(ڈپٹی سيکرٹری اطلاعات پاکستان پيپلز پارٹی کراچي ڈويزن

جب بھی مورخ یا پاکستان کی سیاسی تاریخ لکھے گا تو پاکستان پیپلز پارٹی اور شہید ذوالفقار علی بھٹو کا نام اس میں سنہری حروف میں لکھے گا، کیونکہ پاکستان پیپلز پارٹی اور شہید بھٹو کے بغیر پاکستان مکمل اور ادھورا ہوگا۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے جب ایک آمر جنرل کے خلاف بغاوت کرتے ہوئے پاکستان کو اُس وقت کے طاقتور خاندانوں سے چھڑانے کے لئے اور ملک کے پسے ہوئے طبقے، مزدور اور کسانوں کو ان کے غصب شدہ حقوق دلانے کے لئے ایک ایسی سیاسی جماعت بنانے کا فیصلہ کیا جو صحیح معنوں میں ان کی نمائندگی کرتی ہو تو شہید ذوالفقار علی بھٹو نے پورے پاکستان میں ہر شہر کے دورے شروع کئے، وہ ملک کے چھوٹے چھوٹے گاؤں گھومے اور پورے ملک سے انہوں نے ھیرے موتی کی مانند ایسے قیمتی کارکن جمع کرنا شروع کئے

جن میں پاکستان اور اُس میں بسنے والی عوام کی خدمت کا جذبہ ہو، رنگ و نسل، ذات پات اور علاقائی یا نسلی سوچ سے بالاتر ہو کر خدمت کا جذبہ ہو۔ اور جب شہید ذوالفقار علی بھٹو صاحب نے پورے ملک سے ایسے کارکنان جمع کر لئے تو پھر ۳۰ نومبر ۱۹۶۷ کو لاہور میں ڈاکٹر مبشر حسن کی رہائش گاہ پر ایک سیاسی جماعت بنانے کا اعلان کیا جس کا نام پاکستان پیپلز پارٹی رکھا گیا۔ اور شہید ذوالفقار علی بھٹو اس جماعت کے پہلے چیئرمین بنے اور اے۔ رحیم کو سیکرٹری جنرل منتخب کیا گیا۔
اس جماعت کا پہلا اجلاس ڈاکٹر مبشر حسن (جو کہ بعد میں پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں ملک کے وزیر فرانہ بھی بنے) کی رہائش گاہ پر منعقد ہوا، جس میں پاکستان پیپلز پارٹی کے پیار ہنما اصول طے پائے کہ اسلام ہمارا دین ہے۔ سوشلزم ہماری معیشت ہے۔ طاقت کا سر چشمہ عوام ہے۔ جمہوریت ہماری سیاست ہے۔ جبکہ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو صاحبہ نے ذوالفقار علی بھٹو صاحب کی شہادت کے بعد ان بہار رہنما اصولوں میں ایک اضافہ کیا کہ شہادت ہماری منزل ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے اپنی بنیاد ہی سے مزدوروں، کسانوں، طالب علموں فرض معاشرے کے ہر فرد کی آواز بن کر ابھری اور ایسی طاقت بنی جس نے اس ملک کے بڑے بڑے میروں، پیروں اور جاگیر داروں کی ایک عام مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والے کارکنوں سے ضمانتیں ضبط کروادیں اور کراچی سے لیکر خیبر تک کارکنان کی ایک بڑی تعداد تکمیلی تک جا پہنچی۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے ملک کو ۳ – ۱۹ کا متفقہ آئین دیا، پاکستان پیپلز پارٹی نے پہلی اسلامی سربراہی کانفرنس کا انعقاد کیا جس میں اسلامی دنیا کے تمام سربراہان نے شرکت کی۔ وہ شہید ذوالفقار علی بھٹوھئ تھے جنہوں نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی بنیاد ڈالی اور ان کی جنگ کے بعد ۹۰ ہزار قیدی اور ۵۰۰۰ مربعہ میل رقبہ جو کہ بھارت کے قبضے میں تھا اسے شملہ معاہدے کے تحت آزاد کروایا اور جنگ کے بعد ایک بار قوم کو یکجا کر کے نیا جذبہ دیا اور ایک نئے تیزی سے ابھرتے ہوئے پاکستان کی بنیاد ڈالی۔ پاکستان اسٹیل مل، پورٹ قاسم اور بیرونی انڈسٹریز ٹیکسلا شروع کیں، اور پوری دنیا خاص کر خلیجی ریاستوں میں روزگار کے مواقع خوشحالی کے ایک نئے باب کی صدا ہے۔ تھے اور سب سے بڑھ کر قادیانیوں کو سرکاری سطح پر کافر قرار دلوانا کسی طور بھی آسان نہ تھا۔ یہ سب کام پاکستان پیپلز پارٹی نے اپنے پہلے اور حکومت میں انجام دیئے اور پاکستان کو ترقی یافتہ ممالک کی صف میں لاکھڑا کیا۔
ایسے میں ۱۲ جولائی سے ۱۹ میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت کا تختہ ایک آمر جنرل ضیاء نے اکتا دیا اور ملک میں مارشل لاء نافذ کر دیا اور شہید ذوالفقار علی بھٹو صاحب کو ایک جھوٹے مقدمے میں گرفتار کر لیا گیا اور آگے جا کر پاکستان کی تاریخ کی ایک کالی رات میں شہید ذوالفقار علی بھٹو کا عدالتی قتل کیا گیا۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو صاحب کی گرفتاری کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت اصولی طور پر پارٹی کے سینئر وائس چیئر مین شیخ رشید احمد صاحب کو سنبھالنی چاہیے تھی لیکن انہوں نے پارٹی کے بہتر مفاد کی خاطر بھٹو صاحب کو اس بات پر راضی کیا کہ اگر پارٹی کو منتظم رکھنے کے لئے بیگم نصرت بھٹو صاحبہ کو پارٹی کا سربراہ بنایا جائے جسے بھٹو صاحب نے مان لیا۔ جنرل ضیاءالحق کے بدترین مارشل لاء میں جب شہید ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دی گئی اور اس کے بعد پورے ملک میں جب ہر قسم کے انسانی حقوق کی پامالی ہوئی اور عوام کی شخصی آزادی اور ان کے ہر طرح کے حقوق کو سلب کردیا گیا تو اس وقت پاکستان پیپلز پارٹی بیگم نصرت بھٹو صاحبہ اور کم عمر محترمہ بے نظیر بھٹو کی قیادت میں اس ملک کو مارشل لاء کے اندھیروں سے نکالنے کے لئے سرگرم ہوئی اور ایک سخت اور خویل جدو جہد کی، جس کی پاداش میں انہیں کئی مرتبہ جیل بھی جانا پڑا لیکن پاکستان پیپلز پارٹی کے جیالے کسی صورت بھی آمریت کے خلاف جمہوری جدوجہد سے پیچھے بنے کو تیار نہ تھے، پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکنان نے پھانسی کے پھندوں کو چو مار کوڑے برداشت کئے جھیلیں گائیں فرض یہ کہ پاکستان کی تاریخ کے بدترین آمر کے ہاتھوں بدترین اذیت و تشدد کا سامنا جوانمردی سے کیا لیکن پھر بھی وہ زندہ ہے بھٹو زندہ ہے اور چنے بھنو کے نعروں سے پیچھے نہ بنے اور آخر کار آمریت کا خاتمہ کر کے ہی دم نیا، ۱۹۸۸ میں بے نظیر بھٹو صاحبہ نے پہلی خاتون وزیر اعظم بننے کا اعزاز حاصل کیا اور ملک میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت قائم ہوئی۔ شہید محترمہ کی حکومت آنے کے بعد پاکستانی عوام اور مزدوروں کے نصب شدہ حقوق کی بھائی کا عمل شروع ہی ہوا تھا کہ ایک دفعہ پھر سے جمہوری حکومت کے خلاف سازشیں روع ہو گئیں اور شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی پہلی منتخب حکومت کو پانچ سال پورے کرنے کے بجائے صرف ۱۸ ماد میں گھر بھیج دیا گیا اور یہی سلسلہ ۱۹۹۳ میں قائم ہونے والی دوسری حکومت کے ساتھ بھی پیش آیا، دوسری مرتبہ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو صاحبہ کی حکومت کا ہونے ۳ سال میں خاتمہ کردیا گیا۔
اس پورے عرصے میں محترمہ بے نظیر بھٹو صاحبہ اپنی شہادت تک پاکستان پیپلز پارٹی اور اپنے جاتار کارکنان کے ہمراہ اس ملک کے غریب مزدور، کسان، طالب علم، خواتین کے حقوق اور خاص کر اپنے پیارے ملک پاکستان کی ترقی و خوشحالی کے لئے سرگرم عمل رہیں اور اپنے جان کو قربان کردی۔
نمبر ۲۰۰ بی بی شہید کی شہادت کے بعد جب ملک بھر میں اور خاص کر صوبہ سندھ میں علیحدگی کے اور ملک کو دو لخت کرنے کے نعرے لگ رہے تھے تو ایسے موقعے پر پاکستان پیپلز پارٹی کی سربراہی کرتے ہوئے محترم آصف علی زرداری نے ان نعروں کو یک دم مسترد کرتے ہوئے پاکستان کے کانٹروینگا کر وفاق پاکستان کا مسلم بند کیا اور اپنے فرزند اور شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے لخت جگر بلاول بھٹو زرداری کو پاکستان پیپلز پارٹی کا چیئر مین نامزد کر دیا۔
چیئر مین بلاول بھٹو زرداری نے اپنی عظیم اور شہید ماں کی طرح کم عمری میں پارٹی کی قیادت سنبھالی اور اپنی عظیم ماں کے جانثاروں اور پارٹی کے سینئر رہنماؤں کے ساتھ مل کر السید محترمہ بے نظیر بھٹو کے وژن کے مطابق، ملک کی سلامتی و ترقی کے لئے جدوجہد کر رہے ہیں اور پاکستان پیپلز پارٹی روز اول کی طرح آج پارٹی کے ۵۰ سال پورے ہونے کے بعد بھی قریب محکوم عوام کی نمائندہ جماعت ہے۔



