آج کے کالمزکالمز

ایران اور اسرائیل کی بڑھتی ہوئی کشیدگی۔ امریکہ کا کردار۔

تحریر: چوہدری محمد ہارون

ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی ایک طویل عرصے سے جاری ہے، اور 2024 تک یہ تعلقات مزید پیچیدہ اور خطرناک شکل اختیار کر چکے ہیں۔ ان دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کی وجوہات نہ صرف مذہبی اور نظریاتی ہیں بلکہ جغرافیائی سیاست، جوہری ہتھیاروں کا مسئلہ، اور علاقائی اثر و رسوخ کی جنگ بھی اس تنازعے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ اس تمام تنازعے میں امریکہ کا کردار مرکزی ہے، جو اسرائیل کا قریبی اتحادی اور ایران کا سخت ناقد رہا ہے۔

1979 کے ایرانی انقلاب سے پہلے ایران اور اسرائیل کے تعلقات دوستانہ تھے۔ شاہِ ایران، محمد رضا پہلوی کے دور میں اسرائیل اور ایران کے درمیان فوجی اور اقتصادی تعلقات موجود تھے۔ لیکن انقلاب کے بعد ایران نے اسرائیل کے خلاف انتہائی سخت موقف اپنایا اور اسے "غاصب صیہونی ریاست” قرار دیا۔ ایران کی نئی اسلامی حکومت نے اسرائیل کو مشرق وسطیٰ میں سب سے بڑا دشمن مانا اور فلسطینی تحریکوں، خاص طور پر حماس اور حزب اللہ، کی حمایت شروع کی جو اسرائیل کے خلاف عسکری جدوجہد کرتی ہیں۔

ایران اور اسرائیل کے درمیان موجودہ کشیدگی کی سب سے بڑی وجہ ایران کا جوہری پروگرام ہے۔ 2000 کی دہائی کے آغاز میں ایران نے اپنے جوہری پروگرام کو ترقی دینا شروع کیا، جس کا مقصد بظاہر توانائی کے ذرائع حاصل کرنا تھا۔ لیکن اسرائیل اور مغربی ممالک، خاص طور پر امریکہ، کا یہ خدشہ تھا کہ ایران اس پروگرام کی آڑ میں جوہری ہتھیار تیار کر رہا ہے۔ اسرائیل کے لیے یہ صورتحال وجودی خطرہ بن چکی ہے کیونکہ ایران کے اعلیٰ رہنما کئی بار اسرائیل کو "زمین سے مٹانے” کی دھمکی دے چکے ہیں۔ اسرائیل نے ان خدشات کے پیش نظر ایران کی جوہری تنصیبات پر ممکنہ حملوں کا بھی اشارہ دیا۔

امریکہ کا کردار ایران اور اسرائیل کی اس دشمنی میں انتہائی اہم ہے۔ امریکہ نہ صرف اسرائیل کا سب سے بڑا اتحادی ہے بلکہ وہ اسرائیل کی دفاعی اور اقتصادی مدد بھی کرتا ہے۔ اسرائیل کو ملنے والی سالانہ امریکی امداد تقریباً 3.8 ارب ڈالر ہے، جو اسے جدید ترین فوجی ساز و سامان اور ٹیکنالوجی فراہم کرتی ہے۔ امریکہ کے اسرائیل کے ساتھ اس قریبی تعلقات کی وجہ سے ایران اور امریکہ کے تعلقات بھی ہمیشہ کشیدہ رہے ہیں۔ ایران 1979 کے انقلاب کے بعد سے امریکہ کو "شیطانِ اکبر” کے طور پر دیکھتا ہے اور امریکہ کے خطے میں اثر و رسوخ کو چیلنج کرتا رہا ہے۔

2015 میں ایران اور چھ عالمی طاقتوں (امریکہ، برطانیہ، چین، فرانس، روس، اور جرمنی) کے درمیان جوہری معاہدہ (JCPOA) طے پایا۔ اس معاہدے کے تحت ایران نے اپنے جوہری پروگرام کو محدود کرنے پر اتفاق کیا، جس کے بدلے میں اس پر عائد اقتصادی پابندیوں میں نرمی کی گئی۔ اسرائیل نے اس معاہدے کی سخت مخالفت کی کیونکہ وہ اسے ایران کے جوہری عزائم کو روکنے کے لیے ناکافی سمجھتا تھا۔ 2018 میں، اس وقت کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یکطرفہ طور پر اس معاہدے سے علیحدگی اختیار کی اور ایران پر دوبارہ سخت پابندیاں عائد کر دیں۔ اس کے نتیجے میں ایران نے اپنے جوہری پروگرام کو دوبارہ فعال کر دیا اور یورینیم کی افزودگی میں اضافہ کیا۔

2024 تک، ایران کی یورینیم افزودگی کی سطح خطرناک حد تک پہنچ چکی ہے، اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف عسکری کارروائی کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ اسرائیل نے ایران کے جوہری اور عسکری تنصیبات پر سائبر حملے اور خفیہ آپریشنز بھی کیے ہیں، جن میں ایران کے جوہری سائنسدانوں کا قتل شامل ہے۔ دوسری طرف، ایران نے اسرائیل کے خلاف حزب اللہ اور حماس جیسے گروہوں کے ذریعے پراکسی جنگ جاری رکھی ہے۔ یہ گروہ اسرائیل پر راکٹ حملے اور دیگر عسکری کارروائیاں کرتے ہیں، جنہیں ایران کی مکمل حمایت حاصل ہوتی ہے۔

2020 میں اسرائیل اور کئی عرب ممالک کے درمیان "ابراہم معاہدات” کے تحت تعلقات بہتر ہوئے، لیکن ایران نے اس معاہدے کی سخت مخالفت کی۔ ایران کا موقف تھا کہ یہ معاہدات خطے میں اسرائیل کے اثر و رسوخ کو بڑھاوا دیں گے اور فلسطینی کاز کو نقصان پہنچائیں گے۔ اس کے بعد، ایران نے اپنی خطے میں موجودگی اور اثر و رسوخ کو بڑھانے کے لیے مزید اقدامات کیے، خاص طور پر شام، عراق، لبنان، اور یمن میں۔ ان ممالک میں ایران کی حمایت یافتہ ملیشیائیں اسرائیل کے خلاف مسلسل کارروائیاں کرتی رہتی ہیں۔

امریکہ کی طرف سے، موجودہ صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ نے JCPOA میں دوبارہ شمولیت کی کوشش کی ہے، لیکن یہ مذاکرات مسلسل تعطل کا شکار ہیں۔ بائیڈن انتظامیہ نے ایران پر عائد پابندیوں میں نرمی کرنے کا عندیہ دیا ہے، لیکن ایران کی جانب سے جوہری سرگرمیاں محدود کرنے کے حوالے سے خاطر خواہ اقدامات نہ ہونے کی وجہ سے یہ مذاکرات کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے۔

ایران اور اسرائیل کی کشیدگی صرف مشرق وسطیٰ کے لیے نہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی اہمیت رکھتی ہے۔ اگر ایران جوہری ہتھیار حاصل کر لیتا ہے تو خطے میں ایک نیا اسلحہ کی دوڑ شروع ہو سکتی ہے، جس سے مشرق وسطیٰ میں عدم استحکام مزید بڑھ جائے گا۔ اسرائیل، جو پہلے ہی علاقائی طاقت ہے، اپنی سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے ایران پر مزید عسکری دباؤ ڈالے گا۔

2024 تک کی صورتحال میں، ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی بڑھنے کے امکانات واضح ہیں، اور اس تنازعے میں امریکہ کا کردار کلیدی رہے گا۔ امریکہ کی جانب سے اسرائیل کی حمایت اور ایران پر پابندیاں، دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید کشیدہ بنا رہی ہیں۔ جب تک اس تنازعے کا کوئی پرامن حل نہیں نکلتا، خطے میں جنگ اور عدم استحکام کا خطرہ موجود رہے گا۔

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button