کالمز

تین مختلف سروے۔۔سیاست میں تبدیلی۔ سندھ میں شہری علاقوں کی سیاست۔۔کراچی میں عشرت العباد 1.7kکے ساتھ پہلے نمبر پر۔لاہور اور اسلام آباد کے سروے میں بھی عشرت العباد۔۔پاکستان میں کیا سیاسی منظر نامہ میں نئی جماعتیں اہم کردار ادا کریں گی۔۔۔۔۔۔۔سیاسی بت گرنے کی میڈیا رپورٹس۔۔۔۔؟ملک میں اہم تبدیلی کے اشارے

محمد رضوان خان

پاکستان میں مزاکرات کی ٹیبل دو مرتبہ سج کر بھی بے نتیجہ رہی۔ جس میں اپوزیشن اور حکومتی اتحادی دونوں بیٹھ رہے ہیں۔ لیکن دونوں جانب سے ابتک صرف باتیں ہوئی ہیں۔ پی ٹی آئی کے کے پی کے وزیر اعلی بھی جو جزباتیت کے بادشاہ ہیں۔ اجلاس میں مطمئن نہیں۔ جبکہ سول نا فرمانی کی کال بھی برقرار ہے۔ جبکہ جب کالم شائع ہوگا تو پیر کو عدالت سے فیصلہ آچکا ہوگا۔ عمران خان کو القادریہ ٹرسٹ میں سزا ہوتی ہے یا کچھ اور سامنے آچکا ہوگا۔ جبکہ مزاکرات اگر بے نتیجہ رہے تو بھی معاملہ غیر یقینی پر جائے گا۔ جبکہ افواج پاکستان کی عدالتوں نے 19پی ٹی آئی ورکرز کو Mercy Appealپر رہا کردیا تھا لیکن انہوں نے رہا ہوتے ہی چرب زبانی اور عمران خان سمیت جزباتی نعرے لگائے۔ انکی باڈی لینگویج نے 9مئی کے واقعات پر انکے اقرار سے اور وزیر اعلی کے پی کے کے ڈنر دینے سے مہر ثبت ہوگئی ہے کہ یہ واقعات جو ریاست کے خلاف بغاوت سے کم نہیں تھے۔ اسکا دفاع کرنے والے لیڈرز اور اینکرز سمیت مختلف حلقے بالخصوص پی ٹی آئی قیادت کے پاس اب کوئی جواب نہیں۔ دوسری جانب پیپلز پارٹی وزارت عظمی کے لئے بیان بازی کر رہی ہے جس میں نبیل گبول، گورنر پنجاب پیش پیش ہیں۔ صدر زرداری کا رویہ مناسب لیکن چیئرمین بلاول بھٹو کا رویہ الیکشن ہونے سے آج تک جارحانہ ہے۔ تمام آئینہ عہدے، صدارت، دو صوبوں کی حکومت کے باوجود انکا کردار 22اگست 2016والی ایم کیو ایم کی طرح اقتدار اور اپوزیشن دونوں کے مزے لے رہے ہیں۔نواز شریف کو حکومت سے دور رکھنے میں بھی پیپلز پارٹی کا کردار ہے۔ اگر پی ٹی آئی پیپلز پارٹی کی پیشکش نہ ٹھکراتی تو ن لیگ کے ساتھ حکومت نہیں بنتی۔ یہ سب جمہوریت بچانے کے لئے نہیں ہوا بلکہ اگر الیکشن دوبارہ ہوتے تو فارم 47نہ چل پاتا۔ کراچی بھی سازش اور حالات پیدا کرکے ایم کیو ایم سے چھن گیا۔ فارم 45والی جماعت اسلامی کو غیر جمہوری طریقے سے میئر شپ اور مختلف ٹاؤنز سے محروم کردیا گیا۔ ایم کیو ایم بھاری قومی و صوبائی اسمبلی کی نشستیں لے کر بھی عوام میں ڈیلیور نہ کرنے اور کراچی کے معاملے میں مجرمانہ غفلت کے مرتکب اور الیکشن کے لئے معاہدے کے تحت بلدیاتی اختیارات لینے میں بھی ناکام رہے۔ 27ویں ترمیم کا چورن بیچ کر انہیں سائیڈ لائن کردیا گیا۔ پیپلز پارٹی کے ہوتے ہوئے یہ ہو بھی نہیں سکتا۔ سیاست دانوں کے منافقانہ اور اقتدار کے لالچ، مراعات نے عوام کو بد ظن کردیا۔ ن لیگ چھوڑ کر شاہد خاقان عباسی اور مفتاح اسماعیل، استحکام پاکستان پارٹی،پی ٹی آئی چھوڑنے والے اور نئی جماعتوں کو بھی کامیابی نہیں مل سکی، استحکام پاکستان پارٹی علیم خان اور انکے ساتھیوں کے ساتھ وفاق اور پنجاب تک محدود رہ گئی۔ محمود مولوی نے استحکام پاکستان پارٹی چھوڑ دی۔
لیکن حیرت انگیز بات ہے کہ چھ ماہ پہلے سابق گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان جو خبروں کی زینت تو بنتے رہتے تھے لیکن انہوں نے باقاعدہ پاکستان میں کام شروع کردیا۔ شروع میں انہیں پزیرائی نہیں ملی۔ لوگوں اور سیاسی پنڈتوں کا خیال تھا کہ وہ بھی نئی جماعتوں کی طرح جھاگ کی طرح بیٹھ جائیں گے۔ نو مئی کے واقعات کے بعد سے وہ خاصے متحرک تھے۔ کیونکہ انکی سوچ پاکستان اور ریاست کے لئے تھی۔ انہوں نے پاکستان میں رابطے کئے اور کچھوے کی چال سے کام شروع ہوگیا۔ چھ ماہ پہلے ڈاکٹر عشرت العباد نے سوشل میڈیا کے زریعے افواج پاکستان اور پاکستان مخالف پروپیگنڈے پر سخت تشویش کے ساتھ میری پہچان پاکستان کے سلوگن کے ساتھ پاکستان سے باہر بیٹھ کر ریاست پہلے سیاست بعد میں، پاکستان ہے تو ہم ہیں۔ نئی سوچ کے ساتھ ورکنگ شروع کی۔میڈیا پر بھی آگئے۔ انہیں سیاسی پنڈتوں نے سیریز نہیں لیا۔ لیکن انکی ورکنگ مثالی تھی۔ وہ معتدل مزاج سینئر سیاست داں ہیں جنکی سوچ میں وطن پرستی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔ انکے والد نے بھی قیام پاکستان کے وقت اسٹیٹ بنک کے حوالے سے کلیدی کردار ادا کیا۔ انکی سرگرمیاں پورے پاکستان میں جاری تھیں جبکہ انہیں لسانی جماعت کی سوچ کے ساتھ نظر انداز کردیا گیا۔ حیرت جب ہوئی جب کراچی میں ایک پول میں انہوں نے پہلا نمبر حاصل کیا۔ تب سیاسی پنڈت حیران ہونا شروع ہوگئے۔میڈیا پر انکی آمد اور انکے خیالات کو پہلے تو اہمیت نہیں دی گئی لیکن انکی کراچی سے کشمیر تک سب جگہ میری پہچان پاکستان کے دفتر اور پروگرام

 

(2)
شروع ہوگئے۔ کراچی میں انکے بڑے پروگرام روکنے کی کوششیں بھی ہوئیں۔ لیکن ڈاکٹر عشرت العباد نے پنجاب اور کراچی کے سروے میں حیران کن مقبولیت حاصل کرلی اور اسوقت ملک میں انکی اہمیت مسلسل بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے اسلام آباد، مانسہرہ میں خطاب کئے، کنونشن کئے۔ جبکہ لانڈھی، کورنگی، سرجانی میں پروگرام کئے۔ جبکہ کراچی میں کوئی علاقہ ایسا نہیں جہاں انکی انٹری نہ ہو۔ وہ فروری میں آنے کا بھی اعلان کرچکے ہیں۔ میڈیا رپورٹس میں یہ بات بھی سامنے آچکی ہے کہ عشرت العباد کراچی کے حالیہ چینل کے پول میں اہم مقام اور 1.7Kووٹ لے کر کراچی کے عملی بادشاہ ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق سٹی 021نیوز کے الیکشن پول 2024نے کراچی کی سیاست کا منظر نامہ ہی بدل دیا ہے۔ ببدلتی ہوئی صورتحال کی عکاسی پول میں نظر آگئی۔ جو دلچسپ اور آئینے کی حیثیت رکھتی ہے۔ نتائج سیاسی مسخروں کے لئے عبرت ناک اور سبق آموز ہیں۔ان نتائج کا تفصیلی جائزہ پیش خدمت ہے۔ شکست خوردہ سیاسی افراد کے لئے تازیانہ عبرت ہے۔ نتائج کے مطابق پہلے نمبر پر تحریک لبیک پاکستان (TLP) کے حافظ سعد رضوی نے 7.5ہزار ووٹ حاصل کئے۔پچھلے انتخابات میں TLPنے کبھی کوئی نشست نہیں جیتی جو اس بات کا ثبوت ہے کہ انکا ووٹ بنک ابھی تک منتشر ہے۔ بانی ایم کیو ایم نے 2.2ہزار ووٹ حاصل کئے۔ جس سے ابتک انکا سحر نہ ٹوٹنے کا عندیہ ملتا ہے۔ حیرت انگیز نتیجہ میں ڈاکٹر عشرت العباد نے 1.7ہزار ووٹ لے کر تیسری پوزیشن حاصل کرلی۔ جبکہ انہیں صرف چھ ماہ سیاست میں متحرک ہوئے ہیں۔ اتنے کم وقت مقبولیت حاصل ہونے پر ڈاکٹر عشرت العباد ایک طاقتور سیاسی رہنما کے طور پر سامنے آئے ہیں۔جبکہ انہوں نے ابھی میری پہچان پاکستان کے نام سے کام شروع کیا ہے اور وطن میں موجود نہیں ہیں۔ پچھلے سروے میں عشرت العباد پہلے نمبر پر آئے تھے، جبکہ پورے سال کے سروے میں انکی پوزیشن تیسری آئی ہے۔ جماعت اسلامی نے چوتھی پوزیشن حاصل کی ہے۔ جماعت اسلامی نے 1.4ہزار ووٹ حاصل کئے۔ جماعت اسلامی ایک منظم جماعت ہے حافظ نعیم الرحمان نے کراچی کا امیر بننے کے بعد جماعت اسلامی میں نئی جان ڈالی۔ اصل حقیقت جو سامنے آئی ہے وہ یہ ہے کہ ایم کیو ایم پاکستان نے ان نتائج میں جو ووٹ لئے وہ انہیں کراچی کا اسٹیک ہولڈر بھی ثابت نہیں کر رہے بڑے بڑے دعوی کرنے والے مصطفی کمال صرف (381)ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی (58) ووٹ، ڈاکٹر فاروق ستار (32) ووٹ، کامران ٹیسوری موجودہ گورنر سندھ کو (162) ووٹ حاصل کئے ہیں جو لمحہ فکریہ ہے۔ جس جماعت کے بڑی تعداد میں قومی اسمبلی، سندھ اسمبلی میں اراکین ہوں۔اسکے باوجود اسکے رہنماؤں کی کراچی کے عوام نے جو درگت بنائی ہے اس سے انکی عوامی حمایت نہ ہونے کا پول کھل گیا ہے۔ عوامی، سماجی اور سیاسی حلقوں نے انکی سیاست پر سوالات اٹھا دیئے ہیں۔دوسرا حیرت انگیز امر یہ ہے کہ میئر کراچی مرتضی وہاب جو پیپلز پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں صرف (262) ووٹ لے کر سوالیہ نشان اور انکا مینڈیٹ بھی واضع ہوگیا ہے۔ اس پول کے بعد میئر کراچی فادر آف سٹی کیسے کہلا سکتے ہیں۔انکے میئر بننے کے طریقہ کار اور جماعت اسلامی کے قبضہ میئر کا دعوی بھی جان پکڑ گیا ہے۔ پی ٹی آئی کا چہرہ بھی سامنے آگیا حلیم عادل شیخ کو صرف (142) ووٹ ملے۔ جس سے حقیقت حال سامنے آگئی۔ مہاجر قومی موومنٹ (حقیقی) کے چیئرمین آفاق احمد بھی بری طرح رد ہوئے ہیں۔انہیں (86) ووٹ ملے۔ بری طرح رد کئے جانے کے بعد انکی 30سالہ سیاست بھی سوالیہ نشان اور عوام کی جانب سے مکمل رد کرنے کے مترادف ہے۔ پول سے یہ بھی واضع ہوا ہے کہ ڈاکٹر خالد مقبول اور ڈاکٹر فاروق ستار کو عوام نے سیاست سے ریٹائرڈ کردیا ہے۔انہیں مذید سیاست کرنے کے بجائے سیاست سے مکمل الگ ہونے کا خاموش پیغام عوام نے دے دیا ہے۔ کراچی کی سیاست کا حیرت انگیز امر جو سامنے آیا ہے۔وہ یہ ہے کہ پاکستان سے باہر دو سیاسی رہنماؤں بانی ایم کیو ایم اور ڈاکٹر عشرت العباد خان کے درمیان مقابلے کی صورتحال سامنے آیا ہے۔ جبکہ دیگر رہنماؤں کی قلعی کھل گئی ہے۔موجودہ صورتحال میں عوام نے کراچی کی سیاست کے لئے جو پیغام دیا ہے۔ اب فیصلہ ساز قوتوں کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔ اس سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ جب حمایت غیر مقبول افراد کی جائے تو عوام کی انہیں تائید حاصل نہ ہونے کی وجہ سے وہ غیر مقبول افراد عوام کے غصے کا شکار تو ہوسکتے ہیں کیونکہ عوام کی بہتر منصف ہوتے ہیں مصنوعی قیادتیں اور میئر ہوں یا لیڈر عوام انکی حمایت نہیں کرتے اور یہ افراد عوام کی منشاء کے مطابق کام بھی نہیں کرتے۔کراچی کی سیاست میں مد مقابل وہی ہیں جنہیں عوام پسند کرتے ہیں۔ ڈاکٹر عشرت العباد نے جس تیزی سے ملکی سیاست میں جگہ بنائی ہے اور کراچی میں اپنی مقبولیت Intactرکھی ہے۔اس لئے اب فیصلہ سازوں کو ملکی سیاست سے مصنوعی سیاست دانوں کے بجائے کراچی سمیت ملک بھر میں مقبولیت حاصل کرنے والے پہلے رہنما ڈاکٹر عشرت العباد پر حیرت کے بجائے یہ سوچنا ہوگا کہ ملک سے باہر رہ کر بھی سیاسی کایا پلٹی جا سکتی ہے۔ اس لئے انہیں اس پول کی اہمیت اور سروے کو عوامی نوشتہ دیوار سمجھ کر فیصلے لینے ہوں گے۔ دوسری جانب پنجاب میں سروے میں بھی عشرت العباد نے اہم پوزیشن لی۔ مانسہرہ، اسلام آباد، کشمیر، راولپنڈی، لاہور میں بھی انہیں قابل ذکر اور زبردست رسپانس ملا ہے۔ ملک میں اہم تبدیلی کے اشارے مل رہے ہیں۔ عوام سیاسی بازیگروں سے بیزار ہیں۔ سروے بھی تبدیلی کے اشارے دے رہے ہیں۔ آنے والے وقت میں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ نئی سوچ اور نئی جماعتیں عوام کی امیدوں کا مرکز ہیں اور سرپرائزز آسکتے ہیں۔ ان امور میں کتنی حقیقت رہتی ہے یہ آنے والا وقت ثابت کرے گا۔ عوام کی سوچ کا سروے میں اظہار خطرناک سیاسی تبدیلیوں کے رحجانات کی نشاندہی کر رہی ہے۔

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button