سندھ حکومت کے کفایت شعاری اقدامات، 60 فیصد سرکاری گاڑیاں گراؤنڈ کرنے کا فیصلہ
ایندھن اخراجات میں کمی اور وسائل کے مؤثر استعمال کے لیے 47 سے زائد محکموں کی 1524 گاڑیاں بند، اہم و ہنگامی گاڑیاں مستثنیٰ قرار

سندھ حکومت نے بڑھتے ہوئے مالی دباؤ اور ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے پیش نظر کفایت شعاری پالیسی پر عملدرآمد کو مزید سخت کرتے ہوئے ایک بڑا فیصلہ کیا ہے۔ سندھ کابینہ کی ذیلی کمیٹی برائے کفایت شعاری کے تحت صوبے کے مختلف سرکاری محکموں کی 60 فیصد گاڑیوں کو گراؤنڈ کر دیا گیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد حکومتی اخراجات میں نمایاں کمی لانا اور دستیاب وسائل کا مؤثر استعمال یقینی بنانا ہے۔
صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ و اطلاعات شرجیل انعام میمن کے مطابق، مجموعی طور پر 47 سے زائد سرکاری محکموں میں موجود 2837 گاڑیوں میں سے 1524 گاڑیوں کو گراؤنڈ کیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ ایک جامع جائزے کے بعد کیا گیا، جس میں ہر محکمہ کی ضروریات اور استعمال کے رجحانات کو مدنظر رکھا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ جن محکموں کی گاڑیاں گراؤنڈ کی گئی ہیں ان میں صحت، خزانہ، اسکول ایجوکیشن، انرجی اور اینٹی کرپشن جیسے اہم شعبے بھی شامل ہیں۔ بعض محکموں میں گاڑیاں گراؤنڈ کرنے کی شرح 65 فیصد سے بھی تجاوز کر گئی ہے، جبکہ انٹر پروونشل کوآرڈینیشن ڈیپارٹمنٹ میں تمام سرکاری گاڑیاں مکمل طور پر بند کر دی گئی ہیں۔
شرجیل انعام میمن کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ بڑھتے ہوئے ایندھن کے اخراجات کے پیش نظر کیا گیا ہے، کیونکہ حکومت کو ہر سطح پر مالی نظم و ضبط قائم رکھنے کی ضرورت ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اس اقدام سے نہ صرف اخراجات میں کمی آئے گی بلکہ توانائی کی کھپت میں بھی واضح کمی ہوگی، جو موجودہ معاشی حالات میں ایک ناگزیر ضرورت ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ کفایت شعاری کے ان اقدامات کا مقصد صرف اخراجات کم کرنا نہیں بلکہ حکومتی وسائل کو بہتر انداز میں استعمال کرنا بھی ہے۔ اس کے ذریعے سرکاری اداروں میں غیر ضروری استعمال کی حوصلہ شکنی ہوگی اور ایک ذمہ دارانہ طرزِ حکمرانی کو فروغ ملے گا۔
صوبائی وزیر نے اس بات پر زور دیا کہ سندھ حکومت ملکی مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے کفایت شعاری پالیسی پر سختی سے عملدرآمد کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام متعلقہ محکموں کو ہدایت جاری کی گئی ہے کہ وہ اس پالیسی پر مکمل عمل کریں اور کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس حکومتی اقدام سے ایندھن کی مد میں کروڑوں روپے کی بچت متوقع ہے، جو دیگر عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں پر خرچ کی جا سکے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ، یہ قدم ماحولیاتی بہتری میں بھی معاون ثابت ہوگا کیونکہ گاڑیوں کے کم استعمال سے آلودگی میں کمی آئے گی۔
تاہم، حکومت نے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ عوامی خدمات متاثر نہ ہوں۔ اسی لیے ضروری اور ہنگامی نوعیت کی گاڑیاں بدستور استعمال میں رہیں گی، تاکہ صحت، ہنگامی امداد اور دیگر اہم خدمات کی فراہمی میں کوئی رکاوٹ نہ آئے۔
یہ فیصلہ سندھ حکومت کے اس عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ مشکل معاشی حالات میں بھی ذمہ دارانہ فیصلے کرتے ہوئے مالی استحکام اور وسائل کے مؤثر استعمال کو یقینی بنائے گی۔



