اپنی خوشیاں پہچانیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ !!

باپ کو اپنی خوشیاں پہچاننے کی ضرورت ہے۔ اسے یہ سمجھنے کی ضرورت ہے، کہ اس کی خوشیاں وہ نہیں ہیں جو اس کے بیوی بچوں کی خوشیاں ہیں۔ اس کی خوشی انہیں خوشیاں دینے میں ہے، ان سے خوشیاں لینے میں نہیں ہے۔ اس کی خوشی اس اطمئنان میں ہے، جو گھر آنے پر بچوں کو اپنی طرف لپکتا دیکھنے میں ہے، چاہے ہاتھ خالی ہی کیوں نہ ہوں ۔ باپ کی خوشی اپنے بیوی بچوں کی ہنسی اور مسکراہٹ میں ہے، دوسرے کمرے میں بیٹھے ان کے قہقہے سننے میں ہے۔ اگر کسی باپ کو ان باتوں میں خوشی محسوس نہیں ہوتی، تو کسی چیز میں نہیں ہو سکتی۔
آپ روٹھے ہوئے ہوں، اور آپ کے چھوٹے چھوٹے بچے آپ کو منانے آ جائیں، آپ غصے میں ہوں، اور آپ کی بیٹی اپنے ننھے ننھے ہاتھوں سے آپ کا ہاتھ پکڑ کر آپ سے چپک جائے، اور کون سی خوشیاں چاہئیں آپ کو۔
شوہروں کا یہی سکون ہے، اور باپ کا یہی صلہ ہے۔
کبھی اپنے بچوں کو سینے سے لگا کر ان کے دل کی دھڑکن محسوس کریں، کبھی ان کے بالوں کو سہلا کر دیکھیں، کبھی ان کے چھوٹے چھوٹے کپڑوں سامنے بچھائیں، آپ کو معلوم ہو خوشیاں کیا ہوتی ہیں۔ اگر آپ اپنے بچوں کے چپچپے ہاتھوں سے پیش کی ہوئی گولی ٹافی کا انکار کر سکتے ہیں، اگر آپ ان کا ہاتھ جھٹک سکتے ہیں، اور کہہ سکتے ہیں پیچھے کرو اپنے گندے ہاتھ، تو آپ کسی خوشی کے مستحق ہی نہیں ہیں۔
باپ کی خوشیاں پہچانیں۔ شوہر کی خوشیاں پہچانیں۔
وہ خوشیاں آپ کی خوشیاں نہیں ہیں، جو آپ کو شادی سے پہلے محسوس ہوتی تھیں، جب آپ نہ شوہر تھے نہ باپ۔ وہ دور پیچھے رہ گیا ہے، آپ زندگی کے نئے فیز میں آ چکے ہیں۔ اب آپ اس کنوارپنے کی خوشیوں کو آئیڈیلائز کرنا چھوڑ دیں۔ وہ نہ تو آپ کو مل سکتی ہیں، اور نہ آپ کو سکون دے سکتی ہیں۔
اگر آپ شوہر ہیں تو آپ کی خوشی اپنی بیوی کی ہنسی میں ہے، اپنی بیوی کی خوشی میں ہے۔ جس شوہر نے اپنی بیوی کو تنخواہ نہیں پکڑائی، اسے کیا پتہ شوہر کی خوشی کیا ہے۔
جسے اپنی بیوی کے ہاتھ کا پکایا کھانا یا روٹی کھا کر نیند نہیں آئی ، اسے کیا پتہ سکون کیا ہے۔
اپنی خوشیوں کو پہچانیں، اپنے اطمئنان اور سکون کو پہچانیں۔
انسان کا سکون اس کے گھر میں ہیں۔
اگر آپ اپنے گھر سے مخلص نہیں تو آپ اپنے ہی گھر میں چور ہیں۔ بھول جائیں آپ نے جو کیا بہت چھپا کر کیا، کسی کو کانوں کان خبر نہیں ہونے دی، بیوی بچوں کو پھنک نہیں پڑنے دی اپنی حرکتوں کی۔ آپ نے بہت گھاٹے کا سودا کیا ہے۔
اگر آپ حرص و ہوس کے راستے پر اطمئنان ڈھونڈ رہے ہیں، تو بیوقوف ہیں۔
اطمئنان ڈھونڈنا ہے تو اس نیند میں ڈھونڈیں، جو بیوی بچوں کے شور و غل کے درمیان آ جائے۔ سکون پانا ہے، تو اس لمحے کو روک لیں جب آپ کی بیوی آپ کے خیر خیریت سے لوٹنے کی دعائیں دے کر آپ کو صبح گھر سے رخصت کرے، اور دور تک آپ کے جانے کو دیکھتی رہے۔
زندگی کی کامیابی اس میں ہے، کہ گھر آتے ہوئے بیوی بچوں کو یاد کر کے قدم اور تیز ہوجائیں۔
اگر آپ کے آئیڈیلز یہ نہیں ہیں، تو زندگی میں لوگوں کا، یا حالات کا، یا بیوی بچوں کا گلہ شکوہ مت کریے گا۔



