آج کے کالمزکالمز

امور سلطنت) (علاقائی تنازعات اور خدمات عامہ)(

محمد مشتا ق جدون پبلک سرونٹ

انگریزی میں (State Craft)سنسکر ت میں راج نیتی اور عربی میں اصول الحکم بابت ریا ستی امور استعمال ہو تا ہے۔ ریاستی امورِ سلطنت طا قت کا اعلی ترین سطح پر استعمال ہے۔ جس پر ریا ست اور طا قت کا امن اور ترقی کا دارومدار ہے۔ پختونخوا یا سابقہ صوبہ سرحد کو بوجہ جغرافیا ئی پو زیشن وسطی ایشاء،افغانستان اور ہندوستان کے امور سلطنت میں ہمیشہ مر کزی حیثیت رہی ہے۔ اس خطہ میں امن کی بحالی کا خدمات عامہ کی بہتری سے گہرا تعلق ہے۔ جس کیلئے یہا ں کی جغرافیا ئی پو زیشن،ثقافت اور تاریخی پس منظر کا جا ننا ضروری ہے۔ شمالی مغربی سرحدی صوبہ کا قیا م بطور چیف کمشنر صوبہ 1901میں عمل میں آیا۔ اور 1935ایکٹ کے تحت مکمل صوبہ کا درجہ ملا۔ مغل دور (1526-1857)میں پختونخوامیں بغاوت رہی۔خاص کر اورنگزیب عالمگیر اور اکبر کے دور میں مغل دور کے بعد 1747تک یہ علاقہ درانی حکومت کے زیر اثر رہا۔ پھر 1818 سے لیکر 1849تک ما سوائے کچھ شمالی علاقوں کے، سکھوں نے قبضہ جما لیا۔ انگریز دور میں مالاکنڈ، طورغر سے لیکر وزیر ستان تک پینسٹھ بڑے ملٹری اپریشن ہوئے۔ اس د ورا ن ریل،روڈ،تعلیم اور صحت کے اداروں کا قیا م عمل میں آیا۔ پاکستان بننے کے بعد بھی قبائلی علاقہ میں فوجی اپریشن ہو ئے۔قیا م پاکستان کے بعد 1980 تک صوبہ،خدمات عامہ کے لحاظ سے پہلے نمبر پر تھا۔ پھر افغانستان پر روس نے حملہ کیا۔ جس کے نتیجے میں تیس لاکھ افغانی مہا جر صوبہ سر حد میں آباد ہو ئے کلا شنکو ف کلچر اور منشیا ت متعارف ہو ئی جر ائم میں اضافہ ہو ا تر قیا تی کا م یک دم زیا دہ ہو نے سے سر کا ری اداروں میں کر پشن کو فر وغ ہو ا۔ پھر 1990تا 1996افغانستان میں مجا ہدین کے گروہوں میں با ھمی لڑائی شروع ہو ئی۔ جس کا اثر پاکستان پر پڑا۔ صوبے کی صحت،تعلیم اور بلدیاتی سہو لتوں پر دباؤ رہا۔ ما حول و جنگلات بری طر ح متا ثر ہو ئے۔ پھر 9/11نے تاریخ ہی بدل دی۔ صوبے میں طالبائزیشن کا عمل شروع ہو ا۔مالاکنڈ، جنو بی اضلاع اور قبائلی علاقہ جا ت میں فوجی اپریشن کر نے پڑے۔ جس سے امن وامان برُی طر ح متا ثرہو ا۔ افسران دفاتر تک محدود رہ گئے۔ افغانستان پر امریکی حملہ تاریخ میں واحد مثا ل ہے۔ جس نے اس ملک سے زیادہ پڑوسی ملک پاکستان کو متا ثر کیا۔ تقریباً 70ہزار لو گ شہید ہو ئے۔ خاص کر 2004سے 2014 تک کا عرصہ بدترین وقت تھا۔ امن وامان اور فوجی آپریشن کیو جہ سے ہزاروں لو گ اپنے ہی وطن میں مہا جر ہو گئے۔ ان حالات کیو جہ سے سما جی اور خدمات عامہ کا شعبہ بری طر ح متا ثر ہو ا۔ بیر ونی امداد کیو جہ سے صوبا ئی اوروفا قی حکو مت کے نئے ادارے قائم ہو ئے۔ جس میں بجلی،گیس،پاسپورٹ،نادرا،بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام اور ای او بی آئی کے دفاتر صوبائی،ریجنل اور ضلع کی سطح پر قائم ہو ئے۔ امن واما ن کی خراب صورتحال میں نگرانی کا مو ثر نظا م نہ قائم ہو سکا۔ ادارے ان حالات میں اپنی اختیار ات کا نا جا ئز استعمال کر تے ہیں۔ عوام کے پا س داد رسی کا مو ثر فورم کا ہو نا ضروری ہے۔ غریب عوام معمولی مسائل کے لئے دیوانی یا فوجداری مقدما ت نہیں کر سکتے۔ جس کے لئے وسائل اور وقت درکا ر ہے۔ جیسے جیسے نئے ادارے قائم ہو رہے ہیں۔ ٹیکنا لو جی کا استعمال عام ہے۔ اس کے کیلئے معمو ل کی عدالتوں کے علا وہ انتظامی انصا ف کی اشد ضرورت ہے۔ ایک ایسا ملک جہا ں غر بت کی شرح چا لیس فیصد ہو۔ وہا ں کے لو گ مہنگااور طویل مقدم بازی کا راستہ بھی اختیا ر نہیں کر سکتے۔ صوبا ئی حکومتوں نے رائٹ ٹو پبلک سروس کمیشن۔رائٹ ٹو انفارمیشن،صوبائی محتسب اور بچوں و خواتین کے حقوق کے لئے ٹریبیونل اور کمیشن قام کئے ہیں۔ وفاقی سطح پر وفاقی محتسب کے ادارہ کا قیا م عمل میں لا یا گیا۔ اس ادارہ کی کامیا بی کی وجہ سے بینکنگ،ٹیکس اور ما حولیا ت کے ٹریبیونل بنے۔ انتظامی انصاف کے نظام کو مضبوط کر نے کی ضرورت ہے۔ خا ص کر پختونخوا اور دیہا ت میں رہنے والو ں کے لئے ایک موثر سستے اور فوری انصاف کی ضرورت ہے۔ ویسے بھی عدالتی نظام کے بجا ئے مسائل کا متبادل حل ہما رے رواج اور روایات کے قریب تر ہے

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button