میٹرک بورڈ کی لڑائی نے سینکڑوں بچوں کے مستقبل کو داؤ پر لگادیا۔
چیئرمین میٹرک بورڈ سے فلفور نوٹس لینے کی اپیل ۔
کراچی (رپورٹ) میٹرک بورڈ اور گل فاؤنڈیشن سینٹر کی آپسی لڑائی میں سینکڑوں بچے رل گئے میٹرک بورڈ نے غیر رجسٹرڈ اسکول کو امتحانی سینٹر بنایا جس کی وجہ سے یہ مسئلہ درپیش ہوا اور مختلف اسکولوں کے بچوں کو مذکورہ سینٹر میں امتحان دلوایا گیا بعد میں متعلقہ سینٹر جو کہ گل فاؤنڈیشن کے نام سے ہے اس کے مالکان اور بورڈ کے ذمہ داران میں جھگڑا ہو گیا ۔جس کا غصہ بورڈ نے متعلقہ سینٹر کے تمام بچوں کو فیل کر کے نکالا
جس پر سرکاری اور پرائیوٹ اسکول سربراہان بچوں اور ان کے والدین میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی اگر بچوں کو پاس نہیں کیا گیا تو بچوں کا ایک سال بربادہوجائے گا جسکے بعد ایک کمیٹی تشکیل پائی جس نے مندجہ ذیل اقدامات اٹھانے کا اصولی فیصلہ کیا ہے کراچی میٹرک بورڈ کے ذمہ داران سے ملاقات کر کے یہ مسئلہ حل کروایا جائے
ہم سیاسی جماعتوں و سماجی شخصیات سے اپیل کرتے ہیں کہ ہمارے لیے آواز اٹھائے
ہم وزیراعلی سندھ، وزیر بورڈز و یونیورسٹیز, چیئرمین میٹرک بورڈ، سے اپپل کرتے ہے کہ اس مسئلہ پر فوری نوٹس لیں اور بچوں کے مستقبل کو بچایا جائے
مسئلہ حل نہ ہونے کی صورت میں متاثرہ بچے ان کے والدین اور اساتذہ بورڈ آفس پر بھرپور احتجاج ریکارڈ کروائیں گے
اسٹیک ہولڈز نے اسکولز کے سربراہان کے ساتھ مشترکہ طور پر پریس کانفرنس کیا جس میں ممبر صوبائی اسمبلی سندھ علی احمد، جان، ممبر صوبائی اسمبلی سندھ آصف خان، ممبر صوبائی اسمبلی سندھ آصف موسیٰ،ممبر قومی اسمبلی عبدلقادر پٹیل کے کوآرڈینیٹر محمود حسن ،ماڑیپور ٹاؤن وائس چیئرمین آصف کوثر, سیو سیٹیزن ویلفیئر آرگنائزیشن کی جنرل سیکرٹری سائرا شیخ، پاک ماہیگیر ویلفئیر ایسوسی ایشن کے صدر علاؤالدین ناكوا, PEPSA وومن ونگ کی صدرثمرین، اور اسکول سربراہان موجود تھے۔


