
پاکستان کا ایک اور عظیم بیٹا اپنے ملک کی حفاظت کرتے ہوئے سراروغا، تحصیل جنوبی وزیرستان کے مقام پر ملک دشمنوں سے لڑتے ہوئےجامِ شہادت نوش کر گیا۔ میجر معیز عباس شاہ پاکستان آرمی کے سپیشل سروسز گروپ میں بطور میجر اپنی خدمات انجام دے رہے تھے۔ میجر معیز عباس کی زندگی پر مختصر نظر ڈالتے ہیں۔
میجر معیز عباس شاہ کا تعلق چکوال کے کاظمی سادات گھرانے سے ہے جبکہ ان کا بچپن اسلام آباد کے سیکٹر جی-ایٹ/فور میں گزرا تھا۔ اسلام آباد میں پی ٹی سی ایل، ٹی اینڈ ٹی کالونی میں اپنی فیملی کے ہمراہ رہائش پزیر تھے۔ اور میجر معیز عباس کو پیار سے لوگ “کاکا” کے نام سے پکارا کرتے تھے، اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ لوگ میجر معیز سے کس قدر محبت کیا کرتے تھے۔میجر معیز بچپن سے ہی ہونہار اور بہادر تھے اور بچپن سے ہی ان کی خوائش تھی کہ وہ پاکستان آرمی کو جوائن کریں جس کا ذکر وہ بارہا اپنے بچپن کے دوستوں سے کیا کرتے تھے۔ ان کی بچپن سے لڑکپن کی زندگی پر اگر نظر ڈالیں تو ان کا کردار انتہائی شفیق اور ملنسار تھا۔ میجر معیز ہمیشہ دوسروں کی مدد کرنے میں پیش پیش ہوتے تھے اور ٹی اینڈ ٹی کالونی میں کوئی ایسا شخص نہیں جو انکی پاک دامنی کی گوائی نہ دے سکے سب ہی ان کے خیر خواہ تھے۔ ان کی شخصیت سے تمام اہلِ محلہ ہی متاثر تھے اور ان کی آحبت کو ہمیشہ باعثِ فخر سمجھتے تھے۔
میجر معیز عباس شاہ نے ابتدائی تعلیم پی ٹی سی ایل، ٹی اینڈ ٹی کالونی جی-ایٹ/فور اسلام آباد کے ایک سکول سے حاصل کی اس کے بعد اسلام آباد سے ہی اپنی گریجوایشن مکمل کرنے کے بعد پاکستان آرمی کا امتحان دیا جو کہ ان کا بچپن کا خواب تھا اور بعد ازاں پاکستان آرمی میں بطور کمیشنڈ آفسر اپنی نوکری کا آغاز کیا۔ کچھ عرصہ پاکستان آرمی میں اپنی خدمات انجام دینے کے بعد پاکستان آرمی کے سپشل سروسز گروپ کا امتحان پاس کیا اور بطور کپٹین SSG خدمات انجام دیتے رہے۔ یاد رہے کے یہ سب ان کے بچپن کے خواب کی عکاسی تھی وہ ہر لمحہ اپنے خواب کی تکمیل کی طرف گامزن تھے۔ بطور SSG کمانڈو میجر معیز عباس شاہ نے بہت سے سنگِ میل عبور کیے اور اپنی جان کی فکر نہ کرتے ہوئے بیت سے ملک دشمن دہشتگردوں کو جہنم واسل کیا اور ہمیشہ ملکِ پاکستان کی حرمت کی حفاظت کرتے رہے۔ پاکستان کی خاطر ہر دشمن کا بہادری اور دلیری سے مقابلہ کیا اور فتح سے ہمکنار ہوئے۔
ان کی زندگی پر نظر ڈالتے ہوئے اگر ہم 2019 میں پیش آنے اس واقع کا ذکر نہ کریں تو انکی بائیوگرافی نامکل ہو گی۔ پاکستان کے دشمن ملک انڈیا نے جب 2019 میں پاکستان پر جب میلی نظر ڈالی اور پاکستان کے مقام بالاکوٹ پر ائیر سٹرائیکس کی اور واپس اپنے ملک بھارت جاتے ہوئے پاکستان کی ائیر فورسز نے انتہائی دلیری سے بھارتی ائیر فورس کے ونگ کمانڈر ابینندن ورتھمان کا طیارہ مار گرایا جس کے نتیجے میں ونگ کمانڈر ابینندن ایواکیوٹ کر گیا اور پاکستان لائن آف کنٹرول کے قریب پاکستان کی حدود میں ہی گر گیا۔ اس واقع کے فورن بعد اعلیٰ فوجی حکام نے میجر معیز عباس شاہ کی قیادت میں ایک ٹیم تشکیل دی اور میجر معیز کو ونگ کمانڈر کو زندہ گرفتار کرنے کا حکم دیا۔ میجر معیز نے نہائت برادری اور دلیری سے اس مشن کو سر انجام دیا اور اپنی قائدانہ صلاحیت کو استعمال کرتے ہوئے بھارتی ائیر فورس کے ونگ کمانڈر ابینندن ورتھمان کو نہ کہ تلاش کیا بلکہ باحفاظت اپنی گرفت میں لیا اور اپنے مشن کو دلیری سے پائے تکمیل تک پہنچایا۔ میجر معیز کی ان خدمات نے نہ کہ پاکستان بلکہ عالمی سطح پر بھی میجر معیز کو پزیرائی دی اور میجر معیز نے پاکستان کو فتح سے ہمکنار کیا۔ پاکستان کا ہر بچہ، جوان، بزرگ ان پر فخر کرنے لگا اور ان کو محبت کی نظر سے دیکھنے لگا۔ میجر معیز کا یہ جذبہ انہیں باقی لوگوں سے مختطلف بناتا ہے۔
اس کے بعد میجر معیز عباس شاہ نے پاکستان آرمی کی طرف سے کچھ عرصہ قطر میں گزارا اور کچھ ماہ پہلے جب وطنِ عزیز کو دوبارہ ان کی ضرورت پڑی تو انہوں نے ہمیشہ کی طرح اپنی جان کی فکر نہ کرتے ہوئے پاکستان کی خاطر ملک واپس آنے کا فیصلہ کیا اور پاکستان کی تحصیل جنوبی وزیرستان میں خوارجیوں کے خلاف آپریشن کی کمانڈ سمبھالی اور کئی دہشت گردوں کو بہادری سے جہنم واسل کیا اور ملک کی حفاظت کرتے ہوئے جنوبی وزیرستان کے علاقے سراروغا کے مقام پر سرچ آپریشن کرتے ہوئے لانس نائک جبران اللہ کے ہمراہ شہادت قبول کی اور اپنے وطن پر قربان ہو کر اپنی عظمت و بہادری کا ثبوت دیا۔ میجر معیز اور ان کی ٹیم نے اس سرچ آفریشن میں 11 ملک دشمن دہشت گردوں کا نہ کہ دلیری سے مقابلہ کیا بلکہ انہیں جہنم واسل کیا۔ اسی آپریشن میں میجر معیز زخمی ہوئے اور زنخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہادت کا رتبہ پایا۔
میجر معیز عباس شاہ کی شہادت کی خبر ملتے ہی ان کی فیملی ، دوست اور عزیز و عقارب غم کی کیفیت میں مبتلا ہو گئے مگر اس کے ساتھ ساتھ سب لوگ اس بات پر خوش تھے کہ ہمارے وطن کا عظیم بیٹا اپنی خوائش کے مطابق مورخہ 24 جون 2025ء کو وطن کی خاطر شہید ہو کر ہمیشہ کے لئے امر ہو گیا۔ میجر معیز کے جسدِ خاکی کو ہیلی کاپٹر کے ذریع ڈی آئی خان لایا گیا پھر براستہ موٹروے انہیں اسلام آباد میں واقع ان کی رہائش گاہ لایا گیا جہاں قیامت کا سماء تھا، میجر معیز کی بیوہ ان کے دو کمسن بچے غم سے نڈھال تھے۔ بعد ازاں ان کی فیملی، دوست اور عزیز و عقارب نے رب کی رضا سمجھتے ہوئے اس غم کی گھڑی میں صبر کا مظاہرہ کیا۔ میجر معیز کی نمازِ جنازہ چکلالہ گیریشن میں ادا کی گئی جس میں فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر، وزیر داخلہ سید محسن نقوی اور اعلیٰ فوجی اور سماجی قیادت نے شرکت کی اور وطن کے اس بیٹے کی خدمات پر انکی فیملی کا شکریہ ادا کیا اور اس غم کی گھڑی میں انکا غم بانٹا۔ میجر معیز عباس شاہ کا جسدِ خاکی رالپنڈی کے ریس کورس گراؤنڈ کے قریب آرمی قبرستان میں لے جایا گیا اور انہیں شہدا کے قبرستان میں سپردِ خاک کر دیا گیا اس طرح وطن کا بیٹا اپنی آخری آرام گاہ میں اپنے باقی شہید ساتھیوں کے ساتھ اس پاک زمین میں جا کر سو گیا اور ہمیشہ کے لئے ہر پاکستانی کا سر فخر سے بلند کر گیا۔
میجر معیز عباس شاہ کی یہ قربانی ﷲ اور اس کے حضورﷺ کہ ہاں نہ کے قبول ہے بلکہ یقیناً ان کے درجات بلند ہیں۔ ﷲ کے حضور دعا ہے ﷲ شہید کی قربانی پر اپنی شان کے مطابق اجر عطا کرے اور میجر معیز کے لواحقین کو صبرِ جمیل عطا کرے۔ آمین!!!!
“چلے جو ہو گے شہادت کا جام پی کر تم،
رسولِ پاکؐ نے بانہوں میں لے لیا ہو گا،
علیؑ تمہاری شجاعت پہ جھومتے ہوں گے،
حسین پاکؑ نے ارشاد یہ کیا ہوگا،
تمہیں خُدا کی رضائیں سلام کہتی ہیں-“
ﷲ نگہبان میرے بھائی – میجر معیز عباس شاہ (کاکا) شہد!!!
آپ کا دوست – سلمان انجم



