قومی

وفاقی وزیر بحری امور کا کے آئی سی ٹی میں آتشزدگی کی تحقیقات کا حکم، کے پی ٹی فائر فائٹنگ ٹیم کے لیے تعریفی اسناد کا اعلان

کراچی انٹرنیشنل کنٹینر ٹرمینل میں آگ پر بروقت قابو، کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں

وفاقی وزیر بحری امور محمد جنید انوار چوہدری نے کراچی انٹرنیشنل کنٹینر ٹرمینل (کے آئی سی ٹی) میں پیش آنے والے آتشزدگی کے واقعے کی وجوہات جاننے اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے ذمہ داری کے تعین کی غرض سے ایک تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دینے کا حکم دے دیا ہے۔ کمیٹی کراچی پورٹ ٹرسٹ کے سینئر افسران پر مشتمل ہوگی جو کے آئی سی ٹی انتظامیہ کے ساتھ رابطے میں رہتے ہوئے واقعے کی مکمل تحقیقات کرے گی۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ کے آئی سی ٹی ایک نجی کنٹینر ٹرمینل ہے اور وہاں حفاظتی انتظامات کی بنیادی ذمہ داری ٹرمینل انتظامیہ پر عائد ہوتی ہے۔ آتشزدگی کی میڈیا رپورٹس سامنے آنے کے فوراً بعد وفاقی وزیر نے فوری نوٹس لیتے ہوئے چیئرمین کراچی پورٹ ٹرسٹ ریئر ایڈمرل (ر) شاہد احمد سمیت تمام متعلقہ حکام کو دستیاب تمام وسائل بروئے کار لاتے ہوئے آگ پر قابو پانے اور واقعے کی تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔

کے پی ٹی کی سینئر ٹیم نے فائر فائٹنگ آپریشن کی نگرانی کی جس کے نتیجے میں آگ پر کامیابی سے قابو پا لیا گیا، جبکہ کسی قسم کے جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔ محمد جنید انوار چوہدری نے کہا کہ کراچی پورٹ ٹرسٹ، پاکستان نیوی، ریسکیو 1122 اور کراچی شپ یارڈ کی فائر فائٹنگ یونٹس کے باہمی اور مربوط ردِعمل کے باعث بڑے نقصان سے بچاؤ ممکن ہوا۔

وفاقی وزیر نے فائر فائٹنگ آپریشن میں حصہ لینے والے کے پی ٹی کے اہلکاروں کے لیے تعریفی اسناد دینے کا اعلان کیا اور بالخصوص جی ایم (انجینئرنگ) کے پی ٹی ریئر ایڈمرل کاشف منیر اور ان کی ٹیم کے بروقت اقدام، پیشہ ورانہ مہارت اور مؤثر ہم آہنگی کو سراہا۔

وفاقی وزیر کی ہدایات پر پیش کی گئی کے پی ٹی رپورٹ کے مطابق آگ دوپہر تقریباً ایک بج کر پینتیس منٹ پر کراچی پورٹ کے ویسٹ وارف پر واقع کے آئی سی ٹی ٹرمینل میں برتھ نمبر 27 کے قریب ایک کنٹینر میں لگی۔ اطلاع ملتے ہی کے پی ٹی سینٹرل فائر بریگیڈ نے فوری طور پر فائر ٹینڈرز روانہ کیے۔ موقع پر پہنچنے پر معلوم ہوا کہ قریب قریب رکھے گئے کنٹینرز میں آگ اور دھواں تیزی سے پھیل رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق کے پی ٹی کے آٹھ فائر ٹینڈرز، پاکستان نیوی کے چار، کراچی شپ یارڈ اینڈ انجینئرنگ ورکس کا ایک اور ریسکیو 1122 کے دو فائر ٹینڈرز نے کارروائی میں حصہ لیا۔ تمام اداروں کی بروقت اور مؤثر کارروائی کے باعث آگ کو پھیلنے سے روک دیا گیا اور بندرگاہ کے انفراسٹرکچر اور آپریشنز کو محفوظ رکھا گیا۔

کے پی ٹی فائر بریگیڈ بعد از آتشزدگی احتیاطی تدابیر کے طور پر جائے وقوعہ اور ملحقہ علاقوں کی مسلسل نگرانی کر رہی ہے، جبکہ آگ لگنے کی حتمی وجوہات اور ممکنہ مالی نقصانات کے تعین کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button