہو جانی چاہیے تھی ابھی ان کا اتنا ہی کہنا تھا کہ سر پروفیسر ملک غلام حبیب گجر نے انہیں جوابا” یہ شعر سنا کر خاموش کرا دیا کہ ۔

میرے پاس سے گزرے میرا حال تک نہ پوچھا

میں یہ کیسے مان جاؤں کہ وہ دور جا کے روئے

قارئین کرام !

راقم کو اپنے مربی و محسن استاد صاحب کے ایسے مختلف مواقع پر سنائے جانے والے اشعار آج بھی یاد ہیں جنہیں لکھنے کے لیے یہ ایک کالم متحمل نہیں ہو سکتا ۔ پروفیسر ملک غلام حبیب گجر کو اقبالیات سے بھی بہت لگاؤ تھا۔ ہمیں دوران سبق شاعرمشرق حضرت علامہ محمد اقبال رحمۃ اللہ علیہ کے اردو فارسی کے اشعار کے ساتھ ساتھ حافظ شیرازی اور دیگر متعدد نامور شعراء کرام کا بر موقع کلام سنایا کرتے تھے یہی وجہ ہے کہ ہماری کلاس کا اردو اور فارسی ادب کے ساتھ خاص لگاؤ پیدا ہوا اور ہم میں سے متعدد کلاس فیلوز نے ڈگری لیول تک فارسی زبان کو بھی پوری دلچسپی کے ساتھ پڑھا ۔برسبیل تذکرہ یہاں اس بات کا ذکر کرنا بھی بہت ضروری سمجھتا ہوں کہ پروفیسر ملک غلام حبیب گجر نے ساری زندگی اپنے اساتذہ کرام کا تہ دل سے احترام کیا اور کئی ایک عملی مثالیں قائم کیں۔ راقم کو ان سے قربت داری حاصل رہی جس کی خاص کر دو وجوہات ہیں ایک تو یہ کہ مجھے بذات خود ان کا شاگرد ہونے کا شرف حاصل تھا دوسرا یہ کہ تعلیم مکمل ہونے کے بعد شعبہ ء تدریس اختیار کرنے کے ساتھ محترم و مکرم سر پروفیسر ملک غلام حبیب گجر صاحب کے بچے میرے شاگرد تھے ۔ جی تو میں عرض کر رہا تھا کہ پروفیسر ملک غلام حبیب گجر نے ایک مرتبہ مجھے بتایا کہ شاید ہی میں آج اس مرتبے پر فائز ہوتا کہ اگر میرے استاد محترم ملک محمد فیروز اعوان جو ان کے ڈیرہ کے سکول میں تعینات تھے ، انہیں اپنی خصوصی شفقت اور پیار کے ساتھ نہ پڑھاتے۔ بقول پروفیسر ملک غلام حبیب گجر وہ اپنے دیگر اساتذہ کرام کے ساتھ ساتھ خصوصا” ملک محمد فیروز اعوان کی عظیم شخصیت سے اس قدر متاثر تھے کہ ہر عید کے موقع پر وہ خود اپنے استاد کے کا گھر جو محلہ جامع مسجد قاضی صاحب میں واقع تھا ، جا کر انہیں عید پر مبارکباد دیتے اور ان سے شرف ملاقات حاصل کرتے ۔ پروفیسر ملک غلام حبیب گجر کے شاگردان عزیز کی ایک بہت بڑی تعداد اس وقت مختلف شعبہ ہائے زندگی کے لیے خدمات سرانجام دے رہی ہے۔ موصوف سرکاری ملازمت سے ریٹائرمنٹ کے بعد ڈی پی ایس سکول نورپورتھل کے پرنسپل کی حیثیت سے بھی بھرپور طریقے سے فرائض منصبی سر انجام دیتے رہے۔ ان سے قبل ان کی صاحبزادی نے بھی ڈی پی ایس نورپور تھل کی پرنسپل کی حیثیت سے گرانقدر خدمت سرانجام دیں جو کہ بعد اذاں سرکاری ملازمت میں آنے کے بعد گورنمنٹ گرلز ہائی سکول نورپور تھل کی انچارج ہیڈ مسٹریس کی حیثیت سے بھرپور علمی خدمات سر انجام دیتی رہیں ۔ آخر میں اللہ تعالی ا کے حضور دعا ہے کہ اللہ تعالی ا پروفیسر ملک غکام حبیب گجر کو جنت الفردوس میں اعلی ا مقام عطا کریں اور ان کی فیملی کو ہمیشہ اپنے حفظ و امان میں رکھیں۔ آمین

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button