گزشتہ سے پیوستہ۔۔۔آخری قسط۔۔۔۔ تاریخی کتاب سفر نو لکھی۔پیپلز پارٹی جوائن کی۔ پہلے بہت عزت ملی۔ حبیب جنیدی کا ملتمس ہوں مجھے پیپلز آفیسرز ایسوسی ایشن کا چیئرمین بنایا۔ اقرباء پروری اور مورثی سیاست آڑے آگئی۔ چار سال میں سب کے چہرے دیکھ لئے۔ صرف ناصر حسین شاہ بہترین اور غیر متعصب ہیں
تیسری قسط۔۔۔۔۔رضوان احمد فکری کی انٹرویو میں کھری کھری باتیں
مجھے1992کے بعد لانڈھی نہ چھوڑنے پر دومرتبہ اغوا کیا گیا۔ آج بھی وہ لوگ موجودہ ایم کیو ایم میں ہیں۔ لیکن معاف کیا۔ دفتر سے انور جعفری اور عزیز SHO۔ بعد میں نادر خان کے زریعے اغوا کیا گیا۔ فاروق ملک اور ایم این اے کے زریعے کیا گیا ایک دفعہ پٹری پر لٹا دیا گیا اور ٹرین کی آواز آنے لگی کلمہ پڑھادیا گیا۔ لیکن اسی وقت ایم این اے کا فون آیا کہ فوری چھوڑ دو نعمت اللہ خان سٹی ناظم نے معاملہ آگے بڑھا دیا ہے۔ دو دن بعد مرتضی چورنگی لایا گیا فائرنگ اسکواڈ تیار تھا رات کا تین بجے کا وقت تھا۔ فائرنگ کے آرڈر سے پہلے انور جعفری کو فون آیا کہ پرویز مشرف تک Matterچلا گیا ہے موت کو بہت قریب سے دیکھا۔ اللہ نے نعمت اللہ خان اور،محمد شاہد اور اسلم مجاہد کو فرشتہ بنا کر بھیجا۔ میرے اغوا کی CPفائل ہوئی تو ہماری گلو خلاصی ہوئی جب ججوں نے ایکشن لیا سلام ذبیحہ خٹک جج کو جو کسی پریشر میں نہیں آئیں۔ دوبارہ اغواا کیا تو گھر کے جو جوائنٹ فیملی کے کاغذات تھے رکھ کر بھتے کی رقم 28لاکھ مامگی گئی۔ چیک لکھوائے گئے۔ لیکن میں نے فریSUITمحمد فاروق ایڈیشنل جج کے پاس فائل کردیا۔ اسکے باوجود ماروائے قانون اسوقت کے MQMکے وزیر داخلہ نے چیک بانس کی FIRکا حکم دیا۔ ظلم کی اتنی داستانیں ہیں کہ سنا سنا کر تھک جائیں۔ لیکن یہ ضرور باور کروں گا کہ 1978میں APMSOبنی اور 1979میں جامعہ ملیر کالج سے ممبر شپ لی۔بڑے بڑے عہدوں پر رہا۔ آخری عہدہ نیوز انچارج کا تھا۔ جو دوبارہ واپسی پر ملا لیکن یہاں بھی سوتیلی ماں کا سلوک ہوا اور چند افراد نے کھیل کھیلا۔ جن پر تکیہ تھا جو گھر کے حالات سے واقف نہیں تھے انہوں نے ساتھ نہ دیا تو راستہ بدل لیا۔ تاریخی کتاب سفر نو لکھی۔پیپلز پارٹی جوائن کی۔ پہلے بہت عزت ملی۔سعید غنی نے ایس ایم نقی اور تحسین عابدی کے ہمارہ رمضان کے دن تھے افطار کے بعد تین تلوار پر زبردست ویلکم کیا۔ میڈیا سیل چلایا۔ جو ہم کراچی کی نیوز کور کرتے تھے۔ حبیب جنیدی کا ملتمس ہوں مجھے پیپلز آفیسرز ایسوسی ایشن کا چیئرمین بنایا۔ یہاں بھی گدھ موجود تھے۔ ہماری شخصیت ہضم نہیں ہوئی۔ ہمیں بعد میں اندازہ ہوا کہ یہاں میٹھی چھریاں اور پیٹھ پر چھرا گھونپنے والے لوگ ہیں۔جس میں اسلم سموں سہیل عابدی، حمید نے گڑھے کھودے۔پی پی پی جوائن کرنے کے باوجود ٹرانسفر پوسٹنگ کے پیسے مانگے گئے۔ چیئرمین بلاول بھٹو کے علم میں لانا چاہتا ہوں کہ بلاول ہاؤس کے نام سے ایک شیطان شعیب خان ہر مہینے بھتہ مانگنے اور مراعات لینے آنے لگا نام انور مجید اور اے جی صاحب کا استعمال کرتا تھا۔اکے بڑے بھائی آپکے خاص افراد میں سے ہیں۔افسوس ہے کہ پیپلزپارٹی کرپشن کرو اور حصہ دو پارٹی ثابت ہوئی۔ ناصر حسین شاہ نے بہت مثبت رویہ رکھا۔ پارٹی میں مرکزی عہدوں اور ابتدائی ورکر ہونے کے ناطے اسوقت میں سب سے بڑے عہدے دار تھا۔ بعد میں سینیٹرر اور اراکین اسمبلی بھی آگئے۔ خواجہ سہیل منصورجیسے انڈسٹرلسٹ کو جو رابطہ کمیٹی کے رکن تھے۔ الیکشن میں ہروادیا گیا۔ اسکے بعد جو انکے ساتھ سلوک ہوا وہ چھوڑ کر چلے گئے۔ بلاول بھٹو درست آدمی ہیں لیکن انکا سیکورٹی چیف اور اسکا بھائی شعیب اورنگی سمیت کورنگی، کے ڈی اے، ڈی ایم سی ویسٹ سے کروڑوں روپے لے کر گم ہیں۔ سیکورٹی انچارج ممکن ہیں شامل نہ ہوں لیکن شعیب نے نوکریوں کے نام پر لاکھوں روپے لے کر سندھ بنک طارق روڈ پر اکاؤنٹ کھلوائے اور جعلی کاغذات بنائے جس پر خلیق الرحمان، ضمیر عباسی اور ارشاد آرائیں و دیگر کے دستخط ہیں۔ سب موجود ہے۔ مہاجروں کا جینا پی پی پی میں حرام ہے وقار مہدی کی ناراضگی کی وجہ سہیل عابدی ہیں جو پارٹی کا کام کم کچھ دوسرے کام زیادہ کرتے ہیں۔ پارٹی میں انکی اہمیت نہیں ہے۔ لیکن پوزنگ وہ چیئرمین ہونے کی کرتے ہیں۔انکی بھی داستاں فرمائیشی پروگراموں اور پورا نہ کرنے پر منفی پروپیگنڈوں پر ہوتی ہے۔ اہلیہ By birthزمانہ طالب علمی سے پیپلزپارٹی کا حصہ ہے۔ آج بھی ہے۔ شممشاد بچانی، ذولفقار بچانی، ستار بچانی، ضیاء عباس شاہ، علی نواز شاہ و دیگر کی نظروں میں وہ ایک شاندار عہدیدار اور جیالی سے محروم ہوگئے۔ لیکن کراچی میں دس سال میں بھی سیاست کا شکار ہے۔ ہم جمہوریت پسند ہیں۔س لئے جسکا جو نظریہ ہواسے اس سے نہیں روکا جاسکتا۔ ہیرسوہو کے شوہر ایم کیو ایم میں ہیں۔ لیلی سواتی کے شوہر بھی ایم کیو ایم میں تھے۔ لیکن کسی نے بھی کسی کو اسکی سیاسی وابستگی سے نہیں روکا۔ جمیل ڈائری میرے خادم بنے رہتے تھے۔جو کچھ انہوں نے کیا، میئر اور علی محمد جان بتاسکتے ہیں۔2021میں نجمی عالم نے گھر بلا کر کہا جمیل ڈائری میرا بیٹا ہے جو کہے کرنا ہے۔ عوام کی جمیل ڈائری کے لئے رائے یہ ہی ہے کہ وہغازی گوٹھ میں منشیات فروش، لینڈگریبر ہے۔ 2017 ta 2019 -2020میں اسکی نیب میں شکایات موجود ہیں جو میں نے خود کیں جب یہ چیئرمین بھی نہیں تھا۔ اسکے گھر چھاپا پڑا تو تین کروڑ کیش ملا پی پی پی نوٹ کرے کہ یہ خود کہتا تھا کہ وقار مہدی کو ہر مہینے پیسے دیتا ہوں۔ کراچی کے صدر کو جلسے کے لئے ایک کروڑ دیئے، اسی لئے غلط کام کرتا ہوں ورنہ مجھے نکال پھینکیں۔ میرے ساتھ گن پوائنٹ پر کیا جانے والا ڈرامہ اسی کا بدلہ تھا۔ مزہب دشمن ہے۔ مفتی منیب الرحمان کا مدرسہ قانون کے مطابق رضا عباس رضوی نے SEctor 14-Aمیں دیا تو جب میئر افتتاح کرنے آئے اس نے کورٹ میں کیس کرکے ایڈمنسٹریٹرمرتضی وہاب کی کی تذلیل کی۔ افتتاح نہیں کرنے دیا۔ اسی طرح جعلی ویڈیو جب طاہریہ فاؤنڈیشن کی 1981سے 72ہزار گز کی لیز جو رضیہ سلام روحی کے زمانے سے
(2)
Pendingتھی۔ نقشہ میں بھی موجود ہے کچی آبادی رولز کے مطابق انکا حق ہے۔ انکی مسجد، خانقاہ اور مدرسے کی لیز جو قبضہ ہو ہوکر 32ہزار گز رہ گئی تھی۔ 1981میں انہون نے 72ہزار گز کا چالان بھی بھرا ہوا تھا۔ وسیم اختر میئر کے دور میں میونسپل کمشنر بدرجمیل نے منظوری دی۔ لیکن صرف انکے قبضے میں 32ہزار گز جگہ کی۔ 1981میں انکی لیز نہ ہونے کی وجہ یہ تھی کہ انکا ٹرسٹ نہیں تھا۔ لیکن ٹرسٹ غوثیہ طاہریہ فاؤنڈیشن بننے کے بعد انکی جگہ پر قبضے ہوتے چلے گئے۔یہ قبضے بھی چیئرمین موصوف کی جماعت کے لوگوں نے کئے۔ میئر کراچی کے دور میں انہوں نے اپنی پرانی اپروول کو جواز بنا کر تین حصوں میں لیز کے لئے Apply کیا۔ ان سے باقی جگہ Withdrawکراکے انکے موجود مسجد، مدرسہ اور خانقاہ جو سالہا سال سے Activeہیں۔انہیں نیب کی ایک جج کے طلب کرنے کے بعد کہ انہیں کیوں تنگ کیا جا رہا ہے۔ وہ خاتون جج اب بھی اینٹی کرپشن کورٹ میں موجود ہیں۔ جبکہ سینیٹر پیر صابر شاہ کا یہ سلسلہ ہے۔ سب رجسٹرار کی باز پرس کے بعد لیز پروسیس کیا گیا۔ جسکی تمام قانونی موشگافیاں پوری تھیں۔ موٖصوف چیئرمین نے نجمی عالم کے ساتھ ملکر بدلہ لیا اور ایک Plantedوی لاگ بنا کر ہیرو بننے کی کوشش کی۔ میئر کراچی اور انکے Coordinatorسکندر بلوچ نے اسکی جعلسازی پر ری ایکشن دینے سے روکا۔ جسکی وجہ ایک چیئرمین کی فراغت سے انکی میئر کی نشست کو خطرہ تھا۔ میں نے اور میرے ساتھیوں نے بہت ضبط کیا۔لیکن نیب، اینٹی کرپشن، پولیس، رینجرز اور سب کو آگاہ کیا کیوں کہ وہ سرکاری ریکارڈ اور پے آرڈرز بھی اٹھا کر لے گئے تھے۔ وہ اس سے انکارہی رہے لیکن چینلوں کے انٹرویوز میں نجمی عالم ان کاغذات کے ساتھ میڈیا پر آئے۔۔ انکوائری میں بھی چیئرمین اور دیگر قصوروار ثابت ہوئے لیکن سیاسی دباؤ پر معاملہ دبا لیا گیا لیکن محتسب کی عدالت میں عزرا مقیم نے رپورٹ جمع لرادی ہے۔ قیادت کے ایکشن نہ لینے کی وجہ سے اب اس شخص نے لینڈ پر مکمل قبضہ کرلیا ہے۔ جھوٹی فائلیں بنا کر 2009کے ایم کیو ایم کے لوگوں کو بھگا کر ڈبل لیزیں کرالی ہیں۔ ایم کیو ایم کی یہ غلطی ہے کہ انہیں Original فائل نہیں دیں۔ جو 22اگست 2016کی Raidsمیں چلی گئیں۔ اب یہ سب ڈبل لیز کے چکر ویو میں فائل نہ ہونے کی وجہ سے ذلیل،وخوار ہیں۔ زمینیں بھی چھن گئیں۔ جو حکومتی آشیرباد پر عدالتوں پر اثر انداز ہوکر چھنوائیں۔ پیپلز پارٹی میں غریب مہاجر کی کوئی حیثیت نہیں۔ تحسین عابدی کو ٹکٹ نہیں دیا گیا۔ Nepotism اقرباء پروری اور مورثی سیاست آڑے آگئی۔ چار سال میں سب کے چہرے دیکھ لئے۔ صرف ناصر حسین شاہ بہترین اور غیر متعصب ہیں۔ حبیب جنیدی سپورٹ کرنے کا جزبہ رکھنے کے باوجود اسلم سموں، نجمی عالم کے آگے ڈھیر ہوگئے۔ نجی محفلوں میں کہا جاتا تھا کہ ایم کیو ایم والے ہیں بھاگ جائیں گے۔ کراچی کے بلدیاتی اداروں میں جعلی بھرتیوں کی ایسی روایت قئم ہوئی ہے کہ اب مہاجر افسران اقلیت میں تبدیل ہوگئے ہیں۔ SCUGکے غیر قانونی Schedule of Establishmentپر جو کونسل کا اختیار ہے بھرتیاں غیر قانونی ہے۔ اسوقت پیپلزپارٹی کے ٹاؤنزمیں غیر مقامی افراد کی بھرتیاں زمینوں پر قبضے سے زیادہ خطرناک ہیں۔ میئر نے 90فیصد سندھی افسران کو سربراہ بنا دیا ہے۔ لوکل کونسل افسر کو غالی بنا دیا گیا ہے۔ ذاتی طور پر میئر کراچی مرتضی وہاب کو کراچی کے لئے Sincere پایا۔ پیپلز پارٹی نے منانے کی کوشش کی۔ جواب دیا کہ کہانیاں بنا کر سب کو گندا کردیں گے۔ ہم نے بھی پتے بچا کر رکھے ہیں۔کیا پیپلزپارٹی میں مہاجروں کی شمولیت سے فرق پڑھا۔ جی جناب ایسے ہی ووٹ نہیں پڑھ گئے۔ میرے ساتھیوں نے مختلف علاقوں میں دو سے تین ہزار ووٹ فیملیز کے دلوائے عوام الگ ہیں۔ مہاجر عوام نے کراچی میں بلاول بھٹو کا شاندار استقبال کیا۔ لیکن کراچی قیادت نے مہاجر لیڈرز کو جو پی پی پی میں شامل ہوگئے تھے۔ انہیں صرف الیکشن تک استعمال کیا۔ جب ایم کیو ایم سے Tussleہوئی تو یہ یاد آگئے۔ ورنہ مولانا تنویر الحق تھانوی، کرنل طاہر مشہدی، علی حسن، سیف یار خان، انیس ایڈووکیٹ، رضا ہارون وقار شاہ، مذمل قریشی، شیراز وحید، سلیم بندھانی، وسیم قریشی، طاہر جمیل درانی، رضوان احمد فکری، ایس ایم نقی، تحسین عابدی، شمشاد غوری، سمیت پی ٹی آئی، پی ایس پی، مہاجر قومی موومنٹ، ایم کیو ایم پاکستان، فنکشنل لیگ، سمیت جتنے شامل ہوئے کہیں بھی انکی اہمیت نہیں۔ لابنگ ہیں۔ غیر مہاجر نفرت کرتے ہیں۔ ایک پارک تحسین عابدی کے شہید بھائیوں کے نام پر میئر نے رکھا تو ضلع وسطی میں بغاوت ہوگئی۔ ضلع وسطی میں مہاجروں کے شادی ہال توڑ دیئے گئے۔ تجاوازت کے نام پر مہاجر بے گھر کئے جا رہے ہیں۔ کیا چاہتے ہیں سب کرمنل ہوجائیں۔ دادو میں پوری مین مارکیٹ پر قبضے ہیں۔ زمینیں چھن رہی ہیں۔ حیدر آباد میں مہاجروں کو انتقامی کاروائیوں کا سامنا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ مہاجروں کے ساتھ جو کچھ 1978میں نہیں ہوا اب ہورہا ہے۔ ایم کیو ایم کے افسران بھی Black Sheeps ہیں۔ عزرا مقیم خود کو سب سے بڑا قانون داں اور اہل سمجھتی ہیں مہاجر افسران کے خلاف لکھنے اور انہیں نقصان پہنچانے میں انکا کوئی ثانی نہیں۔ عدالتوں میں انکے پاس کیس کا Statusنہیں ہوتا۔ ریٹائرڈ افسر کے واجبات اسکی PPکی Payment نہ کرکے بددعاؤں کو سمیٹ رہی ہیں۔ چائنا کٹنگ میں بھی شامل ہیں لیکن پارسا بننا انکی دھوکہ دینے کی بدترین کوشش ہے۔ اٖفضل زیدی انکے اشاروں پر ناچتے ہیں۔ مہاجر ملازمین و افسران کو ان سے زیادہ کسی نے نقصان نہیں دیا۔ یہ افسروں کے ساتھ نہیں بلکہ پنجاب سے تعلق ہونے کی وجہ سے وہیں کی سوچ رکھتے ہیں۔مسرت علی خان، عمران راجپوت، احتشام کمالی، آفاق مرزا،عمران صدیقی، فیصل رضوی، س میت متعدد افسران گڑ ؓبڑ گٹالوں کا مرکزی کردار ہیں۔بل پرنٹ اور دیگر ادائیگیوں کے لئے بھاری
(3)
رقوم مانگی جاتی ہیں۔ بہرحال یہ تو اپنی جگہ پی پی پی اور جماعت اسلامی کے ٹاؤنز میں بھی انتقام کی سیاست عروج پر ہے۔ آپ نے پیپلزپارٹی میں جاکر قومی سیاست میں حصہ نہیں لیامہاجر سیاست کیوں کی؟ ہرگزنہیں۔ قومی سیاست پر بیان دیئے جتنا ہم نے کراچی میں پی پی پی کو اٹھایا۔ وہ قومی سیاست تھی۔ مہاجر سیاست اس لئے زندہ ہوئی کہ گوٹھوں کے
لوگوں کو ترجیح ہمیں نظر انداز کیا جاتا ہے۔ انہیں ووٹر ہونے کے ناطے آؤٹ آف وے فیور ملتے ہیں۔ ہم کیا اس ملک کے شہری نہیں ہیں۔ ہم کوئی بھی کام کرائین تو رشوت دے کر وہ بھی معمولی۔ نوکری کا سوال ہی نہیں ہوتا۔ جنکی ہیں انکی تنخواہیں بند کردی ہیں۔ میئر چاہیں تو کراچی کے لوگوں کا فیور کریں لیکن انکی بھی چھٹی ہوجائے گی۔ وہ KMC Asstesکے لئے لڑے لیکن انہیں عدالت لے گئے۔ میئر کو فری ہینڈ نہیں۔ لوکل گورنمنٹ میگا اسکینڈل نیب نے دبا دیا۔ میئر سے میگا پروجیکٹ چھین لئے۔ فوزیہ وہاب کے ساتھ کام کیا وہ بھی بہادر اور ڈٹ جانے والی تھیں۔ چاندنی چوک پر گھر تھا۔ میئر بھی بولڈ ہیں لیکن ملیر، گڈاپ، منگھو پیر، اورنگی انکے قابو میں نہیں۔ 128ارب کراطی پروجیکٹ کا نگراں وزیر اعلی کو میئر کراچی کو بنانا چاہئے۔ سوال اب کس جماعت میں جائیں گے۔ وقت فیصلہ کرے گا۔ اینٹی کرپشن پر کڑی تنقید کرتے ہوئے انکا کہنا تھا کہ پی پی پی نے مجھے Paralizeاور میری ایک رگ ہائی بلڈ پریشر سے پھٹنے کا تحفہ دیا۔ لیکن امتیاز ابڑو جو کے ایم سی میں ہر محکمے میں رہے انکے ساتھ اچھے مراسم ہیں لیکن وہ کے ایم سی کو روز 15,15,20,20نوٹس بھجواتے ہیں جو مہاجر افسران کے لئے ہوتے ہیں۔ وہ اگر یہ نہیں کر رہے تو نوٹس لیں۔ ورنہ ہماری دوڑ آئینی عدالت میں ہوگی۔ لسانی دہشت گردی نہیں کرنے دیں گے۔ کلک اور Steveta سمیت اندرون سندھ محکموں کا آڈٹ کریں۔ صرف کراچی اور حیدر آباد کیوں؟ KMC,KDA, HMC, HDAٹارگٹ کیوں؟ کیا ہمیں کسی وہائٹ پیپیر کی تیاری کرنی ہوگی۔ اورنگی، کورنگی، صفورا، سہراب گوٹھ، منگھو پیر کے جعلی کیسوں پر انکوائریز کیوں دبا رہے ہیں۔ کسی مہاجر کو ٹارگٹ کریں گے تو لاوارث نہیں۔


