نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور بنگلہ دیش کے مشیر خارجہ کا ٹیلیفونک رابطہ
تجارت، اقتصادی تعاون اور دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار اور بنگلہ دیش کے مشیر برائے امور خارجہ محمد توحید حسین کے درمیان اتوار کو ٹیلیفونک رابطہ ہوا، جس میں پاکستان اور بنگلہ دیش کے دوطرفہ تعلقات سمیت مختلف اہم امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں نے باہمی تعاون کو مزید فروغ دینے، تجارت اور اقتصادی روابط کو وسعت دینے اور مشترکہ مفادات کے لیے مل کر کام کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
دفتر خارجہ سے جاری بیان کے مطابق ٹیلیفونک گفتگو میں دونوں ممالک کے درمیان موجودہ دوطرفہ تعلقات کا جائزہ لیا گیا اور اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تاریخی، ثقافتی اور عوامی روابط کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان بنگلہ دیش کے ساتھ دوستانہ تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دینا دونوں ممالک کے مفاد میں ہے۔
گفتگو کے دوران تجارت اور اقتصادی تعاون کو خصوصی اہمیت دی گئی۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ باہمی تجارت کے حجم میں اضافے، سرمایہ کاری کے نئے مواقع تلاش کرنے اور کاروباری برادریوں کے درمیان روابط بڑھانے سے دونوں ممالک کی معیشتوں کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان خطے میں اقتصادی شراکت داری اور تجارتی روابط کے فروغ کے لیے پُرعزم ہے۔
ٹیلیفونک گفتگو میں علاقائی اور عالمی صورتحال پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے مشترکہ کاوشوں کی اہمیت پر زور دیا اور اس بات پر اتفاق کیا کہ موجودہ عالمی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے باہمی مشاورت اور تعاون ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بنگلہ دیش کو علاقائی فورمز سمیت بین الاقوامی سطح پر بھی قریبی رابطے برقرار رکھنے چاہئیں۔
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان بنگلہ دیش کے ساتھ سفارتی، تجارتی اور عوامی سطح پر تعلقات کو مزید وسعت دینے کا خواہاں ہے اور مستقبل میں اعلیٰ سطحی روابط سے دوطرفہ تعاون کو مزید تقویت ملے گی۔ بنگلہ دیش کے مشیر خارجہ محمد توحید حسین نے بھی پاکستان کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانے کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں۔
دونوں رہنماؤں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور بنگلہ دیش آئندہ بھی باقاعدہ رابطے میں رہیں گے اور مشترکہ مفادات، علاقائی امن اور خوشحالی کے لیے مل کر کام کرتے رہیں گے۔


