آج کے کالمزکالمز

پاکستان بیلاروس تعلقات: ایک مضبوط پارٹنرشپ

ڈاکٹرندیم رانجھا

25 سے 27 نومبر 2024 تک بیلاروس کے صدر الیگزینڈر لوکاشینکو نے وزیراعظم محمد شہباز شریف کی دعوت پر پاکستان کا دورہ کیا۔ یہ دورہ، دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کی 30ویں سالگرہ کے موقع پر، ان کی بڑھتی ہوئی شراکت داری میں ایک اہم قدم ہے۔ رہنماؤں نے دو طرفہ تعلقات کا جائزہ لیا، بین الاقوامی سیاست، تجارت، معیشت، سائنس، ٹیکنالوجی، تعلیم اور ثقافت میں تعاون کو وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔

تین دہائیوں کے دوران، پاکستان اور بیلاروس کے درمیان ایک مضبوط شراکت داری کو فروغ ملتا رہا ہے، جو ایک جامع اور وسیع البنیاد تعلقات کی طرف بڑھ رہی ہے۔ بیلاروس کی شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) میں مکمل رکنیت ملنے کو بھی سراہا گیا، جس میں دونوں فریقوں نے علاقائی تعاون اور اقتصادی ترقی کو بڑھانے کے لیے SCO کے فریم ورک کے اندر رہتے ہوئے تعاون کو مضبوط بنانے کا عہد کیا۔

دونوں ممالک نے دوطرفہ تجارت کو بڑھانے اور حائل رکاوٹوں کو کم کرنے پر اتفاق کرتے ہوئے اقتصادی تعاون پر توجہ مرکوز کی۔ ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (TDAP) اور بیلاروسی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (BelCCI) کے زیر اہتمام بیلاروس-پاکستان بزنس فورم نے 30 سے زائد بیلاروسی اور تقریباً 100 پاکستانی کمپنیوں کو اکٹھا کیا۔ اس ایونٹ نے کاروباری روابط کو فروغ دیا اور تجارتی شراکت داری کے نئے مواقع پیدا کئے۔

پاکستان کی نیشنل لاجسٹک کارپوریشن (NLC) اور بیلاروس کی Beltamozhservice کے درمیان ایک MOU پر دستخط کا مقصد سمندری اور زمینی تجارتی راستوں کو ہموار کرنا، لاگت کو کم کرنا اور کارکردگی کو بہتر بنانا ہے۔ دونوں ممالک نے تجارتی رکاوٹوں کو دور کرنے اور مارکیٹ تک رسائی کو بڑھانے کے لیے سیمینارز اور ورکشاپس کے انعقاد پر بھی اتفاق کیا۔
بیلاروس کی زرعی مشینری میں مہارت کو سٹریٹجک اہمیت حاصل ہے ۔ دونوں فریقوں نے پاکستان کی ضروریات کے مطابق ہائی ٹیک مشینری تیار کرنے کے لیے مشترکہ منصوبے قائم کرنے پر اتفاق کیا۔ پاکستان میں بیلاروسی مشینری کی فروخت اور سروسنگ نیٹ ورک کو وسعت دینے کی کوششوں کے ساتھ ساتھ زرعی مینوفیکچرنگ میں تربیتی پروگرام شروع کرنے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

مزید برآں اس دورے سے پاکستان اور بیلاروس کے سائنسی اور تکنیکی تعاون کو آگے بڑھانے کے مشترکہ عزم کو تقویت ملی۔ تعلیمی اور ثقافتی تبادلے بھی ترجیحات کے طور پر سامنے آئے، دونوں فریقوں نے طلباء کے تعلیمی نوعیت کے تبادلے کو بڑھانے، مشترکہ تحقیق میں سہولت فراہم کرنے اور فن، موسیقی اور ثقافتی پروگراموں کے ذریعے باہمی مفاہمت کو فروغ دینے کے عزم کا اظہار کیا۔ دورے کے دوران 15 معاہدوں اور مفاہمت ناموں پر دستخط کیے گئے۔ علاوہ ازیں علاقائی اور بین الاقوامی مسائل پر بات چیت کو بھی مرکزی حیثیت ملی۔ پاکستان نے بیلاروس کو جموں و کشمیر کی صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق پرامن حل کی ضرورت پر زور دیا۔

رہنماؤں نے مشرق وسطیٰ میں بڑھتے ہوئے تشدد پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے غزہ اور لبنان میں فوری طور پر جارحیت بند کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے بلاتعطل انسانی امداد پر زور دیا اور دو ریاستی حل کے تحت فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کی حمایت کا اعادہ کیا۔
صدر لوکاشینکو کا دورہ پاکستان دوطرفہ شراکت داری میں ایک سنگ میل کی نمائندگی کرتا ہے جو مشترکہ اقدار اور باہمی مفادات کو اجاگر کرتا ہے۔ متعدد معاہدوں پر دستخط اور مستقبل میں تعاون کے لیے ایک روڈ میپ کے قیام کے ساتھ، دونوں ممالک نے ایک پائیدار، کثیر جہتی تعلقات کو فروغ دینے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ یہ مضبوط شراکت داری تجارت، سائنس، ٹیکنالوجی، تعلیم اور ثقافت میں تعاون کے لیے نئی راہیں کھولے گئ جو علاقائی استحکام اور عالمی خوشحالی میں معاون ثابت ہو گی۔

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button