آج کے کالمزکالمز

*معشیت کی بہتری اولین ترجیح*

احد امان باجوہ

آج ہم سایٔنسی ترقی کے اس دور میں داخل ہو چکے ہیں جہاں ہم پرایٔمری کے طالب علم کو معیشت کو بہتر کرنے کی حکمت عملی تیار کرنے جیسا مشکل کام سونپیی تو ہم امید کر سکتے ہیں کہ وہ مصنوعی ذہانت کے اوزاروں کو استعمال کرتے ہوئے ایسی جامع حکمت عملی کا مسودہ تیار کر کے لے آۓ گا جو آج چند سال قبل صرف کچھ معیشت دان ہی تیار کر سکتے تھے۔ مطلب یہ کہ حکمتِ عملی تیار کرنا آسان ہو گیا ہے لیکن اس حکمتِ عملی کے منصوبہ کو عملی جامہ پہنانا اصل کام ہے جسمیں بد قسمتی سے پاکستان میں گزشتہ کئی دہائیوں میں اقتدار میں آنے والی کوئی بھی سیاسی جماعت کلی طور پر کامیاب نہیں ہو سکی۔ بعض اوقات ذاتی فائدے کے لیے قومی مفاد کو پس پشت ڈالہ گیا تو بعض اوقات مصلحت آڑے آئی۔
ماضی قریب میں انصاف کی علمبردار جماعت نے اپنا ووٹ بینک بچانے کے لیے ملکی معیشت کے ساتھ ایسا گھناونا کھیل کھیلا کہ بیڑہ غرق کر کے رکھ دیا۔ بد انتظامی اور لاقانونیت کا ننگا ناچ ملک کے طول و عرض میں دیکھا گیا ۔ ہر حساس آنکھ میں نمی مسلسل رہی۔ افراط زر بھی ہوا، ترق کا سفر بھی رکا انفلیشن بڑھتی ہوئی 20 % سے بھی تجاوز کر گئی۔ اشیاء ضروریات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے ہوا۔ سستی اور نقد شہرت حاصل کرنے کے لیے پٹرولیم مصنوعات کو قیمت خرید سے کم پر بیچ کر قومی وقار وحمیت کو بلائے طاق رکھتے ہوئے ملک کو دیوالیہ کے دہانے پر لاکھڑا کیا۔ ان حالات میں محمد شہباز شریف نے اپنے ووٹ بینک کی پرواہ کئے بغیر اور اپنے سیاسی مستقبل کو داؤ پر لگا کر ملکی معیشت اور وقار کی بحالی کے لیے کیٔ ایک غیر معروف اقدامات اٹھائے جن کے ثمرات اب آ کر سامنے آنے لگ گئے ہیں ۔ سٹاک مارکیٹ ایک لاکھ کی حد عبور کر چکی ہے ۔ بیلاروس کے ساتھ تجارتی تعلقات کو مستحکم اور مضبوط کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ملک کی ساکھ کو بحال کرنے کے لیے شنگھائی تعاون تنظیم کا کامیاب انعقاد کیا جا چکا ہے۔ افراط زر کی شرح کم ہوتی چلی جا رہی ہے اور گزشتہ ماہ چھ اعشاریہ آٹھ پر ریکارڈ کی گئی ۔ اشیاء ضروریہ کی قیمتوں میں تیزی سے استحکام یا کمی دیکھی جا رہی۔ ڈالر کی قیمت کی اڑان رک گیٔ۔ اس کے علاوہ بھی ایک طویل فہرست موجود ہے جو کسی اور کالم میں شیٔر کی جا سکتی۔ معیشت میں بہتری کا سہرہ موجودہ حکومت بلعموم اور وزیراعظم محمد شہباز شریف کو بلخصوص جاتا ہے۔
جنہوں نے دن دیکھا نہ رات دیکھی بس معیشت کی بحالی کا چیلنج قبول کیا اور نتیجہ پوری قوم کے سامنے ہے۔

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button