پی آئی ڈی لاہور کے زیر اہتمام”فتنہ ہند اور ٹی ٹی پی: پاکستان کا ردعمل برائے امن، ترقی اور خوشحالی” کے موضوع پر پینل ڈسکشن کا انعقاد

لاہور۔پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ (پی آئی ڈی) لاہور کے زیر اہتمام”فتنہ ہند اور ٹی ٹی پی پاکستان کا ردعمل برائے امن، ترقی اور خوشحالی”کے موضوع پر بدھ کے روز پینل ڈسکشن کا انعقاد کیا گیا۔پینل میں ممتاز تجزیہ نگار سلمان ملک،سلمان غنی، نور اللہ، مہدی ، عائشہ جامعی،مجیب الرحمن شامی، خالد قیوم، ڈاکٹر احمد بسرا اور قیصر شریف نے شرکت کی۔شرکا پینل نے ملک دشمن پراپیگنڈے اور دہشت گردی جیسے خطرات سے نمٹنے کیلئے پاکستان کی حکمت عملی پر سیر حاصل گفتگو کی تاکہ ملک کو ایک مستحکم اور خوشحال مستقبل کی طرف گامزن کیا جا سکے۔نشست کا باقاعدہ آغاز ڈائریکٹر جنرل پی آئی ڈی لاہور شفقت عباس نے کیا اور شرکا کو خوش آمدید کہا۔ انہوں نے پاکستان کے اتحاد اور ترقی کے خلاف جاری گمراہ کن مہمات کے تدارک کیلئے کھلے مکالمے اور حقائق پر مبنی مباحثے کی اہمیت پر زور دیا۔اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے خالد قیوم نے کہا کہ بھارت کے ساتھ حالیہ کشیدہ صورتحال نے خطے میں اصل جارح کو بے نقاب کیا ہے جس سے پاکستان کی عالمی حیثیت مزید مستحکم ہوئی

ہے۔مہدی نے کہا کہ بروقت حکومتی اقدامات نے پاکستان کے عالمی سطح پر تنہائی کے بیانیے کو غلط ثابت کر دیا ہے اور اب پاکستان تجارت اور سفارت کاری میں دوبارہ فعال کردار ادا کر رہا ہے۔سلمان غنی نے اپنے خطاب میں10 مئی کے بعد کی صورتحال کا جائزہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کو جنگ میں ناکوں چنے چبوانے کے بعد پاکستان عالمی سطح پر ایک نئی توانائی اور وحدت کے ساتھ ابھر کر سامنے آیا ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت پاکستان میں امن و استحکام کے قیام سے خائف ہے،دشمن سے محتاط رویہ اختیار کرنا ہوگا۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان ایک مضبوط عسکری قوت کا حامل ملک ہے،اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنے آپ کو ایک معاشی قوت کے طور پر بھی ثابت کریں۔ڈاکٹر عائشہ جامعی نے "فتنہ ہند” کے اندرونی چیلنجز،خصوصا بیانیوں کی جنگ پر روشنی ڈالی اور اس بات پر زور دیا کہ مصنوعی ذہانت(AI) اور مستند ڈیٹا کے ذریعے پاکستان کے موقف کو عالمی سطح پر موثر طریقے سے اجاگر کیا جا سکتا ہے اور گمراہ کن بیانیوں کو رد کیا جا سکتا ہے۔نور اللہ نے مغرب سے مشرق کی طرف طاقت کی منتقلی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مشرقی ٹیکنالوجی بالخصوص چین کی ٹیکنالوجی نے کئی شعبوں میں مغربی،فرانسیسی اور اسرائیلی نظاموں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ڈاکٹر احمد بسرا نے سوشل میڈیا پر عوام کے مثبت کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ عوامی شعور اور ذمہ داری کے جذبے نے قومی بیانیے کو تقویت دی ہے۔ڈاکٹر قیصر شریف نے واضح لائحہ عمل کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے تمام متعلقہ اداروں کو اپنے مثبت پہلووں کو مزید مضبوط کرنے اور قومی یکجہتی کو فروغ دینے کی اہمیت پر زور دیا۔اختتامی کلمات میں سینئر صحافی مجیب الرحمن شامی نے پاکستان کی مستقل مزاج اور موثر سفارت کاری کو سراہا اور کہا کہ استقامت ہی طویل مدتی کامیابی کی کنجی ہے۔انہوں نے ملک میں بڑھتے ہوئے دہشت گردی کے خطرے سے خبردار کرتے ہوئے اس فتنہ کے خلاف متحدہ محاذ قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ ملک میں امن اور استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔شرکا نے ملک پاکستان کو امن، ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن رکھنے کیلئے قومی اتحاد کو فروغ دینے،باشعور مکالمے کو عام کرنے اور دشمن کے بیانیے کا حقائق اور وضاحت کے ساتھ بھرپور جواب دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔نشست کے اختتام پر ڈائریکٹر جنرل پی آئی ڈی لاہور شفقت عباس نے سینیئر صحافی سلمان غنی کو”ستارہ امتیاز” کے اعزاز پر مبارکباد دیتے ہوئے ان کی صحافت کے میدان میں شاندار خدمات کے اعتراف میں یادگاری شیلڈ پیش کی۔



