قومی

ملک کا بحران وطن پرستی کے جزبوں اور سیاست کے بجائے ریاست سے محبت کرنے سے ختم ہوگا

ڈاکٹر عشرت العباد کے فکر و فلسفے اور ملک ہی میں رہ کر ملک کی مصنوعات کو چلانے اپنی صلاحیتوں کے جوہر سے آئی ٹی میں دنیا میں بہتر پرفارم کرنے کا بھی پیغام دیا ہے

کراچی (ڈسٹرکٹ رپورٹرز) میری پہچان پاکستان کے رہنماؤں نے اسلام آباد، لاہور، گوجرانوالہ، کراچی کے متعدد علاقوں میں مختلف نئے اوربپرانے ورکرز کے ہمراہ منعقدہ اجلاسوں میں کہا ہے کہ ملک کا بحران وطن پرستی کے جزبوں اور سیاست کے بجائے ریاست سے محبت کرنے سے ختم ہوگا۔ جو سیاسی پنڈت ملک میں نئے بحران لانا چاہتے ہیں۔ اپنی سیاست کو وطن پرستی سے جوڑ کر ملک میں امن و محبت کا پیغام دیں۔ ڈاکٹر عشرت العباد خان ملک کے لئے سوچتے ہیں۔ اانہیں نشان امتیاز اور بین الاقوامی ہیومن رائٹس نے امن ایوارڈ کے لئے سامنے لا کر انکی مثبت سوچ پر مہر لگائی۔ وہ قوم کی جانب سے آمد سے پہلے بڑی محب وطن قوت بننے اور ملک میں انتشار کی جگہ محبت کے پھول بکھیر رہے ہیں نہ کوئی سیاسی لالچ میں ہم سے جڑ رہا ہے اور نہ ہم کسی بھی قسم کی لسانی سیاست پر یقین رکھتے ہیں اب ملک میں ٹیلنٹ کی قدر ترجیح ہونی چاہئے۔ پاکستان میں ادارے اہمیت منوائیں۔ ہم فوج کی لازوال قربانیوں کی قدر اور انہیں سلام عقیدت پیش کرتے ہیں۔ میری پہچان پاکستان کے نعرے نے عوام اور فوج کو سوشل میڈیا سے لڑانے اور نفرت پیدا کرنے کی کوششوں کو عوام کے سامنے پیش کردیا ہے نوجوان جو ملک سے جانے کے خواہاں تھے۔ اب ڈاکٹر عشرت العباد کے فکر و فلسفے اور ملک ہی میں رہ کر ملک کی مصنوعات کو چلانے اپنی صلاحیتوں کے جوہر سے آئی ٹی میں دنیا میں بہتر پرفارم کرنے کا بھی پیغام دیا ہے۔ پورا پاکستان قولی لیڈر کا منتظر ہے۔ پاکستان کا امیج بنے گا تو وسائل بھی آئیں گے۔ ڈاکٹر صاحب نے اپنے دور میں بھی ترقی کا پہیہ نجی شعبے کے ساتھ ملکر چلایا اور انکے آنے کے بعد نجی صنعتیں۔ بند کاٹیج انڈسٹریز، نوجوانوں کے لئے روزگار اور انہیں فنی ٹریننگ سے مضبوط بھی کریں گے۔ سوشل فورم کی طرح کام کر رہے ہیں ریاست مضبوط ہوگی تو سیاست ہوگی۔ عوام کو مایوسی سے نکالنے کی ضرورت ہے۔متعدد این جی اوز اور مخٹلف جماعتوں کے رہنماؤں اور اراکین نے شمولیت کا اعلان کیا۔ واضع رہے کہ پہلی آرگنائزیشن ہے جو عوام کے دلوں میں جگہ بنا چکی ہے۔ ڈاکٹر عشرت العباد کی مثبت پالیسیاں اور انکی عمل داری کے لئے عوام حکومتوں کو بھی اسی ڈیزائن پر چلانے اور جوڑ توڑ کے بجائے ریاست کو اہمیت دے تو ملک مستحکم ہوگا۔

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button