قومی

چیف ٹریفک آفیسر لاہور میں مشتاق احمد ولد ملک محمد دین اکاونٹنٹ کی 10سال میں 50کروڑ کی کرپشن سامنے آگئی

مشتاق احمد کو فوری عہدے سے برطرف کیا جائے اور اثاثہ جات کی چھان بین کی جائے جو اس نے مختلف طریقوں بیوی بچوں اور رشتہ داروں کے نام پر بنا کر قومی خزانے کو نقصان پہنچایا ہے۔ شہری

لاہورچیف ٹریفک آفیسر لاہور دفتر کی 10سال میں 50کروڑ کی کرپشن سامنے آگئی۔ بدعنوان کرپٹ افسر کی تمام تفصیلات عوام کے سامنے لانے کے لئے جرات مندانہ اقدام کیا ہے ، تفصیلات کے مطابق مشتاق احمد ولد ملک محمد دین جو 192-Nسمن آباد کا رہائشی ہے۔ دس سال سے اکاؤنٹنٹ Accountantکی سیٹ پر براجمان ہے۔ جو تعیناتی سے ابتک پچاس کروڑ سے زائد کی کرپشن اور قومی خزانے کو نقصان پہنچا کر لگژری زندگی گزار رہا ہے۔ جسکی وجہ یہ ہے کہ وہ ہر اوپر تعینات ہونے والے افسر کا فرنٹ مین ہوتا ہے۔ اسکی کک بیکس نے قومی خزانے کو ناقابل تلافی نقصان دیا ہے۔ ڈائریکٹر جنرل اینٹی کرپشن پنجاب کو خصوصی درخواست میں عمر حیات نے جرات مند صحافی اور شہری ہونے کے ناطے حقائق سے آگاہ کیا ہے۔ جس میں بتایا گیا ہے کہ وہ جعلی بلنگ کرکے اعلی افسران سے منظوری لے کر سسٹم کے تحت بلوں کی منظوری کراتا رہاہے۔ ٹریفک وارڈنز کی فلاح و بہبود مختص فنڈز میں ہیر اپھیری اور کروڑوں کے فراڈز اعلی افسران کی ملی بھگت سے کرکے وارڈنز کا حق مارا گیا ہے۔ ٹریفک پولیس کو پٹرول کی مد میں شدید ہیر پھیر اور کرپشن، من پسند وینڈرز Vendorsکو ماروائے قانون ٹھیکے دلا کر جعلی بلنگ معمول ہے، بل بکس میں جعلی انٹریز اور شدید گڑ بڑ گٹالے کئے گئے ہیں۔ حد انتہا یہ ہے کہ ٹریفک وارڈنز کے کیش ایوارڈ انہیں دینے کے بجائے چند مخصوص افراد کو دے کر انٹریز میں زیادہ افراد کو کیش ایوارڈ دکھا کر غبن کئے گئے ہیں۔کرپشن کی بابت تبادلہ نہیں ہونے دیتا اور اوپر سے سارے سسٹم کو نواز کر کرپشن اور حقدراوں کا حق مارکر کرپشن میں اضافہ کرتے ہوئے مسلسل اسی نشست پر براجمان ہے۔ اسکے خلاف ڈی آئی جی ٹریفک لاہور کو کرپشن کیس بھیجا گیا جو اس نے اپنے سسٹم کے ساتھیوں کے ساتھ ملکر دبا لیا۔ اس سلسلے میں ایک اور درخواست گزار احمد سیف اللہ کھٹانہ ایڈووکیٹ پنجاب ہائی کورٹ کے توسط سے بھی درخواست بھیجی ہے اور مطالبہ کیا ہے، ڈی جی اینٹی کرپشن، تمام اعلی سطحی افسران ان تمام معاملات دوران تعیناتی ریکارڈ اور تمام جملہ ریکارڈ ضبط کرکے کاروائی عمل میں لائیں۔ مشتاق احمد کو فوری عہدے سے برطرف کیا جائے اور اثاثہ جات کی چھان بین کی جائے جو اس نے مختلف طریقوں بیوی بچوں اور رشتہ داروں کے نام پر بنا کر قومی خزانے کو نقصان پہنچایا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button