تاجروں کے مسائل حل کئے بغیر ترقی کا سفر ممکن نہیں۔اسٹیٹ بنک کی شرح سود میں ایک فیصد مذید کمی اچھا عمل ہے
ڈاکٹر عشرت العباد ملک میں نا امیدی کے خاتمے اور ہوپ کی علامت ہیں۔ گڈ گورننس اور ریاست پہلے سیاست بعد میں ہوگی تو ملک معاشی استحکام کی طرف آئے گا۔ مرکزی کمیٹی ایم پی پی پی

۔ کراچی (ڈسٹرکٹ رپورٹر ) ایم پی پی کے اراکین مرکزی کمیٹی ارشد صدیقی، نہال صدیقی، عامر علی، فاروق ملک، سیف یار خان، ارشد احمد خان، محمد سہیل، آصف قدوس، محمد رضوان خان، عزیر شاہ، سید سلیم احمد نے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ تاجروں کے مسائل حل کئے بغیر ترقی کا سفر ممکن نہیں۔اسٹیٹ بنک کی شرح سود میں ایک فیصد مذید کمی اچھا عمل ہے۔ بلاول بھٹو کا کراچی کے تاجروں پر توجہ دینا خوش آئند ہے لیکن ضروری ہے کہ کراچی کا انفرا اسٹرکچر بہتر، کے الیکٹرک اور گیس کے مسائل بھی عوام اور تاجر برادری دونوں کے مسائل حل کئے جائیں۔ ڈاکٹر عشرت العباد ملک میں نا امیدی کے خاتمے اور ہوپ کی علامت ہیں۔ گڈ گورننس اور ریاست پہلے سیاست بعد میں ہوگی تو ملک معاشی استحکام کی طرف آئے گا۔پاکستان اور افواج پاکستان ہماری ریڈ لائن ہے۔ ریاست کے خلاف جو مہم سازی کرے گا وہ ملک دوست نہیں ہوسکتا۔ گڈ گورننس کی ملک کو ضرورت ہے۔ کراچی جو وفاق کو70فیصد اور صوبہ کو 90فیصد ریونیو دیتا ہے اس میں صنعت کار، تاجر، وکلاء، ہر مکتبہ فکر کے ساتھ عوام کا بھرپور شیئر ہے۔ اگر سندھ حکومت کام کرے تو کسی تاجر کے منہ سے یہ نہ نکلے کہ کسی اور کو ہمیں دے دیں۔ میئر کراچی اور واٹر کارپوریشن کے علاوہ ٹی ایم سیز درست کام نہیں کر رہیں اگر عوام کو بنیادی سہولتیں دی جائیں تو ترقی کا پہیہ اور تیزی سے چلے گا شرط یہ ہے کہ منی پاکستان کو اسکا حق دیا جائے۔ کراچی کے ماسٹر پلان پر دوبارہ کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ایم پی پی ملک بھر میں عوام کو سہولتوں کی فراہمی اور ملک میں روٹی کی یکساں قیمت اور سہولتوں کا جال بچھانے کا مطالبہ کرتی ہے اور تاجر برادری کے شانہ بشانہ ہے۔


