پاکستان میں عید سے قبل سونے کی قیمت میں 24 ہزار روپے سے زائد کی بڑی کمی
فی تولہ سونا 4 لاکھ 99 ہزار 462 روپے پر آ گیا، عالمی مارکیٹ میں بھی نمایاں کمی ریکارڈ

ملک بھر میں عیدالفطر سے قبل سونے کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے، جس نے خریداروں کے لیے ایک خوش آئند صورتحال پیدا کر دی ہے۔ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق فی تولہ سونے کی قیمت میں 24 ہزار 300 روپے کی بڑی کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس کے بعد نئی قیمت 4 لاکھ 99 ہزار 462 روپے ہو گئی ہے۔
آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق سونے کی قیمتوں میں یہ کمی نہ صرف مقامی بلکہ عالمی مارکیٹ میں ہونے والی گراوٹ کا نتیجہ ہے۔ عید سے قبل عام طور پر سونے کی طلب میں اضافہ دیکھا جاتا ہے، تاہم اس مرتبہ قیمتوں میں کمی نے مارکیٹ کے رجحان کو یکسر بدل دیا ہے۔
ایسوسی ایشن کے مطابق 10 گرام سونے کی قیمت میں بھی واضح کمی سامنے آئی ہے، جہاں 20 ہزار 833 روپے کی کمی کے بعد نئی قیمت 4 لاکھ 28 ہزار 208 روپے ہو گئی ہے۔ اس اچانک کمی نے نہ صرف خریداروں بلکہ سرمایہ کاروں کی توجہ بھی اپنی جانب مبذول کر لی ہے، جو سونے کو ایک محفوظ سرمایہ کاری سمجھتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں کمی بنیادی طور پر ڈالر کی مضبوطی، عالمی معاشی حالات اور شرح سود میں تبدیلیوں کے باعث ہوئی ہے۔ عالمی سطح پر سونے کا بھاؤ 243 ڈالر کم ہو کر 4767 ڈالر فی اونس تک آ گیا ہے، جس کے اثرات براہ راست مقامی مارکیٹ پر بھی پڑے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں یہی رجحان برقرار رہا تو آئندہ دنوں میں سونے کی قیمتوں میں مزید اتار چڑھاؤ دیکھنے کو مل سکتا ہے۔ تاہم عید سے قبل قیمتوں میں اس بڑی کمی نے شہریوں کو زیورات کی خریداری کا ایک بہتر موقع فراہم کیا ہے، خاص طور پر ان افراد کے لیے جو شادیوں یا تہوار کے موقع پر سونا خریدنے کا ارادہ رکھتے تھے۔
دوسری جانب جیولرز کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں کمی کے باوجود خریداری کا رجحان ابھی مکمل طور پر بحال نہیں ہوا، تاہم آئندہ چند دنوں میں اس میں اضافہ متوقع ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ عید کی آمد کے ساتھ مارکیٹ میں سرگرمیاں بڑھیں گی اور کاروبار میں بہتری آئے گی۔
یہ امر قابل ذکر ہے کہ سونے کی قیمتیں عالمی اور مقامی عوامل کے زیر اثر مسلسل تبدیل ہوتی رہتی ہیں، جن میں کرنسی کی قدر، عالمی سیاسی و معاشی صورتحال اور طلب و رسد کا توازن شامل ہے۔ اس لیے سرمایہ کاروں اور خریداروں کو چاہیے کہ وہ مارکیٹ کے رجحانات پر گہری نظر رکھیں۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو عید سے قبل سونے کی قیمتوں میں یہ بڑی کمی عوام کے لیے ایک اہم ریلیف ثابت ہو سکتی ہے، جبکہ مارکیٹ میں نئی سرگرمیوں کے آغاز کا بھی امکان ہے۔



