ہزارہ

تحریک جوانان پاکستان عوام اورمحنت کشوں کی آواز ہے۔ تمام شعبہ جات میں متحرک کردار ادا کرنے جا رہے ہیں

۔ بلدیات میں سب سے زیادہ مسائل ہیں۔ میئر کراچی کو سٹی گورنمنٹ نظام کی طرح با اختیار ہونا چاہئے۔

کراچی (ڈسٹرکٹ رپورٹر) صدر ھیومن رائیٹس و لیبر ونگ T.J.P کراچی ڈویژن صدر عزیر شاہ نے کہا ہے کہ تحریک جوانان پاکستان عوام اور محنت کشوں کی آواز ہے۔ تمام شعبہ جات میں متحرک کردار ادا کرنے جا رہے ہیں۔ بلدیات میں سب سے زیادہ مسائل ہیں۔ میئر کراچی کو سٹی گورنمنٹ نظام کی طرح با اختیار ہونا چاہئے۔ کراچی میں ڈمپرز اور ٹینکر مافیا نے ماحول کو کشیدہ کردیا ہے۔ حکومت سندھ صرف باتیں نہ کرے ایکشن بھی لے۔ انسانی المیہ جنم لے رہا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ انسانی جانوں کو بچانے کے لئے مؤثر ٹھوس اقدامات بروئے کار لائے جائیں۔ کراچی کے عوام کی جانب سے امن اور جانوں کی حفاظت کے لئے 12اپریل کو منعقد ہونے والی "وائیٹ فلیگ موومنٹ” ریلی کی ضرورت اسی لئے پیش آرہی ہے کہ بیڈ گورننس اور مافیاز کو لگام دینے کے بجائے انکی اشتعال انگیزی اور کھلی دھمکیوں کا نوٹس نہیں لیا جاتا

ڈمپرز مافیا کے سرغنہ کا ملک و عوام دشمن بیانیہ اور ہٹ دھر می کسی صورت قبول نہیں وہ کراچی کے عوام کیساتھ مسلسل انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی کا مرتکب ہورہے ہیں۔ ملک کے دگرگوں حالات میں ہر پاکستانی کو ایک قوم بن کر ملکی مفادات کا خیال رکھنا چاہئے۔ کراچی کو تختہ مشق نہ بنایا جائے۔ کراچی کے انفرا اسٹرکچر کی بہتری کی ذمہ داری میئر کراچی کی ہے۔ اگر اسکے لئے میئر کراچی کو فنڈز نہ دیئے گئے تو ملک کے معاشی حب کو کمزور کیا جائے گا۔

معاشی پہیہ چلانے کے لئے میئر کراچی کو با اختیار اور ماضی کی طرح تمام اداروں کا کنٹرول اور ایک سو ارب کی وفاق گرانٹ دے حادثات کی بڑی وجہ کراچی کی کھنڈرات نما سڑکیں بھی ہیں۔ تحریک جوانان پاکستان مطالبہ کرتی ہے کہ کراچی کو وفاق اور صوبائی حکومت زیادتیوں کے عمل سے باہر نکالے۔ کراچی میں سیاست کے بجائے کام ہونا چاہئے۔ صوبائی وزراء اور سیاسی جماعتیں جس طر ح پریس کانفرنسوں سے ایک دوسرے کی پگڑیاں اچھالتی ہیں بہتر ہوگا کراچی کے لئے اپنے قومی اور صوبائی اراکین کے فنڈز اور حکومت سندھ مخصوص علاقوں اور بڑے منصوبوں کے بجائے بنیادی مسائل حل کرے۔ پانی نایاب، سیوریج اوور فلو، صفائی کا ابتر نظام بیڈ گورننس کی بدترین مثال ہے۔ کنٹومنٹ ایریاز کا بھی یہی حال ہے۔ اسی لئے پرویز مشرف دور کا سابقہ با اختیار سٹی گورنمنٹ نظام واپس لاکر بلدیاتی اداروں کو ایک چھتری تلے لانے کی ضرورت ہے۔

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button