ہزارہ

کمرشل گیس ٹیرف سے تاجر پر یشان

تندور کے ریٹس ریسٹورنٹس پر لاگو کرنا زیادتی ہے،صدر ایسوسی ایشن محمد فاروق

ایبٹ آباد (نما ئندہ خصو صی )فوڈ کے کاروبار سے منسلک چھوٹے تاجروں کے لئے تھری سٹار اور فائیو سٹار ہوٹلوں کے برابر کمرشل گیس ٹیرف 3900 فی ایم ایم بی ٹی یو کی ادائیگی کیساتھ روٹی 14 روپے پر فروخت کرنا محال ہوگیا، بھاری جرمانوں نے تاجروں کی کمر توڑ کر رکھ دی۔جنھوں نے حکومت پنجاب سے اپیل کی کہ چھوٹے کاروباری مراکز سے منسلک تاجروں کے اخراجات کو مد نظر رکھ کر سوئی گیس ٹیرف اور روٹی کے نرخ طے کیے جائیں۔صدر راولپنڈی ریسٹورنٹس، کیٹرز سویٹس اینڈ بیکرز ایسوسی ایشن محمد فاروق چوہدری نے اپنے اہم بیان میں بتایا کہ کہ اعلی عدلیہ کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئیریسٹورنٹس پر روٹی کے ریٹس مقرر کرنے کے کیس پر ایسوسی ایشن کے سرپرست اعلی چوہدری محمد نعیم اور سینئر نائب صدر چوہدری زاہد محمود کے ہمراہ سیکرٹری انڈسٹریز کامرس انوسٹمنٹ اینڈ سکلز ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ ڈاکٹر احسان بھٹہ سے اہم ملاقات کی گئی، جب کہ اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل انڈسٹریز ،پرائس ،ویٹ اینڈ میٹرز آصف علی فرخ بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔ملاقات سے متعلق اہم معاملات سے آگاہ کرتے ہوئے صدر ایسوسی ایشن محمد فاروق چوہدری نے بتایا کہ تندور کے ریٹس ریسٹورنٹس پر لاگو کرنا زیادتی ہے،کیوں کہ ہمارے اخراجات تندور سے کہیں زیادہ ہیں، تندور کو خصوصی پروٹیکٹڈ گیس ٹیرف دیا جاتا ہے،جب کہ تھری سٹار اور فائیو سٹار ہوٹلوں کے لئے جو کمرشل گیس ٹیرف 3900 فی ایم ایم بی ٹی یو مقرر کیا گیا ہے ،اسی کا اطلاق چھوٹے ریسٹورنٹس پر بھی کیا جارہا ہے ۔جو ہماری برداشت سے باہر ہے۔لہذا مہنگی گیس ٹیرف کے ساتھ روٹی 14 روپے میں فروخت کرنا کاروباری مشکلات میں اضافہ کا سبب بن رہا ہے۔ علاوہ ازیں ریسٹورنٹس پر سیلز ٹیکس سمیت دیگر ٹیکسز کا نفاذ بھی ہوتا ہے جو ہم ذمہ داری سے ادا کرتے ہیں۔صدر ایسوسی ایشن محمد فاروق چوہدری کا کہنا تھا کہ ایسوسی ایشن نے سیکرٹری انڈسٹریز کامرس انوسٹمنٹ اینڈ سکلز ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ ڈاکٹر احسان بھٹہ کو بتایا کہ ریسٹورنٹس کے اندر روٹی کے ریٹس چیک کرنے پر انتظامیہ کی جانب سے 50 ہزار سے لے کر ایک لاکھ روپے تک جرمانے کیے جارہے ہیں ۔انھیں سییل کیا جاتا ہے۔ایسوسی ایشن اپیل کرتی ہے کہ پنجاب حکومت اپنے فیصلوں پر نظر ثانی کرے۔

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button