عالمی

🚨 لبنان میں اسرائیلی زمینی کارروائی کا آغاز

سرحدی کشیدگی میں شدت، خطے میں نئی جنگ کے خدشات بڑھ گئے

مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر شدید کشیدگی کی لپیٹ میں آ گیا ہے، جہاں اسرائیلی افواج نے لبنان کی سرزمین پر زمینی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔ اس پیش رفت کے بعد خطے میں جنگ کے پھیلاؤ کے خدشات مزید گہرے ہو گئے ہیں۔ اسرائیلی حکام کی جانب سے اس آپریشن کو سکیورٹی اقدامات کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ لبنان کی مزاحمتی تنظیموں نے اسے کھلی جارحیت قرار دیتے ہوئے سخت ردعمل کی وارننگ دی ہے۔

اطلاعات کے مطابق سرحدی علاقوں میں گزشتہ کئی روز سے جاری جھڑپوں اور راکٹ حملوں کے بعد اسرائیلی فوج نے اپنی بری افواج کو جنوبی لبنان کے مخصوص علاقوں میں داخل کیا۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد سرحدی علاقوں میں موجود خطرات کو ختم کرنا اور اپنے شہریوں کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔ دوسری جانب لبنان کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ یہ اقدام بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے اور اس سے خطے کا امن مزید متاثر ہوگا۔

علاقائی مبصرین کے مطابق یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پہلے ہی غزہ کی صورتحال کے باعث پورا خطہ غیر یقینی کیفیت کا شکار ہے۔ زمینی کارروائی کے آغاز سے دونوں جانب فوجی نقل و حرکت میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جبکہ سرحدی دیہاتوں سے شہریوں کی نقل مکانی کی اطلاعات بھی موصول ہو رہی ہیں۔ مقامی ذرائع کے مطابق جنوبی لبنان کے کئی علاقوں میں شدید گولہ باری کی آوازیں سنی گئی ہیں جس کے باعث خوف و ہراس کی فضا قائم ہے۔

لبنانی حکومت نے ہنگامی اجلاس طلب کر لیا ہے جس میں سکیورٹی صورتحال اور ممکنہ سفارتی اقدامات پر غور کیا جا رہا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ وہ عالمی برادری سے فوری مداخلت کا مطالبہ کریں گے تاکہ کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکا جا سکے۔ دوسری جانب اسرائیل میں بھی کابینہ کا اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں آپریشن کے اگلے مراحل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ کارروائی محدود نہ رہی تو یہ ایک وسیع علاقائی تنازع کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ خاص طور پر اس صورتحال میں جب مختلف علاقائی قوتیں پہلے ہی مختلف محاذوں پر متحرک ہیں۔ بعض ماہرین کے مطابق لبنان میں کسی بھی بڑی زمینی مداخلت سے نہ صرف انسانی بحران جنم لے سکتا ہے بلکہ اس کے اثرات عالمی سطح پر بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں، خاص طور پر تیل کی منڈیوں اور عالمی معیشت پر۔

عالمی سطح پر بھی ردعمل سامنے آنا شروع ہو گیا ہے۔ کئی ممالک نے فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور فوری جنگ بندی کی اپیل کی ہے۔ اقوام متحدہ کی جانب سے بھی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ خطے میں امن و استحکام کے لیے فوری سفارتی کوششیں ناگزیر ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی بڑے تصادم کی صورت میں عام شہری سب سے زیادہ متاثر ہوں گے۔

زمینی کارروائی کے باعث خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی مزید بڑھنے کا اندیشہ ہے۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ لبنان کا جغرافیہ اور وہاں موجود مسلح گروہوں کی صلاحیتیں کسی بھی فوجی پیش قدمی کو پیچیدہ بنا سکتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس آپریشن کے نتائج اور دورانیے کے بارے میں حتمی رائے دینا قبل از وقت ہوگا۔

موجودہ صورتحال نے ایک بار پھر مشرقِ وسطیٰ کے امن کو سوالیہ نشان بنا دیا ہے۔ اگر سفارتی کوششیں بروقت کامیاب نہ ہو سکیں تو یہ تنازع ایک بڑے بحران کی شکل اختیار کر سکتا ہے، جس کے اثرات نہ صرف لبنان اور اسرائیل بلکہ پورے خطے اور عالمی سیاست پر مرتب ہوں گے۔ دنیا بھر کی نظریں اس وقت سرحدی علاقوں پر مرکوز ہیں جہاں آنے والے دن اس کشیدگی کے مستقبل کا تعین کریں گے۔

رپورٹ: عبدالمومن

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button