حقوق ملنے تک نام نہ بدلا جائے جنکی شہادتوں سے یہ مقام ملا ہے اس سے غداری نہ کی جائے
حقوق ملنے تک نام نہ بدلا جائے جنکی شہادتوں سے یہ مقام ملا ہے اس سے غداری نہ کی جائے۔ یہاں سے پارٹی دو حصوں میں تقسیم ہوگئی۔ تمام Fightersآفاق اور عامر کے پاس تھے۔ اعلان معطل کردیا گیا۔ لیکن ایک نیا معاملہ کھڑا ہوگیا کہ جو اراکین قومی و صوبائی اسمبلی ہیں انہیں تنظیمی عہدوں سے فارغ کردیا جائے۔ بانی مان گئے ابھی یہ معاملہ صرف
Discussہوا تھا کہ تمام اراکین اسمبلی کراچی سیشن چھوڑ کر آگئے سخت بدمزگی ہوئی۔مرکزی کمیٹی اور آفاق احمد وعامر خان کی ٹھن گئی۔ انکی طاقت کم کرنے کے لئے آفاق احمد کو مرکزی جوائنٹ سیکریٹری بنا کر لیبر ڈویژن اور عامر خان کو جوائنٹ سیکریٹری بنا کر دیگر امور دے دیئے گئے۔ سلیم شہزاد اور عمران فاروق نے انہیں قبول نہیں کیا۔ طارق جاوید اندرون سندھ کے کام دیکھتے تھے۔ عظیم احمد طارق خوش تھے۔ لیکن آفاق احمد اور عامر خان کام مکمل کرکے اپنے زونوں میں بیٹھتے تھے۔ جہان نعیم حشمت زون اے کے قدیر قریشی زون سی کے انچارج تھے۔ لیکن زونوں پر دونوں رہنماؤن کی کمانڈ مضبوط تھی مرکز لانے سے فائدہ نہیں اٹھایا۔ تب ایک نئی چال چلی گئی۔ 689900-اور دستگیر میں بانی ایم کیو ایم کے ساتھ Attachکردیا گیا۔ جہاں بدراقبال کی فیملی نیچے اور بانی اوپر رہتے تھے۔ لیکن جو دراڑ ڈلی تھی وہ بڑھتی چلی گئی۔ ڈاکٹر عمران فاروق اور سلیم شہزاد کی جوڑی نے بانی کو انکے خلاف کردیا اور نوبت تصادم تک آگئی۔ عظیم احمد طارق نے فیصلہ کیا کہ دونوں کو اوورسیز کا انچارج بنا کر بھیج دیا جائے معاملات ٹھیک ہونے پر بلالیا جائے۔ دونوں نے پہلے اپنے تمام ساتھی بھیجے اور آخری دن خود گئے۔ لیکن یہ ٹریپ تھا۔ میں نے اپنے ہاتھوں سے پریس سیکریٹری کی حیثیت سے 72صٖفحات کا پریس ریلیز لکھا وہ سب امریکہ فلائٹ میں تھے اور انہیں نکالنے کا پریس ریلیز لکھا جا رہا تھا۔ فیصلہ خود کرلیں کون غلط تھا۔؟ آفاق احمد کی خصوصیت ہے کہ وہ نہیں چاہتے تھے پارٹی کمزور ہو۔ لیکن جب وہ امریکہ پہنچے تو شد بد رہ گئے اور چھ ماہ میں واپس آگئے۔ جب وہ گئے تو وزیر اعلی جام صادق علی تھے۔ بدراقبال وزیر ٹرانسپورٹ تھے وہ بھی بغاوت کرکے امریکہ چلے گئے کہ یہ سب غلط ہوا۔ یہ سب 1991کی بات ہے ن لیگ کی حکومت تھی۔ جب یہ جون 1991میں واپس آئے تو یونس خان کے گھر بانی ایم کیو ایم کی تصویر لگا کر پریس کانفرنس کی۔ عمران فاروق اور سلیم شہزاد کے احتساب کا کہا۔ لیکن جنگ چھیڑدی گئی۔ کراچی ورکرز نے انکے خلاف کام کرنے سے منع کردیا۔ تب حیدرآباد اور اندرون سندھ سے ٹیررسٹ بلا کر لانڈھی کو میدان جنگ بنا دیا گیا۔ چھ دن تک چند افراد سے لانڈھی کاکنٹرول نہیں لیا جاسکا۔ رفیق شیخ سیکٹر انچارج فیڈرل بی ایریا کو مار دیا گیا۔ آفاق احمد کی اے ٹیم پکڑی گئی جنکی ڈیفنس سے کار میں ٹکڑوں میں لاشیں ملیں۔ یہ فیصل، شعیب پروفیسر ودیگر کی تھیں۔ جنکی شناخت عظیم ایدھی نے کرائی۔ ان واقعات کی لمحہ بہ،لمحہ رپورٹ دلیر صحافی نے کی جو 36-Bکے تھے اور جماعت اسلامی کے علاوہ تکبیر کے معروف صحافی محمود احمد خان تھے۔ انہیں علاقہ چھوڑنا پڑا اور جسارت میں نیوز لگانے پر محمد انور کو بھائی سے محروم ہونا پڑا اور آج تک تتر بتر ہیں۔ڈان کئی دن شائع نہیں ہوا۔ لیکن Surrenderنہیں کیا۔ جرات اور ہمت مصظفی کمال اور انیس قائم خانی نے کی جنکی وجہ سے آج کراچی میں سب جماعتیں مزے کر رہی ہیں۔
بقیہ کل ٹیسری اور آخری قسط میں


