نئے سوئی گیس کنکشنز سے پابندی ختم کی جائے‘مولانا اسعد تھانوی
مدارس اور مساجد کے ہزاروں طلباءو طالبات و اساتذہ کی زندگیاں گیس سلنڈرکے استعمال سے خطرے سے دو چار ہیں
کراچی (اسٹاف رپورٹر ) صدر پاکستان آصف علی ذرداری اور وزیر اعظم شہباز شریف اور وفاقی وزیر پیٹرولیم مصدق ملک سندھ بلوچستان کے مدارس و مساجد کیلئے نئے سوئی گیس کنکشنز سے پابندی ختم کریں، یہ بات جامعہ اشرفیہ سکھر کے مہتمم اعلی ڈاکٹر مولانا اسعد تھانوی نے صحافیوں سے خصوصی بات کرتے ہوئے کہی اس موقع پر ڈاکٹر مولانا اسعد تھانوی نے صحافیوں کو تفصیل بتاتے ہوئے اپنے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہی اور بتایا کہ وزارت پیٹرولیم کے ادارے اوگرہ نے دسمبر 2021 میں سندھ اور بلوچستان میں نئے سوئی گیس کنکشنز پر جو پابندی لگائی تھی اس کا اطلاق صرف سوئی نادرن گیس کمپنی لمیٹڈ کے تحت صوبوں میں ہوتا ہے لیکن اس خط کے مطابق اس کی کاپی ادارے کی جانب سے سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ کے متعلقہ ادارے کو بطور انفارمیشن کاپی ارسال کی گئی اگر اس پابندی کا اطلاق سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ پر ہوتا تو اس خط میں سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ کے متعلقہ سندھ بلوچستان کے ایم ڈی کو بھی مخاطب کیا جاتا مگر ایسا نہیں کیا اور سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ کے ایم ڈی نے اس خط کو جواز بناتے ہوئے سندھ اور بلوچستان کے گھریلو اور تجارتی نئے سوئی گیس کنکشنز پر پابندی لگا کر لوگوں کو گیس سلینڈر استعمال کرنے پر مجبور کیا اور لوگ مجبور ہوکر گیس سلینڈر استعمال کرنے لگے اورسندھ میں گیس سلنڈر پھٹنے کے کئی واقعات ہوچکے ہیں جس سے کئی خاندانوں نے کافی جانی نقصانات اٹھائے اور اس سلسلے میں ہمارے خدشات واضع ہیں اگر یہ پابندی برقرار رہی تو سندھ اور بلوچستان کے مدارس اور مساجد کے ہزاروں طلباءو طالبات و اساتذہ اور ان کے خاندانوں کے علاوہ سندھ اور بلوچستان کے عوام کی زندگیاں گیس سلنڈرکے استعمال سے خطرے سے دو چار ہیں ، ڈاکٹر مولانا اسعد تھانوی نے مزید تفصیل بتاتے ہوئے صحافیوں کو بتایا کہ انہوں نے سکھر میں ایک خیراتی ادارہ جامعہ اشرفیہ سکھر میں موجود غریب طالبعلموں ، اساتذہ اور ان کے خاندانوں کےلئے مفت رہائشی فلیٹس / گھر تعمیر کیئے اور یہ مدارس اور مساجد سے منسلک خاندانوں کو مفت دیئے جائیں گے ان فلیٹوں /گھروں میں بجلی کے متعلقہ ادارے نے بجلی کے تنصیب کا کام مکمل کر دیا ہے اور جب ہم انہی فلیٹس / گھروں کیلئے سوئی گیس کے نئے کنکشن حاصل کرنے کیلئے سکھر میں سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ کے متعلقہ ڈپارٹمنٹ میں درخواست دی تو وہاں کے سیلز ڈپارٹمنٹ کے افسر نے پابندی کا ایک خط ہمارے حوالے کیا جس کے تحت سندھ اور بلوچستان میں نئے سوئی گیس کنکشنز پر پابندی ہے اس سلسلے میں ہم نے وفاقی وزیر پیٹرولیم جناب مصدق ملک کو بھی کئی خط ارسال کیئے لیکن وزیر پیٹرولیم مصدق ملک کے دفتر سے ہمارے خط کا جواب تک نہیں دیا گیا ، اب ہم صدر پاکستان جناب آصف علی ذرداری، وزیر اعظم شہباز شریف اور وفاقی وزیر پیٹرولیم مصدق ملک سے مطالبہ کرتے ہیں کہ سندھ اور بلوچستان کے عوام اور بلخصوص سندھ اور بلوچستان کے مدارس اور مساجد کے علاوہ دیگر مذاہب کی عبادت گاہوں کیلئے سوئی گیس کے نئے کنکشنز پر لگائی پابندی کو فوری ختم کیا جائے ، اور فوری طور سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ کے ایم ڈی کو احکامات جاری کریں کہ سندھ اور بلوچستان کے مدارس اور مساجد کے علاوہ دیگر مذاہب کی عبادت گاہوں میں جہاں بھی سوئی گیس کے نئے کنکشز کی درخواست موصول ہونے پر فوری نئے سوئی گیس کنکشنز فراہم کریں اور عبادت گزاروں کو سہولت فراہم کر کے ثواب حاصل کریں ۔


