نئی لیڈر شپ وقت کی ضرورت ہے۔ قوم کو نا امیدی سے نکالنے کے لئے سرگرداں ہیں
میری پہچان پاکستان نے ہر مکتبہ فکرکے افراد کو امید کی کرن دلائی ہے

کراچی (خصوصی رپورٹ) MPPکے سرپرست اعلی سابق گورنر سندھ عشرت العباد خان نے کہا ہے کہ ہم ملک کو نئی لیڈر شپ دینے کے حق میں ہیں شرط یہ ہے کہ انکا موقف پاکستان کی ترقی اور اس سے عملی محبت کرتے ہوئے ملک کو بحرانی کیفیت سے نکالنا ہو۔ نئی لیڈر شپ وقت کی ضرورت ہے۔ قوم کو نا امیدی سے نکالنے کے لئے سرگرداں ہیں۔ کسی سے کوئی اختلاف نہیں۔ کراچی کے فسادات اور Destabilizeکرنے کو اپنی کوششوں سے ختم کرایا۔ میری پہچان پاکستان نے ہر مکتبہ فکرکے افراد کو امید کی کرن دلائی ہے۔ ہماری سوشل سرگرمیاں پورے ملک میں جاری ہیں بڑی بڑی ریلیاں نکالی ہیں۔ہم قوم کو شعور دے چکے ہیں کہ 14اگست ہی پاکستان کا دن نہیں ہر دن اپنے وطن سے محبت کا ہے۔ ریاست سیاست سے زیادہ ضروری ہے۔ فوج کو مضبوط کرنے کے لئے پوری قوم کو ایک کرنا ہے۔ فوج میں بھی احتساب کا عمل ہے۔ نوجوانوں میں جزبہ جگایا ہے۔ وہ ملک کو اپنی ہی صلاحیتوں سے مضبوط کریں گے ڈاکٹر عشرت العباد خان نے قومی چینل کو انٹرویو میں ان خیالات کا اظہار کیا۔ انکا کہنا تھا کہ میری پہچان پاکستان کے سلوگن نے نوجوانوں کی ذہنیت تبدیل کی ہے۔ پی ٹی آئی کے بہت بڑی تعداد میں ورکرز اور رہنما جو سوشل میڈیا ورکر بھی ہیں وہ اس نعرے کے بعد صدق دل سے وطن سے محبت کا اظہار کر رہے ہیں۔ ہمارا نیٹ ورک پورے پاکستان میں پھیل چکا ہے۔ اس سوال کے جواب میں کہ بڑی بڑی شخصیات آپ سے جڑنے کے لئے تیار ہیں اور بہت سے غیر اعلانیہ جڑ چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سب کے لئے دروازے کھلے ہیں۔ شرط یہ ہے کہ سیاست کے لئے نہیں پاکستانیت کے لئے ملک کو درست اور مستحکم کرنے کے لئے آئیں۔ سیاست اور سیاست دانوں پر سے عوام کا اعتماد اٹھ رہا ہے۔ اب مثبت رویئے اور ملک بھر میں موجود وسائل کو نوجوانوں۔ ہر مزدرور کسان، اور ہر فیلڈ کے افراد کو اپنی صلاحیتوں سے ملک کو نکھارنا ہے۔ ریاست کی مضبوطی ہی ملک کی صنعت، ہو یا سیاست سب کے لئے ضروری ہے۔ ملک کا بیڈ امیج نہیں چاہئے۔ ہمارے ملک نے بہت دہشت گردی کا سامنا کیا ہے وار ان ٹیررازم میں ہمارے جوان شہید ہوئے ہیں۔ آج بھی فوج خوارجیوں سے لڑ رہی ہے۔ لسانیت اور نفرت نے ملک کو بہت نقصان دیا ہے۔ وطن پرستی کا جزبہ قوم کی تقدیر بدل دے گا۔ کسی ماضی کی جماعت پر کوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہتا۔ امن کے لئے ملک کو ترجیح دی۔ آج منی پاکستان میں حالات سیاسی میدان میں بھی بہتر ہیں۔ اغوا اور کرائم کے خاتمے کے لئے جنگی بنیادوں پر کام کی ضرورت ہے۔ نوجوانوں کی مایوسی میرٹ اور سرمایہ کاری سے ختم ہوگی۔ ہمارا نوجوان باہر جا کر وسائل ملنے سے انکی ترقی کا ایندھن بنا ہوا ہے۔ ہم کیوں اپنے نوجوانوں کو ضائع کریں۔ ملک پپر لشکر کشی، تنازعات اور دھرنا سیاست سے کمزور کرنے والے سوچیں کہ یہ ہمارا وطن ہے ہماری پہچان پاکستان ہے۔ اگر ملک کا نہیں سوچیں گے تو پھر ایسی سیاست کس کام کی۔ مجھے یہ اعزاز حاصل ہے کہ میرے ساتھ جڑے لوگ اتنی بڑی تعداد میں ہیں کہ ملک کے کونے کونے میں میری پہچان پاکستان اور سب سے پہلے پاکستان کے نعرے کی گونج ہے۔ سوات، گلگت، دادو، کے پی کے، بلوچستان ملک کے تمام علاقوں سے پاکستان اور پاکستان کی ا فوج کے لئے خیالات کی تبدیلی ملک دشمنوں کو کھلی شکست ہے۔ ہم نے تو کہا ہے کہ 1947کو پاکستان بنانے کے بعد نا مساعد حالات میں ملک چلاکر دنیا کو حیران کیا اب وہی جزبہ ملک کو دوبارہ مضبوط اور کسی کا غلام نہ رکھنے کے عزم کا ہے۔ ہمیں اپنی De valueکرنسی کی اہمیت بڑھانی ہے اور یہ کام نوجوان کریں گے۔ ملک میں کمزور معیشت اور مہنگائی کے طوفان کو توڑنے کے لئے ہمیں وطن پرستی اپنا کر اپنی معیشت کو زیادہ کام کرکے سنبھالا دینا ہے۔ سب کو پاکستانی بننا ہوگا۔ لسانی سیاست اب کسی طور ملک کے مفاد میں نہیں۔ہمیں پاکستانی بن کر مثالی قوم بننا ہے۔ قومیں وہی ترقی کرتی ہیں جو زندہ قوم ہوں جنکی نس نس میں وطن پرستی ہو۔ میں اور میرے ساتھی بہت تیزی سے یہ کام کر رہے ہیں۔ لیکن ہم ریاست کو پہلے اور سیاست کو بعد میں کا نظریہ رکھتے ہیں۔ واضع رہے کہ کراچی میں بہت تیزی سے ڈاکٹر عشرت العباد کو پزیرائی کے ساتھ ملک گیر قومی لیڈر کی حیثیت حاصل ہوچکی ہے۔ عوام بھی وطن پرستی کے نعرے پر بہت زیادہ متحرک ہیں اور ملک میں میری پہچان پاکستان نے انقلاب برپا کردیا ہے۔



