پاکستان میں زراعت اور اس سے وابستہ ایکسپورٹ مشکلات کا شکار ہے شیخ امتیاز حسین
انفراءاسٹیکچرکی بحالی کےلئے کسانوں کو مالی تعاون فراہم کیا جا ئے تا کہ پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہو سکے اور ملکی معیشت ترقی کرے اور ملک میں خوشحالی آئے

کراچی (اسٹاف رپورٹر)پاکستان میں زراعت اور اس سے وابستہ ایکسپورٹ مشکلات کا شکار ہے یہ بات پاکستان ایگریکلچر اینڈ ہارٹی کلچر فورم کے پریذیڈینٹ شیخ امتیاز حسین نے ایک بیان میں کہی انہوں نے کہا کہ انفراءاسٹیکچر کی بحالی کےلئے کسانوں کو مالی تعاون فراہم کیا جا ئے تا کہ پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہو سکے اور ملکی معیشت ترقی کرے اور ملک میں خوشحالی آئے شیخ امتیاز حسین نے کہا کہ پاکستان میں زراعت کے شعبے میں ترقی اس وقت ممکن ہے جب جدید ٹیکنالوجی، تحقیق اور کسانوں کی تعلیم و تربیت کو فروغ دیا جائے جبکہ پانی کے موثر استعمال، معیاری بیجوں کی فراہمی، اور جدید زرعی مشینری کے استعمال سے پیداوار میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے حکومت کو چاہیے کہ وہ کسانوں کو آسان قرضے، سبسڈی، اور زرعی مارکیٹ تک براہ راست رسائی فراہم کرے تاکہ وہ اپنی پیداوار بہتر قیمت پر فروخت کر سکیں کیونکہ پیاز اور ٹماٹرکی کاشت کرنے والے کسانوں کومارکیٹ میں پیاز اور ٹماٹر کی طلب کم ہونے سے شدید مالی مشکلات کا سامنا ہے انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے جامع پالیسی سازی اور زرعی تحقیقاتی اداروں کو مضبوط بنانا بھی ناگزیر ہے پاکستان میں زراعت کی ترقی کے لیے دیہی علاقوں میں بنیادی ڈھانچے کی بہتری نہایت ضروری ہے اس کے علاوہ کسانوں کو موسمی پیشگوئی، منڈی کی معلومات، اور جدید طریقہ کاشتکاری سے متعلق آگاہی فراہم کرنا بھی ضروری ہے تا کہ وہ بہتر فیصلے کر سکیں شیخ امتیاز حسین نے کہاکہ زرعی یونیورسٹیوں اور تحقیقاتی مراکز کو کسانوں کے ساتھ براہِ راست رابطہ بڑھا کر نئی اقسام کی فصلیں اور بیماریوں سے بچاو کے طریقے متعارف کروانے چاہئیں اگر حکومتی ادارے، نجی شعبے اور کسان مل کر کام کریں تو زراعت کو نہ صرف خود کفیل بنایا جا سکتا ہے بلکہ برآمدات کے ذریعے قیمتی زرمبادلہ بھی حاصل کیا جا سکتا ہے انہوں نے کہا کہ زراعت سے متعلق برآمدات میں اضافے کے لیے سب سے پہلے فصلوں کے معیار کو بین الاقوامی معیارات کے مطابق بنانا ضروری ہے اس کے لیے جدید کاشتکاری طریقوں، معیاری بیجوں، اور کیمیکل فری پیداوار کو فروغ دینا چاہیے جس کے لئے حکومت کو چاہیے کہ وہ زرعی مصنوعات کے لیے بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی آسان بنائے، تجارتی معاہدے کرے، اور برآمد کنندگان کو مالی اور تکنیکی معاونت فراہم کرے شیخ امتیاز حسین نے کہا کہ جدید پیکنگ، کولڈ اسٹوریج، اور لاجسٹکس نظام کو بہتر بنا کر زرعی مصنوعات کی شیلف لائف میں اضافہ کیا جا سکتا ہے جو برآمدات کے لیے اہم ہے جبکہ کسانوں اور برآمد کنندگان کو عالمی مارکیٹ کی طلب اور رجحانات سے آگاہ رکھنے کے لیے موثر معلوماتی نظام قائم کرنا بھی ناگزیر ہے ان تمام اقدامات سے زراعت کا شعبہ مضبوط ہو کر ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔


