
لاہور۔وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خا ن کی زیر صدارت نیشنل ہائی وے اتھارٹی اور موٹروے پولیس میں اصلاحات لانے کے لئے خصوصی اجلاس منعقد ہوا جس میں گاڑیوں کی فٹنس، ڈرائیونگ لائسنس کے اجراء اور ٹریفک کے نظام سے متعلق اہم فیصلے کیے گئے۔وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان نے ہدایت کی کہ موٹروے پولیس کو جدید ترین ٹیکنالوجی سے لیس کرتے ہوئے کنٹرول روم بنانے کی ضرورت ہے اور اس فورس کے لئے بہترین افسران کا انتخاب عمل میں لایا جائے۔ انہوں نے ڈرائیونگ لائسنس کے اجراء کے لئے بھی بین الاقوامی معیار کے اداروں سے رجوع کرنے کی ہدایت کی تاکہ لا پرواہی اور غفلت کی وجہ سے دوسروں کی جانوں سے نہ کھیلا جاسکے۔ وفاقی وزیر مواصلات کا کہنا تھا کہ نا اہل اور میرٹ پر پورا نہ اترنے والے افسران کی ادارے میں جگہ نہیں ہونی چاہیے،موٹرویز پر حد رفتار کو ہر حال میں کنٹرول کرنا ہے اور اس کی خلاف ورزی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان نے قومی شاہراہوں پر ائیر ایمبولنس سروس کے جلد آغاز کو یقینی بنانے کے لئے اقدامات تیز کرنے کی ہدایت کی۔انہوں نے کہا کہ مسافروں کی جانیں بچانا ہماری اولین ترجیح اور فرض ہے جس کے لئے این ایچ اے حکام کو دنیا کے دیگر ممالک کے ٹریفک نظام کو بھی سٹڈی کرنا چاہیے۔ وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان نے موٹرویز پر ٹراما سینٹرز کے قیام کے لئے بھی تجاویز تیار کرنے کا حکم دیا جبکہ انہوں نے موٹرویز پر ریسٹ ایریاز کی بہتری کے لئے اٹھائے گئے حالیہ اقدامات کی بریفنگ لی اور تمام متعلقہ اداروں کو باہمی اشتراک سے اقدامات یقینی بنانے کے احکامات دیے۔
دریں اثناء نیشنل ہائی وے اتھارٹی نے وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے بابوسرٹاپ شاہراہ ٹریفک کے لئے قبل از وقت کھول دی ہے،عمومی طور پر یہ راستہ جولائی میں کھلتا تھا جسے اس سال ایک ماہ پہلے ہی کھول دیا گیا ہے۔ این ایچ اے ترجمان کے مطابق اب سیاح کسی دشواری کے بغیر بابو سر ٹاپ اور آگے جا سکتے ہیں۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان کے لئے شمالی علاقہ جات کی شاہراہیں خصوصی ترجیح رکھتی ہیں اور اُن کے احکامات پر این ایچ اے حکام پوری طرح متحرک ہیں اور اس سے قبل کاغان، ناران شاہراہ بھی فوری طور پر بحال کر دی گئی تھی۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ بابو سر ٹاپ کی شاہراہ سے بھاری گلیشئیرز، لینڈ سلائیڈ اور خطرناک رکاوٹیں ہٹا دی گئی ہیں جبکہ ہر سال کے مقابلے میں اس مرتبہ ڈیڑھ سے دو ماہ قبل ہی یہ راستہ بحال کر دیا گیا ہے جس سے گلگت بلتستان جانے والوں کے لئے یہ مسافت پانچ گھنٹے کم ہو جائے گی۔



