چیف جسٹس آف پاکستان کی اصلاحاتی ایجنڈے پر بار ایسوسی ایشنز سے مشاورت، شہری مرکز انصاف کی فراہمی پر زور
سپریم کورٹ میں مانسہرہ اور کوہاٹ بار ایسوسی ایشنز کے وفود سے ملاقات، عدالتی اصلاحات، انفراسٹرکچر اور نوجوان وکلا کی تربیت پر تفصیلی تبادلہ خیال

چیف جسٹس آف پاکستان نے عدالتی نظام میں اصلاحات، شہریوں کو بروقت انصاف کی فراہمی اور قانونی سہولیات میں بہتری کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے ضلع مانسہرہ اور ضلع کوہاٹ کی ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشنز کے وفود سے سپریم کورٹ آف پاکستان میں ملاقات کی۔ یہ ملاقات عدالتی اصلاحات کے حوالے سے اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے تسلسل کا حصہ تھی، جس کا مقصد وکلا برادری کو اصلاحاتی عمل میں فعال طور پر شامل کرنا اور نچلی سطح پر درپیش مسائل سے براہِ راست آگاہی حاصل کرنا ہے۔
ملاقات کے دوران چیف جسٹس آف پاکستان نے وفود کو آگاہ کیا کہ وہ ذاتی طور پر ملک کے مختلف دور دراز اور پسماندہ علاقوں کا دورہ کر چکے ہیں، جہاں عدالتی نظام اور انصاف کی فراہمی میں درپیش عملی مشکلات کا مشاہدہ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ان دوروں کا مقصد انصاف تک رسائی کے پروگرام کے تحت فنڈز کی بروقت تقسیم میں حائل رکاوٹوں اور مختلف اداروں کے درمیان رابطے کے فقدان کی نشاندہی کرنا تھا۔
چیف جسٹس نے وفود کو بتایا کہ ان مسائل کے حل اور سروس ڈیلیوری کو مؤثر بنانے کے لیے صوبوں میں ریزیڈنٹ ایڈیشنل سیکریٹریز کی تقرری عمل میں لائی گئی ہے، تاکہ مقامی سطح پر عدالتی منصوبوں کی نگرانی بہتر انداز میں کی جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اصلاحاتی منصوبوں کے تحت سولرائزیشن، ای لائبریریز کا قیام، خواتین کے لیے سہولت مراکز اور صاف پینے کے پانی کی فراہمی کو ترجیحی بنیادوں پر شامل کیا گیا ہے۔
چیف جسٹس آف پاکستان نے عدالتی اصلاحات پر جاری پیش رفت سے بھی وفود کو آگاہ کیا اور بتایا کہ عدالتی انفراسٹرکچر کی بہتری، عدالتی عمارتوں کی اپ گریڈیشن اور انصاف تک عام شہری کی رسائی کو یقینی بنانے کے منصوبے تیزی سے جاری ہیں، جن کی تکمیل کا ہدف اگست 2026 مقرر کیا گیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ عدلیہ شہریوں کو سہولت فراہم کرنے والا نظام تشکیل دینے کے لیے پُرعزم ہے، جس میں شفافیت، رفتار اور پائیداری کو بنیادی ستون تصور کیا جا رہا ہے۔
ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کوہاٹ کے وفد نے ملاقات کے دوران نوجوان وکلا کی استعداد کار بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔ وفد نے ای لائبریری کی توسیع اور بار روم میں صاف پینے کے پانی کی سہولت کی فراہمی پر چیف جسٹس کا شکریہ ادا کیا اور ان اقدامات کو وکلا برادری کے لیے نہایت مفید قرار دیا۔ وفد کے اراکین کا کہنا تھا کہ جدید قانونی وسائل تک رسائی نوجوان وکلا کی پیشہ ورانہ تربیت میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔
اس موقع پر چیف جسٹس آف پاکستان نے وفد کو فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی کے زیر اہتمام جاری کنٹینیونگ لیگل ایجوکیشن پروگرامز کے بارے میں بریفنگ دی۔ انہوں نے بتایا کہ یہ تربیتی پروگرام نوجوان وکلا کو قانونی مہارتیں بہتر بنانے اور جدید عدالتی تقاضوں سے ہم آہنگ ہونے کا موقع فراہم کر رہے ہیں۔ چیف جسٹس نے مزید کہا کہ ان تربیتی پروگرامز کا مکمل کیلنڈر فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی کے پلیٹ فارم پر دستیاب ہے، جہاں سے وکلا آسانی سے معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔
ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن مانسہرہ کے وفد نے عدالتی کمپلیکس میں انفراسٹرکچر سے متعلق مسائل اور صاف پانی کی عدم دستیابی کی نشاندہی کی۔ وفد نے کہا کہ بنیادی سہولیات کی کمی سے وکلا اور سائلین دونوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس پر چیف جسٹس آف پاکستان نے فوری نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ ریزیڈنٹ ایڈیشنل سیکریٹری کو ہدایت کی کہ وہ موقع کا دورہ کریں اور مسائل کے فوری حل کو یقینی بنائیں۔
چیف جسٹس نے اس موقع پر کہا کہ بار اور بینچ کا مضبوط تعلق انصاف کی بروقت اور مؤثر فراہمی کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ وکلا عدالتی نظام کا اہم ستون ہیں اور ان کی مشاورت کے بغیر اصلاحاتی عمل مکمل نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ وکلا برادری کے مسائل اور تجاویز کو اصلاحاتی ایجنڈے کا حصہ بنایا جائے گا۔
ملاقات کے اختتام پر وفود نے چیف جسٹس آف پاکستان کے اقدامات کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ ان اصلاحات سے نہ صرف عدالتی نظام مضبوط ہوگا بلکہ عام شہری کو بھی انصاف کے حصول میں آسانی میسر آئے گی۔ وفود نے چیف جسٹس کے شہری مرکز انصاف کے وژن کی مکمل حمایت کا اعلان کیا۔
عدالتی ماہرین کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان کی جانب سے بار ایسوسی ایشنز کے ساتھ براہِ راست رابطہ ایک مثبت پیش رفت ہے، جو عدالتی نظام میں شفافیت، جوابدہی اور عوامی اعتماد کے فروغ میں اہم کردار ادا کرے گی۔


