قومی

پارہ چنار کے شیعہ دہشت گردی کا نشانہ بن رہے ہیں‘ عسکری دیوجانی

پارہ چنار میں شیعہ عوام کا قتل دہشت گردوں کی بربریت کو بے نقاب کرتا ہے‘ظفر کربلائی

کراچی (اسٹاف رپورٹر)جعفریہ آرگنائزیشن پاکستان کا ایک ہنگامی اجلاس پارہ چنار میں شیعہ مظلوم عوام پر ہونے والی دہشت گردی جس میں عورتوں اور بچوں سمیت 70 سے زاہد مظلومشیعہ عوام شہید اور 111 سے زاہد زخمی ہونے پرطلب کیا گیا جس میں جعفریہ آرگنائزشن کے چیئرمین عسکری دیو جانی، سینئر وائس چیئرمین ظفر کربلائی،وائسچیئرمین انجم مرزا،صدر حسن صغیر عابدی،سنیئر نائب صدر آغامہدی،سینئر نائب صدر سلمان ایڈووکیٹ،جنرل سیکریٹری علامہ اطہر مشہدی،جوائنٹ سیکریٹری جہاد بنگش ،سیکریڑی نشرواشاعت سید سلیم شمشاد رضوی ،سلمان علی ، یوسف شاہ ،حیدر شاہ محترمہ الماس فاطمہ، ہنی مرزا،اور اس کے علاوہ جعفریہ آرگنائزشن کے ممبران نے بڑی تعداد میں شرکت کی اس موقع پر صحافیوں کو اپنے بیان دیتے ہوئے جعفریہ آرگنائزشن پاکستان کے چیرمین جناب عسکری دیوجانی نے کہا کہ پارہ چنار کے مظلوم عوام مسلسل دہشت گردی کا نشانہ بن رہے ہیں۔پارہ چنار کے دل دہلا دینے والے حملے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا، جس میں کم از کم 70 معصوم افراد شہید جبکہ 111 سے زائد زخمی ہوئے۔ زخمیوں میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے، جن میں سے سات کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ اس موقع پر جعفریہ آرگنائزش کے سینئروائس چیئرمین جناب ظفر کربلائی نے کہایہ حملہ انسانیت کےخلاف بدترین جرم ہے اور پارہ چنار کے شعیہ عوام کی نسل کشی ہے۔ پارہ چنار میں معصوم جانوں کا قتل دہشت گردوں کی بربریت کو بے نقاب کرتا ہے۔ اس موقع پر جعفریہ آرگنائزشن کے صدر حسن صغیر عابدی نے اپنے بیان میں کہا کہ ہم حکومت پاکستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ متاثرین کو فوری انصاف فراہم کیا جائے اور حملے کے منصوبہ سازوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔جعفریہ آرگنائزشن پاکستان کے جنرل سیکریٹری علامہ اطہر مشہدی نے زخمیوں کی حالت پر گہری تشویش کا اظہار کیا،اجلاس میں مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے کہا گیا کہ پارہ چنار پر حالیہ ہونے والی دہشت گردی ریاستی اداروں کی سرپرستی میں ایک منظم سازش کے تحت پارہ چنار کے شیعہ عوام کی نسل کشی کی جارہی ہے پارہ چنار کے مظلوم عوام مسلسل دہشت گردی کا نشانہ بن رہے ہیں۔حکومت اور سیکیورٹی ادارے ان حملوں کو روکنے میں مکمل ناکام ہو چکے ہیں۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ پارہ چنار جیسے حساس علاقے میں امن قائم کرنے کےلئے فوری اور ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔ حکومت اگر ان اقدامات کو نہیں کریگی تو ہم ملکی سطع پر پرامن دھرنے اور احتجاج کریں گے، ”زخمیوں کی بروقت مدد کےلئے تمام ضروری طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ حکومت اس واقعے کو صرف مذمتی بیانات تک محدود نہ رکھے بلکہ عملی اقدامات کرے تاکہ عوام کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔”یہ دہشت گرد حملہ ایک مصروف علاقے میں ہوا، جہاں اکثریت خواتین، بچوں، اور معصوم شہریوں کی تھی۔ شہداءمیں کئی نوجوان بھی شامل ہیں جو اپنے گھر والوں کی کفالت کر رہے تھے۔ زخمیوں میں بڑی تعداد ایسے افراد کی ہے جنہیں فوری سرجری کی ضرورت ہے، لیکن مقامی ہسپتالوں کی محدود سہولیات کی وجہ سے مشکلات کا سامنا ہے۔ پارہ چنار میں حملے کے سلسلے میں جعفریہ آرگنائزیشن پاکستان حکومت پاکستان سے کے اہم مطالبات، 1) دہشت گردوں اور سہولت کاروں کےخلاف فوری کارروائی تمام ملوث عناصر کو فوری طور پر گرفتار کر کے انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔ 2) شہداءکے اہل خانہ کےلئے معاوضہ: تمام شہداءکے خاندانوں کو فی الفور مالی امداد فراہم کی جائے اور ان کے بچوں کی تعلیم و دیگر ضروریات کےلئے مستقل فنڈز مختص کیے جائیں۔ 3) زخمیوں کےلئے طبی سہولیات: زخمیوں کو بہتر علاج کےلئے بڑے شہروں میں منتقل کیا جائے اور ان کے علاج کے اخراجات حکومت پاکستان برداشت کرے۔ 4) سیکیورٹی فورسز کی تعیناتی پارہ چنار جیسے حساس علاقے میں مستقل سیکیورٹی فورسز کی تعیناتی کی جائے تاکہ عوام کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔5) فرقہ واریت کے خاتمے کےلئے مو¿ثر اقدامات: علاقے میں فرقہ واریت کو ہوا دینے والے عناصر کےخلاف سخت کارروائی کی جائے۔6)حکومتی سطح پر واقعے کی آزاد اور شفاف تحقیقات کےلئے عدالتی کمیشن تشکیل دیا جائے۔ 7) مواصلاتی نظام کی بحالی: علاقے میں انٹرنیٹ اور موبائل نیٹ ورک کی بحالی یقینی بنائی جائے تاکہ متاثرہ خاندانوں کو سہولت فراہم ہو۔8) پارہ چنار میں ترقیاتی منصوبوں کا آغاز کیا جائے تاکہ عوام کو بہتر زندگی کے مواقع فراہم ہوں۔9)قومی سطح پر دہشت گردی کے خاتمے کےلئے مو¿ثر اور جامع حکمت عملی ترتیب دی جائے۔10) عوام کے تحفظ کےلئے قوانین پر عملدرآمد: عوام کے تحفظ کو یقینی بنانے کےلئے سخت قوانین کا نفاذ اور ان پر مکمل عملدرآمد کیا جائے۔ 11) عالمی برادری سے تعاون: دہشت گردوں کے عالمی نیٹ ورک کو ختم کرنے کےلئے دیگر ممالک سے تعاون لیا جائے۔ 12) مذہبی ہم آہنگی کے پروگرام: ملک میں مذہبی ہم آہنگی کو فروغ دینے کےلئے قومی سطح پر آگاہی مہم چلائی جائے۔13) حکومت کی جوابدہی: حکومت اس حملے کے بارے میں پارلیمنٹ اور عوام کے سامنے جوابدہ ہو اور آئندہ ایسے واقعات روکنے کی ضمانت دے۔ 14) شہداءکی یاد میں قومی دن کا اعلان: پارہ چنار کے مظلوم شہداءکی یاد میں قومی سطح پر ایک دن مخصوص کیا جائے تاکہ ان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار ہو سکے۔یہ مطالبات فوری طور پر نافذ کیے جائیں تاکہ ملک کے عوام کو تحفظ اور انصاف فراہم کیا جا سکے اور دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ممکن ہو۔

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button