ہزارہ

مصنوعی ذہانت کا پلیٹ فارم انسانی عقل و شعور،فہم فراست اور حقیقی بیانیہ کا نعم البدل نہیں ہوسکتا ہے چونکہ ٹیکنالوجی کی ترقی نے انسانی وسائل اور ہنر وکمالات کو جامد ضرور کیا ہے

ممتازدانشور،عالمی تجزیہ نگار محمد عبداللہ گل چیئرمین تحریک جواناں پاکستان و آزاد کشمیر نے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت کا پلیٹ فارم انسانی عقل و شعور،فہم فراست اور حقیقی بیانیہ کا نعم البدل نہیں ہوسکتا ہے چونکہ ٹیکنالوجی کی ترقی نے انسانی وسائل اور ہنر وکمالات کو جامد ضرور کیا ہے۔لیکن صحیح معنوں میں کلی تسلیم شدہ تشخص و وقار کا اظہار ہرگز نہیں ہے۔دور جدید میں انسان کی مشینی ترقی نے نے انسانی حقوق،حق روزگاراور انسانی ذہنوں کے تخلیقی رحجانات کو کند کر رہی ہے۔میزالوں نے غزہ کو برباد کیا اور انسانی حقوق کی شدیدبد ترین پامالی کی گئی بلکہ روبوٹ سسٹم اور فیکٹریوں میں منصوعی لیبر کے ذریعے حق روز گار کو یکسر ختم کردیاہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے عالمی یوم تعلیم کے سلسلے میں اسلام آباد کریسنٹ لائینز کلب کے زیر اہتمام نیشنل کالج راولپنڈی کے اشتراک سے مصنوعی ذہانت (آرٹیفشل انٹیلی جینس)کے موضوع پر یوتھ سمٹ سے مہمان خصوصی کی حیثیت سے خطا ب کرتے ہوئے کیا۔اس موقعہ پر ممتاز بزنس مین افتخار احمد ریجن چیئرپرسن لائن ملک اظہر حسین اعوان کنٹری ہیڈ سیلز اینڈ مارکیٹنگ اینڈ گرین ریلیف پاکستان،ڈپٹی ڈائریکٹر تعلقات عامہ این ایچ اے سبطین رضا لودھی،ممتازصحافی و ماہر ابلاغیات منیر احمد اور قانون دان فہیم قریشی اور ماہر اقبالیات نعیم اکرم قریشی تھیاور محترمہ ناہید راجہ سمیت دیگر مقررین میں شامل تھے۔
مقررین نے مزید خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مصنوعی ذہانت کے پلیٹ فارم سے طلباء اور نوجوانوں کو جستجو،تحقیق اور مطالعہ کے رحجان کا یکسر خاتمہ کردیاہے۔محنت شاقہ کی کوئی قدرو منزلت کا معیار نہیں رہا ہے۔منصوعی ذہانت کے ذریعے شامل شدہ مطلوبہ نالج تصدیق کا حامل نہیں ہے۔عالمی طاقتوں کو بڑھتی ہوئی ٹیکنالوجی اور بے پناہ انسانی ترقی کی حدود و قیودکے معیار کو مقرر کرنا ہوگا۔عہد فرعون میں بھی اس وقت جدید ترقی نمایاں تھی۔بعد ازاں خدائی طاقت نے اسے عبرت کا نشان بنادیا ہے۔مقررین نے مزید کہا ہے کہ بلاشبہ ستاروں کے جہان اور بھی ہیں۔اقبال کے فرمودات نے ہمیں آگے بڑھنے کا درس دیتے ہیں،لیکن خدا او راس کے پیارے رسولﷺ کے اُسوہ پر چل کر ہم اپنی اصل شناخت اور کھویا ہوا مقام و وقار بحال کر سکتے ہیں۔ #

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button