ہزارہ

ویں مجوزہ آئینی ترامیم میں صوبہ خیبرپختون خواہ کے نام کوتبدیل کیا گیا توہزارہ میں اشتعال پھیلے گا

 

ایبٹ آباد 26ویں مجوزہ آئینی ترامیم میں صوبہ خیبرپختون خواہ کے نام کوتبدیل کیا گیا توہزارہ میں اشتعال پھیلے گا۔ یہ صوبے کے عوام کو یکجا کر نے کی بجائے آپس میں لڑانے کی سازش ہے ۔ پختون ہمارے ماتھے کا جھومر ہیں نام رکھنے سے ترقی نہیں ہوتی یہ معتصبانہ نام ہے حکومت کو بلیک میل کیا جارہا ہے ۔ ان خیالات کا اظہار ممتاز سماجی شخصیت سابق ڈسٹرکٹ اکاونٹ آفیسر سردارسلیم نے ایبٹ آباد پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔انہوں نے کہا کہ ہزارہ میں ترقی کے راستے بند نہ کیے جائیں بجلی کی رائلٹی ملنا چاہیے ایوب میڈیکل کالج میں ہزارہ کا کوٹہ مختص کیا جائے گلیات باڑہ گلی میں 600 کنال اراضی کو استعمال میں لایا جائے یونیورسٹی کیمپس یا کیڈٹ کالج بنایا جاے ہزارہ کے اراکین اسمبلی پشاورجار اپنا رویہ بدل دیتے ہیں ۔ سردارسلیم نے خبردار کیا کہ صوبہ کے نام۔پر ہمیں اشتعال نہ دلایا جائے ۔ جماعت اسلامی مسلم لیگ ن پی ٹی آئی کو سامنے لانے میں ہزارہ وال کا بڑا کردار ہے ۔ یہ بہادر قوم ہے ۔ آئینی ترامیم کے نام پر نانصافی قبول نہیں ہے ۔نام تبدیلی کے بجائے صوبہ ہزارہ کا نام بھی شامل کیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ تمام متحرک رہنماوں کو کردار ادا کرنا چائیے ۔ اس وقت یکجا ہو کر اپنا حق لینا چائیے ۔

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button