ایس ایس جی کمانڈو کپٹن جنید ایاز خان شہید کا سر جب دہشتگردوں نے تن سے جدا کیا ، معجزاتی طور پر آپ کے کٹے ہوئے سر نے کلمہ طیبہ پڑھنا شروع کر دیا ۔۔۔!!!
چار گمنام ہیروز ایک ساتھ جام شہادت
¹ کپٹن جنید ایاز شہید ، ² کپٹن نجم ریاض شہید ، ³ نائیک شاہد رسول اور ⁴ لانس نائیک شکیل ۔
پاکستانی قوم اور اسلام کی روح پاکستان کو بچانے کے لئے ہماری فوج نے دہشت گردوں کے خلاف جس جنگ کا آغاز کیا تھا اس کی صداقت ہمارے ان عظیم شہدا کی بہادری کی داستانوں سے ملتی ہے جنہوں نے سر کٹوا کر پرچم ہلالی کا سر بلند کئے رکھا اپنی ماوں بہنوں بیٹیوں کے سر کی چادروں کا تقدس قائم رکھا اور ملک بھر میں رٹ آف لا قائم کر دیکھائی ۔
میں جب بھی کسی شہید کا ذکر سنتا ہوں خود شہید ہو جاتا ہوں میری چشم تصوّر کھل جاتی ہے ہاں آج میں اُس جوان شہید کپتان کو چشم تصوّر سے دیکھ رہا ہوں اس کی چمکتی سبز آنکھوں اور لبوں پر کھیلتی یاقوتی مسکراہٹ میں کئی جہانوں کی تابناکی اور آسودگی ہے۔ اس کا سر اس کے اُس دھڑ سے جڑا ہوا ہے وہ سر جسے ہزیمت اٹھانے والے خوارج نے قصابوں سے زیادہ سفاکی سے تن سے جدا کر کے فٹ بال کھیلا تھا وہ مسکرا رہا ہے اور ان وادیوں کہساروں اور لہلاتے کھیتوں کو دیکھ رہا ہے جو خون کی فصلیں اگا رہے تھے جہاں ابر رحمت کی بجائے خوف کی طغیانی تھی مگر جب اس سرزمین پر اس اللہ کے سپاہی کپٹن جنید ایاز خان کے مقدس لہو کا قطرہ گرا تو وہاں بہار کی فصلیں لہرانے لگیں ۔
دنیا کی عظیم سپاہ پاک فوج کے کمانڈوز کے دستے کے شیر دل کپٹن جنید ایاز خان کو جب دھرتی کو بچانے کے لئے یہ ٹاسک سونپا گیا تھا کہ وہ سوات میں امن کے دشمنوں کو ان کی کمین گاہوں سے نکال باہر لائے تو وہ سر ہتھیلی پر لے کر سوات کے علاقہ خواز خیلا جا پہنچے یہ کالعدم تنظیم ٹی ٹی پی خوارج طا،لبا*ن کے سربراہ فضل اللہ کا علاقہ تھا۔
فوج اس تک رسائی حاصل کرنا چاہتی تھی جس کا ٹاسک کیپٹن جنید ایاز خان کو سونپا گیا تھا آپریشن کے دوران کلین شیو کیپٹن جنید ایاز خان نے داڑھی رکھ لی تھی اور کوئی گمان نہیں کر سکتا تھا کہ وہ سوات کا غیر باشندہ ہے۔
وہ اپنے تین کمانڈوز ساتھیوں کپٹن نجم ریاض نائیک شاہد رسول اور لانس نائیک شکیل کے ساتھ جاسوسی کرتا ہوا فضل اللہ کے خفیہ ٹھکانے تک پہنچ گیا جہاں طالبان کے ساتھ جھڑپ ہو گئی۔
اس جھڑپ میں پاک فوج کے شیروں نے کئی اسلام دشمن دہشتگردوں کو جہنم واصل کیا تاہم ٹی ٹی پی کے خوارج طا*لبا*ن کی کثیر تعداد نے انہیں گھیر کر پکڑ لیا اور اپنے عقوبت خانے میں لے جا کر ان پر تشدد شروع کر دیا کپٹن جنید ایاز خان سے ٹی ٹی پی کے خوارج طا*لبا*ن نے حساس معلومات حاصل کرنے کی پوری کوشش کی اور پھر فوج تک پیغام پہنچایا کہ انہیں اپنے کمانڈوز چاہیں تو بدلے میں انکے وہ ہائی پروفائل خوارج قیدی واپس کئے جائیں جن کو گرفتار کر کے سوات میں امن کی بنیادیں رکھنے میں فوج کوکامیابی ملی تھی۔
فوج اور فضل اللہ گروپ کے درمیان چند دنوں تک مذاکرات ہوتے رہے اس دوران ٹی ٹی پی خوارج نے کپٹن جنید ایاز خان کے والد پروفیسر ایاز خان سے بھی انکے بیٹے کی رہائی کا سودا کیا اور کہا پروفیسر تمہارا ایک ہی بیٹا ہے حکومت سے کہو اسکا تاوان ادا کر دے اور تم اپنا بیٹا لے جاو پروفیسر ایاز خان کے لئے ٹی ٹی پی خوارج کے وعدوں کی حقیقت کوئی چھپی ہوئی بات نہیں تھی انہوں نے جی بڑا کیا اور ان خوارج کو اسلام اور اخلاقیات کا سبق دیتے رہے استاد و معلم اورکزئی پٹھان جو تھے جو موت پر سودا نہیں کر سکتے تھے اس مرحلہ میں انکی قومی و ملّی اہمیت نے ان کا حوصلہ پسپا نہیں ہونے دیا۔
کپٹن جنید ایاز خان نے جب دیکھا کہ ٹی ٹی پی خوارج ان کی آڑ لیکر پاک فوج کو بے بس کر کے آپریشن رکوانا چاہتے ہیں تو انکی تربیت نے کام دیکھا دیا چاروں ساتھیوں نے دست قضا پر بیعت کی وہ نہتے تھے اسکے باوجود کمرے میں موجود سات مسلح طا،لبا،ن پر حملہ کر کے انہیں جہنم واصل کرنے میں کامیاب ہو گئے لیکن اس دوران کمرے سے باہر کھڑے دو خوارج نے کھڑکی سے ان پر فائر کھول کر انہیں شہید کر دیا۔
خوارج ٹی ٹی پی نے جب اپنے ساتھیوں کو مردہ حالت میں دیکھا تو انہوں نے بربریت کی انتہا کردی خود کو مسلمان کہلوانے والے ٹی ٹی پی خوارج نے کپٹن جنید ایاز خان اور انکے ساتھیوں کے سروں کو ان کے تن سے جدا کر دیا اور سروں کو فٹ بال بنا کر اپنی حیوانیت اور درندگی کا پورا ثبوت فراہم کر دیا اس کے بعد وہ طا،لبا*ن نہیں ظالمان خوارج کہلوائے جانے کے حق دار تھے۔
بتایا جاتا ہے کہ جب دہشت گردوں نے کپٹن جنید ایاز خان کا نزع کے عالم میں سر کاٹ دیا تو انکی آنکھیں حسب معمول مسکرا رہی تھیں اور زبان سے کلمہ طیبہ کا ورد جاری تھا۔ دہشت گرد یہ منظر دیکھ ایک بار تو دہل گئے تھے لیکن حیوانیت اور شیطانیت کے پُتلوں نے ان کے سر کی بے حرمتی کر کے تماشا کیا ۔ بے شک پاک فوج مومنوں کی سپاہ ہے جن کی رگوں کو کلمہ طیبہ کا نور جاوداں گرم رکھتا ہے۔
یہ سانحہ واقعہ کربلا کی یاد دلاتا ہے ، پوری فوج اپنے شہید کمانڈوز کی لاشوں کی بے حرمتی پر تڑپ اٹھی اور سوات کو مکمل طور پر خوارج سے آزاد کرانے میں ہر ایک افسر جان ہتھیلی پر لیکر اس محاذ میں جانے پر بے چین ہو گیا۔
کپٹن جنید ایاز خان 9 مئی 1983 کو کوئٹہ میں پیدا ہوئے اور دس مئی 2009 کے روز شہید کئے گئےانہوں نے سیکنڈری تعلیم انقرہ ترکی میں مکمل کی جہاں انکے والد پروفیسر ایاز خان تعینات تھے۔ کپٹن جنید ایاز خان نے پاکستان ملٹری اکیڈمی 2002 میں جوائن کی اور سپیشل فورسز کی ٹریننگ کے بعد 6 کمانڈوز سپیشل فورس رجمنٹ جوائن کرلی ، حکومت پاکستان نے انکی وطن کے لئے قربانی پر بعد از شہادت انہیں تمغہ بسالت عطا کیا تھا۔
کپٹن جنید ایاز خان کی چند ماہ بعد شادی ہونے والی تھی لیکن اس نے تو فرض سے بیاہ کر لیا تھا اس نے اپنے والدین کو آخری خط میں لکھا تھا امی جان ابو جان میں نے جس مشن کے ساتھ فوج جوائن کی تھی میں اسکی تکمیل میں مصروف ہوں بس یہ کہوں گا اگر کوئی ایسا واقعہ پیش آ گیا تو میری شہادت کی خبر سن کر آنسو نہ بہائیے گا۔
اے میری چشم تصوّر ذرا کپٹن جنید ایاز خان شہید سے یہ کہنا میرے شہید تم کتنے بختوں والے ہو تمہاری شہادت پر پوری قوم غمزدہ ہے ، تم نے ہمیں سفاک دشمن سے بچانے کے لئے اپنا سر تن سے جدا کروایا ، ہم تمہاری اس قربانی کو کبھی نہیں بھولیں گے۔


