پاکستان میں ایم-ٹیگ اسٹیشنز: ٹریفک کے بہاؤ کو آسان بنانے کی نئی حکمتِ عملی
موٹر سائیکل اور گاڑیوں کے لیے ایم-ٹیگ لازمی قرار، رمضان میں سہولت کے لیے نئے اوقات کا اعلان

اسلام آباد اور گردونواح میں ایم-ٹیگ اسٹیشنز کا قیام شہریوں کے لیے سہولت اور ٹریفک کے بہتر انتظام کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ ایم-ٹیگ ایک RFID پر مبنی ڈیجیٹل نظام ہے جو گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کو ٹول پلازہ پر بغیر رکے گزرنے کی سہولت فراہم کرتا ہے۔ اس نظام کے ذریعے نہ صرف وقت کی بچت ہوتی ہے بلکہ ٹریفک جام اور لمبی قطاروں سے بھی نجات ملتی ہے۔
اسلام آباد انتظامیہ نے فروری 2026 سے موٹر سائیکلوں کے لیے بھی ایم-ٹیگ لازمی قرار دے دیا ہے۔ اس فیصلے کا مقصد شہر میں داخل ہونے والی گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کے بہاؤ کو منظم کرنا اور سڑکوں پر رش کو کم کرنا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اب تک 160,000 سے زائد گاڑیاں ایم-ٹیگ کے ذریعے رجسٹر ہو چکی ہیں، اور موٹر سائیکل سواروں کو بھی اس نظام میں شامل کیا جا رہا ہے تاکہ سب کے لیے یکساں سہولت فراہم کی جا سکے۔
رمضان کے دوران شہریوں کی سہولت کے لیے ایم-ٹیگ مراکز کے اوقات کار میں تبدیلی کی گئی ہے۔ 26 نمبر اور پھلگران ٹول پلازہ پر ایم-ٹیگ سروسز 24 گھنٹے دستیاب ہوں گی، جبکہ ایف-9 پارک، جی-14 پولیس چیک پوسٹ اور راوات ٹی-کراس پر صبح 9 بجے سے رات 9 بجے تک سہولت فراہم کی جائے گی۔ اس اقدام کا مقصد شہریوں کو آسانی فراہم کرنا اور رمضان کے مصروف اوقات میں ٹریفک کے دباؤ کو کم کرنا ہے۔
ایم-ٹیگ کی ضرورت اس لیے بھی اہم ہے کہ یہ نظام نہ صرف وقت کی بچت کرتا ہے بلکہ ایندھن کے استعمال کو بھی کم کرتا ہے۔ گاڑیوں کو بار بار رکنے اور چلنے کی ضرورت نہیں پڑتی، جس سے ماحولیاتی آلودگی میں کمی آتی ہے۔ مزید برآں، یہ نظام مالی شفافیت کو بھی یقینی بناتا ہے کیونکہ تمام ادائیگیاں ڈیجیٹل طریقے سے ریکارڈ ہوتی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایم-ٹیگ کا نفاذ پاکستان میں جدید ٹریفک مینجمنٹ کی طرف ایک بڑا قدم ہے۔ اگر اس نظام کو مزید شہروں میں وسعت دی جائے تو نہ صرف شہریوں کو سہولت ملے گی بلکہ قومی سطح پر ٹریفک کے مسائل میں بھی نمایاں کمی واقع ہوگی۔



