پاکستانی کوہ پیما کاشف شہروز کا ۲۰۲۴ میں تمام ۸۰۰۰ میٹر بلند چوٹیاں سر کرنے کا کارنامہ
تحریر: چوہدری محمد ہارون
پاکستانی کوہ پیما شہروز کاشف نے کوہ پیمائی کی دنیا میں ایک اور بے مثال کارنامہ سر انجام دے کر عالمی سطح پر پاکستان کا نام فخر کے ساتھ بلند کیا۔ شہروز کاشف، جو اپنی کم عمری میں بلند ترین پہاڑوں کو سر کرنے کے حوالے سے پہلے ہی دنیا بھر میں مشہور ہو چکے تھے، نے اس سال ایک نیا عالمی ریکارڈ قائم کیا اور دنیا کے سب سے کم عمر کوہ پیما بن گئے جنہوں نے 8,000 میٹر سے زیادہ بلند دنیا کی تمام 14 چوٹیاں سر کیں۔ یہ کامیابی کوہ پیمائی کی دنیا میں ایک عظیم سنگ میل ہے، اور شہروز نے یہ کارنامہ محض 22 سال کی عمر میں انجام دیا۔
شہروز کا کوہ پیمائی کا سفر بہت کم عمری میں شروع ہوا تھا۔ وہ 17 سال کے تھے جب انہوں نے 2019 میں پاکستان کی دوسری بلند ترین چوٹی براڈ پیک (8,051 میٹر) کو کامیابی سے سر کیا۔ یہ ان کے کوہ پیمائی کے سفر کا آغاز تھا، اور اس کے بعد ان کے عزم اور محنت نے انہیں ایک کے بعد ایک بلند ترین چوٹیوں کی طرف بڑھنے پر مجبور کیا۔ شہروز کی غیر معمولی صلاحیتوں اور انتھک محنت نے انہیں پاکستان اور عالمی کوہ پیمائی کے حلقوں میں جلد ہی نمایاں کر دیا۔
2024 میں، شہروز کا سب سے بڑا کارنامہ تب سامنے آیا جب انہوں نے شیشاپنگما اور ماکالو جیسی چوٹیاں سر کیں۔ شیشاپنگما، جو چین کے علاقے تبت میں واقع ہے، دنیا کے مشکل ترین پہاڑوں میں سے ایک ہے، اور وہاں تک رسائی اور موسم کی شدید مشکلات کو دیکھتے ہوئے، اس چوٹی کو سر کرنا کسی بھی کوہ پیما کے لیے ایک بڑا چیلنج سمجھا جاتا ہے۔ شہروز نے نہ صرف اس مشکل پہاڑ کو سر کیا بلکہ اس کے ساتھ ساتھ ماکالو (8,485 میٹر) کو بھی سر کیا، جو نیپال میں دنیا کی پانچویں بلند ترین چوٹی ہے۔ ماکالو کی چڑھائی اپنی دشواریوں اور تکنیکی چیلنجز کی وجہ سے مشہور ہے، لیکن شہروز نے اپنی غیر معمولی مہارت اور تجربے کے ساتھ اسے بھی کامیابی سے عبور کیا۔
2024 کے آغاز میں ماکالو اور شیشاپنگما کو سر کرنے کے بعد شہروز نے دنیا کی تمام 8,000 میٹر سے زیادہ بلند چوٹیاں سر کرنے کا اپنا خواب مکمل کیا۔ یہ کارنامہ کوہ پیمائی کی دنیا میں ایک غیر معمولی کامیابی ہے کیونکہ ان چوٹیوں کو "ڈیتھ زون” کہا جاتا ہے، جہاں آکسیجن کی شدید کمی ہوتی ہے، اور موسمی حالات انتہائی خطرناک ہو جاتے ہیں۔ ان بلندیوں پر انسان کی بقا خطرے میں ہوتی ہے، لیکن شہروز نے اپنی جسمانی طاقت اور ذہنی استقامت کی بنیاد پر ان تمام مشکلات کا کامیابی سے مقابلہ کیا۔
شہروز کاشف کا 8,000 میٹر سے زیادہ بلند چوٹیاں سر کرنے کا سفر 2021 میں اس وقت شروع ہوا جب انہوں نے دنیا کی سب سے بلند چوٹی ماونٹ ایورسٹ (8,849 میٹر) کو سر کیا۔ ماونٹ ایورسٹ کو سر کرنا دنیا کے ہر کوہ پیما کا خواب ہوتا ہے، اور شہروز نے یہ کارنامہ صرف 19 سال کی عمر میں انجام دیا۔ اس کے بعد ان کا سفر رکا نہیں، اور انہوں نے K2 (8,611 میٹر)، نانگا پربت (8,126 میٹر)، گیشربرم 1 (8,080 میٹر)، اور گیشربرم 2 (8,035 میٹر) سمیت دنیا کی کئی دوسری چوٹیاں کامیابی سے سر کیں۔ ان تمام چوٹیوں کو سر کرنے کے بعد 2024 میں ان کا سفر مکمل ہوا جب انہوں نے شیشاپنگما کو سر کیا، اور اس کے ساتھ وہ دنیا کے سب سے کم عمر کوہ پیما بن گئے جنہوں نے یہ سنگ میل عبور کیا۔
شہروز کاشف کی کامیابیاں نہ صرف ان کی ذاتی محنت اور عزم کا نتیجہ ہیں بلکہ پاکستان کے لیے بھی ایک فخر کا باعث ہیں۔ ان کی کامیابیوں نے نہ صرف عالمی سطح پر پاکستان کا نام بلند کیا بلکہ ملک کے نوجوانوں کو بھی یہ پیغام دیا کہ اگر عزم پختہ ہو اور مقصد واضح ہو تو کوئی بھی ہدف ناممکن نہیں۔ شہروز نے دنیا کے مشکل ترین پہاڑوں کو سر کر کے ثابت کر دیا کہ پاکستانی نوجوانوں میں وہ صلاحیتیں موجود ہیں جو دنیا کے کسی بھی چیلنج کا مقابلہ کر سکتی ہیں۔
ان چوٹیاں سر کرنے کے دوران شہروز کو بے شمار مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ان بلند ترین چوٹیوں پر موسم کی شدت، آکسیجن کی کمی، اور جسمانی تھکن جیسے عوامل ہمیشہ کوہ پیماؤں کے لیے خطرناک ثابت ہوتے ہیں۔ 8,000 میٹر کی بلندی پر پہنچ کر جسم کی طاقت ختم ہونے لگتی ہے، اور ہر قدم کو نہایت سوچ سمجھ کر اٹھانا پڑتا ہے۔ ان خطرناک حالات کے باوجود، شہروز نے اپنے عزم اور حوصلے کے ساتھ ان تمام چیلنجز کا کامیابی سے مقابلہ کیا اور دنیا کی بلند ترین چوٹیوں کو سر کر کے ایک نیا ریکارڈ قائم کیا۔
2024 میں شہروز کاشف نے اپنی کامیابیوں سے نہ صرف پاکستان کو عالمی سطح پر فخر کا مقام دلایا بلکہ دنیا بھر کے نوجوانوں کے لیے ایک مثال قائم کی کہ محنت اور لگن کے ذریعے کوئی بھی مقصد حاصل کیا جا سکتا ہے۔ ان کی کامیابیاں آنے والی نسلوں کے لیے مشعل راہ ہیں اور اس بات کا ثبوت ہیں کہ اگر جذبہ سچا ہو تو ناممکن کو بھی ممکن بنایا جا سکتا ہے۔
شہروز کا سفر ابھی ختم نہیں ہوا۔ وہ مستقبل میں مزید بلند ترین اور مشکل چوٹیاں سر کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور اپنے سفر کو جاری رکھنا چاہتے ہیں۔ ان کی کامیابیاں ان کے لیے ایک عظیم سنگ میل ہیں، اور وہ اپنی محنت اور عزم کے ساتھ آگے بڑھنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ان کی یہ کامیابیاں پاکستان کے لیے باعث فخر ہیں اور نوجوانوں کے لیے ایک تحریک ہیں کہ وہ بھی دنیا کے سب سے بڑے چیلنجز کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔



