پی ایم ایل ن نے اہم آئینی و مالی اصلاحات پر پیپلز پارٹی کی حمایت حاصل کر لی: حذیفہ رحمان
سیاسی مکالمہ جمہوری عمل کی بنیاد، 18ویں ترمیم اور این ایف سی ایوارڈ پر اتفاق رائے خوش آئند قرار

وزیر مملکت اور وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی حذیفہ رحمان نے بدھ کے روز انکشاف کیا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) نے اپنی اتحادی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کو اہم آئینی اور مالی اصلاحات کی حمایت پر قائل کر لیا ہے، جن میں 18ویں آئینی ترمیم اور قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جمہوری نظام میں اختلافِ رائے ایک فطری عمل ہے، تاہم مسائل کا حل صرف اور صرف مکالمے کے ذریعے ممکن ہے۔
ایک نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے حذیفہ رحمان نے کہا کہ پیپلز پارٹی بدستور حکومت کی ایک اہم اتحادی جماعت ہے اور دونوں جماعتوں کے درمیان اتحاد آئندہ بھی برقرار رہے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی ہم آہنگی اور اتفاقِ رائے کے بغیر ملک میں پائیدار استحکام اور مؤثر حکمرانی ممکن نہیں۔
وزیر مملکت نے تصدیق کی کہ پیپلز پارٹی کی قیادت کو این ایف سی ایوارڈ اور 18ویں ترمیم دونوں پر حمایت کے لیے قائل کر لیا گیا ہے۔ انہوں نے اس پیش رفت کو وفاقی نظام اور جمہوری اداروں کے استحکام کے لیے نہایت اہم قرار دیا۔ ان کے مطابق وفاق اور صوبوں کے درمیان بہتر ہم آہنگی سے نہ صرف وسائل کی منصفانہ تقسیم ممکن ہو گی بلکہ عوامی خدمات کی فراہمی میں بھی بہتری آئے گی۔
حذیفہ رحمان نے کہا کہ موجودہ سیاسی اتفاقِ رائے کا سب سے بڑا فائدہ ملکی معیشت کو ہو گا۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی استحکام سے سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو گا، معاشی سرگرمیوں میں اضافہ ہو گا اور ملک کو درپیش اقتصادی چیلنجز سے نمٹنے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ معاشی ترقی کے لیے سیاسی ہم آہنگی ناگزیر ہے۔
دفاعی اہلکاروں اور پنشنرز سے متعلق ایک سوال کے جواب میں وزیر مملکت نے واضح کیا کہ وفاقی حکومت ہر حال میں دفاعی اہلکاروں اور پنشنرز کے حقوق کا تحفظ جاری رکھے گی، چاہے مستقبل میں کوئی بھی سیاسی جماعت اقتدار میں آئے۔ انہوں نے کہا کہ ملکی دفاع اور قومی خدمت انجام دینے والوں کی فلاح و بہبود ایک قومی ذمہ داری ہے جس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن سے متعلق سوال پر حذیفہ رحمان نے کہا کہ اگر جے یو آئی (ف) کو کسی معاملے پر تحفظات ہیں تو انہیں بات چیت کے ذریعے دور کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لے کر چلنا ہی جمہوری عمل کا حسن ہے اور اسی طریقے سے قومی یکجہتی کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔
اپوزیشن لیڈر سے متعلق ایک سوال کے جواب میں وزیر مملکت نے انکشاف کیا کہ ابتدا میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اندر اچکزئی کے معاملے پر اتفاق موجود نہیں تھا، تاہم اب پی ٹی آئی کی رضامندی اور وسیع تر سیاسی اتفاقِ رائے کے بعد توقع ہے کہ یہ انتخاب جمعرات یا جمعہ تک آئینی طریقہ کار کے مطابق مکمل ہو جائے گا۔
چارٹر آف ڈیموکریسی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے حذیفہ رحمان نے کہا کہ یہ ایک نہایت اہم قومی دستاویز ہے اور اس سے متعلق تمام امور کو مذاکرات کی میز پر حل کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے تمام سیاسی قوتوں پر زور دیا کہ ذاتی و جماعتی مفادات سے بالاتر ہو کر ملکی مفاد کو ترجیح دی جائے۔
وزیر مملکت نے کہا کہ سیاسی بالغ نظری، باہمی احترام اور مکالمے کی سیاست ہی پاکستان کو استحکام، ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کر سکتی ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ موجودہ سیاسی ہم آہنگی مستقبل میں بھی برقرار رہے گی اور ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے میں معاون ثابت ہو گی۔



