ہزارہ

مہمند سمیت تمام ضم اضلاع میں بجلی، صحت، تعلیم کے انفراسٹرکچر کو بہتر کرنیکی ضرورت ہے.فیصل کریم کنڈی

گورنرخیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہاہے کہ ضم اضلاع کے عوام کی محرومیوں کا احساس ہے،مہمند سمیت تمام ضم اضلاع میں بجلی، صحت، تعلیم کے انفراسٹرکچر کو بہتر کرنیکی ضرورت ہے،انضمام کے وقت کئے گئے وعدوں پر عملدرآمد کیلئے اپنا آئینی کردار ادا کروں گا، بدقسمتی سے ضم اضلاع کیلئے جاری ہونیوالا فنڈ بھی وہاں خرچ نہیں ہو سکا،میری کوشش ہے کہ صوبہ کیلئے زیادہ سے زیادہ فنڈز لاؤں تاکہ صوبہ ترقی کی منازل طے کرے۔ملاکنڈاور ضم اضلاع میں ٹیکس سے متعلق عوامی تحفظات سے وفاقی حکومت کو آگاہ کیا ہے۔ان خیالات کا اظہارانہوں نے بدھ کے روز گورنرہاوس پشاور میں مہمند چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے نمائندہ وفد سے ملاقات کے دوران کیا۔ وفد کی سربراہی مہمند چیمبرآف کامرس کے صدر خواجہ عبدالقدوس کررہے تھے۔ پیپلزپارٹی کے صوبائی صدر سید محمد علی شاہ باچہ، سابق رکن صوبائی اسمبلی نثار خان، حاجی ملک سلطان، ملک عطاء اللہ،ملک اسرائیل و چیمبر کے دیگر عہدیدار و کاروباری شخصیات بھی اس موقع پرموجود تھے۔وفد کے شرکاء نے گورنر کو روایتی لونگی بھی پہنائی۔ وفد نے گورنر کو ضم ضلع مہمند میں ماربل انڈسٹری کی ترقی کیلئے اسپیشل اکنامک زون قراردینے، انڈسٹریل اسٹیٹ کے قیام اور نیشنل گرڈضم ضلع مہمند میں تعمیرکرنے کیلئے آئینی کردار ادا کرنیکی درخواست کی۔وفد نے پرچاوا اور سبحان خوڑ انڈسٹریل اسٹیٹ کو سپیشل انڈسٹریل سٹیٹ قراردینے کا بھی مطالبہ کیا۔وفد نے بتایاکہ انڈسٹریل اسٹیٹ اور اسپیشل اکنامک زون کے قیام سے باہر سے لوگ سرمایہ کاری کیلئے آئیں گے جس سے علاقے کے عوام کو روزگار کے مواقع بھی دستیاب ہوں گے۔ وفد کے شرکاء نے مطالبہ کیا کہ ضم ضلع مہمند کو ورسک ڈیم رائلٹی کیلئے وفاق سے بات کیجائے۔ انہوں نے کہاکہ 6 سال سے التواء کا شکار یکہ غنڈ روڈ کی افغان سرحد تک کی فوری تعمیر کی جائے۔انہوں نے کہاکہ ضم ضلع مہمند میں موجودہ حالات کی وجہ سے امپورٹ ایکسپورٹ بالکل بند ہے۔انہوں نے گورسل بارڈر کھولنے کیلئے بھی کردار ادا کرنیکی درخواست کی۔انہوں نے وفد نے بجلی کی عدم دستیابی، ٹیکس کے نفاذ،صحت سہولیات کے فقدان، بد امنی کے باعث کاروباری سرگرمیاں متاثر ہونے سے متعلق اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔وفد کے شرکاء نے گورنر کو مہمند اکنامک زون کا دورہ کرنے کی بھی دعوت دی۔ وفد سے گفتگو کرتے ہوئے گورنرنے کہاکہ امن وامان کسی بھی علاقے کی ترقی کیلئے اولین شرط ہے۔بزنس کمیونٹی کو درپیش مسائل حل کیے جائیں گے اور مہمنداکنامک زون کوسپیشل اکنامک زون بنانے کیلئے وفاقی حکومت سے بات کی جائیگی۔مہمند چیمبر کے عہدیداروں کو کاروباری سرگرمیاں جاری رکھنے میں مکمل تعاون فراہم کریں گے۔ گورنرنے کہاکہ انضمام کے وقت قبائلی عوام کے ساتھ کیے گئے وعدوں پر عملدرآمد اور ضم قبائلی اضلاع کودرپیش مسائل سے متعلق وزیر اعظم، صدر آصف علی زرداری سے گفتگو ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سالانہ 100 ارب روپے میں جتنی بھی رقم صوبائی حکومت کودی گئی ہے ان کا بھی پتہ نہیں ہے کہ صوبائی حکومت نے اسے کہاں پرخرچ کیاہے۔ گورنرنے کہاکہ صوبے کے مسائل کے حل کیلئے مشترکہ طور پر کوششیں کرنی ہوں گی اور اس سلسلے میں تمام سیاسی پارٹیوں کے رہنماؤں سے ملاقاتیں کرچکاہوں تاکہ ایک مشترکہ لائحہ عمل ترتیب دیاجائے۔#

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button