پنجاب کے اسکولوں کے لیے نئے قوانین: چھوٹے پلاٹس پر قائم تعلیمی ادارے بند کرنے کا فیصلہ (2026)
حکومتِ پنجاب کا تعلیمی معیار بہتر بنانے کے لیے بڑا اقدام، 10 مرلہ سے کم رقبے پر قائم اسکول غیر قانونی قرار

حکومتِ پنجاب نے صوبے بھر کے نجی تعلیمی اداروں کے لیے نئے اور سخت قوانین کا اعلان کر دیا ہے جن کے تحت ایسے تمام اسکول جو 10 مرلہ سے کم رقبے پر قائم ہیں، انہیں بند کرنے یا بڑے پلاٹ پر منتقل ہونے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس فیصلے کا مقصد تعلیمی معیار کو بہتر بنانا، طلبہ کو محفوظ ماحول فراہم کرنا اور اسکولوں میں بنیادی سہولیات کی دستیابی کو یقینی بنانا ہے۔
پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن اور محکمہ تعلیم کے حکام کے مطابق چھوٹے پلاٹس پر قائم زیادہ تر اسکول رہائشی گھروں یا تنگ عمارتوں میں چل رہے ہیں جہاں نہ تو کھیل کے میدان موجود ہیں اور نہ ہی لیبارٹری، لائبریری اور صفائی کے مناسب انتظامات۔ ایسے ماحول میں بچوں کی ذہنی اور جسمانی نشوونما متاثر ہوتی ہے، اسی لیے حکومت نے کم از کم 10 مرلہ رقبہ لازمی قرار دیا ہے۔
نئے قواعد کے تحت اسکول انتظامیہ کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ مقررہ مدت کے اندر یا تو اپنے ادارے کو وسیع جگہ پر منتقل کریں، عمارت میں توسیع کریں یا پھر اسکول بند کر دیں۔ محکمہ تعلیم کی ٹیمیں مختلف اضلاع میں سروے کر کے ان اداروں کی فہرست تیار کر رہی ہیں جو اس شرط پر پورا نہیں اترتے۔
اس فیصلے سے خاص طور پر شہری علاقوں کے چھوٹے نجی اسکول زیادہ متاثر ہوں گے کیونکہ گنجان آبادی میں بڑے پلاٹس کا حصول آسان نہیں۔ تاہم حکومتی مؤقف ہے کہ بچوں کی حفاظت اور معیاری تعلیم کسی بھی کاروباری مفاد سے زیادہ اہم ہے۔ ماہرین تعلیم نے اس اقدام کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے غیر معیاری اسکولوں کی حوصلہ شکنی ہوگی۔
دوسری جانب والدین میں تشویش بھی پائی جاتی ہے کہ کہیں اسکولوں کی بندش سے بچوں کی تعلیم متاثر نہ ہو۔ بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ حکومت کو چھوٹے اسکولوں کو مکمل بند کرنے کے بجائے مرحلہ وار بہتری کا موقع دینا چاہیے۔
محکمہ تعلیم کے مطابق جو ادارے نئے معیار پر پورا اتریں گے انہیں رجسٹریشن کی تجدید اور دیگر سہولیات فراہم کی جائیں گی، جبکہ خلاف ورزی کرنے والے اسکولوں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔


