پولیس کے ایک جوان کی طرف سے جسے بعد ازاں ذہنی مریض بتایا گیا ایک یو ٹیوبر کو اور اپنے محکمے کے افسران کو گاہلیاں دینے کا واقعہ سنجیدہ طبقے کے نزدیک یقینی طور پر ایک افسوس ناک واقعہ ہے، اس کے کے پیچھے عوامل چاہے جو بھی ہوں ذہنی مریض ہو ، نشے میں ہو یا کچھ اور صورت حال کسی طرح بھی قابل تعریف یا قابل ستائش نہیں ہے اس پہ میں زیادہ گہرائی میں نہیں جاؤں گا کہ نشے میں تھا تو یہ بھی جرم ہے ذہنی امراض میں مبتلا تھا تو اسے محکمے میں ڈیوٹی پہ حاضر رکھنے والے افسران بھی قابل گرفت ہیں اور ان کی بھی گو شمالی ضرور ہونی چاہیے لیکن سب سے زیادہ مجھے اپنی قوم کی حالت پہ دکھ ہوا جس کا میں آگے چل کے ذکر کروں گا سرِ دست آئی جی پنجاب کی طرف سے گاہلیاں دینے والے پولیس اہلکار کو گلے ملنے اور اس کی علاج کروانے کی بات کروں گا بلا شبہ آئی جی پنجاب کی طرف سے یہ ایک اچھی روایت سامنے آئی ہے لیکن بادی النظر میں یہ پورا معاملہ ہی مشکوک ہے، آئی جی پنجاب کے عمل کو سراہنے کے ساتھ اس بات کی تحقیق اور انکوائری ہونا ضروری ہے کہ اگر مذکورہ پولیس اہلکار نشے میں گاہلیاں دے رہا تھا تو اس کے خلاف کاروائی عمل میں کیوں نہیں لائی گئی اور اگر وہ کسی بیماری میں مبتلا تھا تو اسے ڈیوٹی پہ حاضر رکھنے والے کون سے پولیس اہلکار ہیں اور ان کے خلاف کیا محکمانہ کارروائی ہوئی ہے اور ہو گی بھی کہ نہیں؟
آئی جی پنجاب کی طرف سے چند روز قبل ایک پوسٹ نظروں سے گزری جس میں اس بات کی وضاحت کی گئی کہ صحافی اور شہری کسی پولیس اہلکار سے ہیلمٹ وغیرہ کے بارے میں سوال نہیں کر سکتا صرف سروس کارڈ طلب کر سکتا ہے مجھے اس بات سے اختلاف ہے اور میں جانتا ہوں کہ صحافی اپنی حدود میں رہتے ہوئے ہر وہ سوال کر سکتا ہے جس سے ملک کے مفاد اور سالمیت پہ کوئی حرف نہ آئے ، ایک سروس مین کے لیے جس طرح سروس کارڈ ضروری ہے اسی طرح پبلک پہ لاگو ہونے والے تمام قوانین پولیس اہلکاروں پر بھی لاگو ہوتے ہیں، یعنی پولیس اہلکار ہے تو سروس کارڈ ، وردی ، اگر بائیک پہ ہے تو ہیلمٹ ، بائیک کی نمبر پلیٹ اس سب کے بارے میں صحافی سوال کر سکتا ہے اور اسے یہ آزادی آئین کی آرٹیکل انیس فراہم کرتی ہے۔ کیونکہ صحافی نے صرف سوال ہی کرنا ہوتا ہے اور صرف نشاندہی ہی کرنی ہوتی ہے، چالان یا قانونی کارروائی نہیں کرنی ہوتی اس لیے سوال کرنے کا حق صحافی سے کوئی بھی نہیں چھین سکتا، معاشرے میں ، سوسائٹی میں ، کسی بھی ادارے میں جس کا ڈائریکٹ تعلق پبلک سے ہو اس کے اندر پائی جانے والی کسی بھی خامی یا برائی کی نشاہدہی کرنا ہی صحافی کا اصل کام ہے اسی لیے صحافی کے پاس قلم اور کیمرہ ہوتا ہے، ڈنڈا نہیں ہوتا، کوئی بھی ڈنڈا اٹھا لینے والا صحافی نہیں غنڈہ ہوتا ہے جہاں قانون نے صحافیوں کو بہت ساری آسانیاں دے رکھی ہیں وہاں کسی بھی صحافی کے فرائض میں بھی بہت سی چیزیں شامل ہیں کہ کسی بھی ایسے واقعہ کی رپورٹنگ نہ کرے جس سے معاشرے میں انتشار یا پرتشدد رویہ پھیلنے کا خدشہ ہو سوشل میڈیا کے دور میں اس حوالے سے صحافی کے فرائض میں مزید اضافہ ہو گیا ہے اور ذمہ داریاں بھی بڑھ گئی ہیں پولیس اہلکار کے حالیہ واقعے کو ہی دیکھ لیجیے کہ پیش آنے والی صورت حال ایسی تھی کہ اسے لائیو چلایا جاتا یا یوٹیوب پہ ڈالا جاتا ؟ سنسر شپ کا قانون بھی بلا شبہ موجود ہے ، اس لیے صحافی اگر صرف ریٹنگ کے چکر میں ایسی واہیات گاہلیاں دکھانے لگیں گے تو معاشرے میں اصلاح کے بجائے بگاڑ پیدا ہو گا اس کے بجائے اصل طریقہ قانون کے مطابق یہ تھا کہ مذکورہ ویڈیو ذمہ دار افسران تک پہنچا کے کاروائی کی درخواست کی جاتی، لیکن ویڈیو پبلک ہونے کے بعد محکمہ اور یو ٹیوبر دونوں اپنی اپنی شرمندگی چھپاتے نظر آتے ہیں ، بلا شبہ میری ذاتی رائے میں دونوں طرف سے کوئی قابل فخر کام نہیں کیا گیا۔
آخر میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ قوم جس طرح اس واقعے کے اہلکار کو پروموٹ کر رہی ہے یہ رجحان یقینی طور پر انتہائی خطرناک ہے ، آپ کے کوئی معاملات یا پریشانی ہے تو آپ خود اسے بہتر طریقے سے ہینڈل کر سکتے ہیں ، سارے معلامات بے چارے ایک کانسٹیبل کے ذمے مت ڈالیں کہ اتنا بل آ گیا ہے شاہد کو پکارو ، ڈالر کا ریٹ بڑھ گیا ہے شاہد آ جائے وغیرہ وغیرہ ، آپ پاکستان کے شہری ہیں اور اس ملک کے ہر فرد میں ٹیلنٹ ہے ، ہمت ہے ، جرات ہے جو کرنا ہے اپنے بل بوتے پر کیجیے کسی افسوس ناک مثال کا سہارا مت لیجیے اور ساتھ ہی یہ بھی تاکید کروں گا کہ گاہلیاں مت دیجیے تنقید آپ کا ، میرا اور ہم سب کا تسلیم شدہ حق ہے اور سب سے پہلے ملک و ملت کا خیال رکھیے کہ ہمارے کسی بھی عمل سے ملک اور ملت کو کیا نقصان ہو گا اور معاشرتی بگاڑ کس قدر پیدا ہو گا بس یہی سوچنے کی بات ہے، اللہ تعالیٰ ملک میں ملت کا حامی و ناصر ہو آمین ۔