ہزارہ

منشیات کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی، آئس کے خاتمے کیلئے افسران کو پندرہ روزہ ٹائم لائن مقرر

ایکسائز و ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول کے محکمے کو مزید مضبوط کیا جائے گا۔سید فخرجہان

منشیات کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی، آئس کے خاتمے کیلئے افسران کو پندرہ روزہ ٹائم لائن مقرر

ٹائم لائن کے بعد عملے کی کارکردگی کو جانچا جائے گا اور شکایت ملنے پر ذمہ داروں کے خلاف سخت کاروائی کی جائے گی

محکمہ کا وقار افسران کے ہاتھ میں ہے، اسے سروس ڈلیوری اور اعتماد کا ماڈل بنانا ہے۔

ایکسائز و ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول کے محکمے کو مزید مضبوط کیا جائے گا۔سید فخرجہان

خیبرپختونخوا کے وزیر برائے ایکسائز، ٹیکسیشن و نارکوٹکس کنٹرول سید فخر جہان نے کہا ہے کہ صوبے میں کسی بھی نشے کیلئے زیرو ٹالرنس کی پالیسی ہے اور آئس کے خلاف مؤثر کارروائی کیلئے پندرہ روزہ ٹائم لائن مقرر کر دی گئی ہے جسکے بعد کسی بھی جگہ منشیات کی دستیابی کی شکایت موصول ہونے پر متعلقہ افسران اور عملے کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

انھوں نے کہا کہ ایکسائز وہ ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول کے محکمے کو ایک نمایاں برانڈ کے طور پر پیش کرنا ہے اور اپنی ذمہ داریوں کو اپنی اصلی روح کے مطابق نبھا کر اسکے خلاف کوئی شکایت قبول نہیں ہے۔

ان خیالات کا اظہار انھوں نے منگل کے روز ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ایکسائز، ٹیکسیشن و نارکوٹکس کنٹرول پشاور میں وزارت سنبھالنے کے بعد محکمانہ کارکردگی اور پیشہ ورانہ امور سے متعلق اپنی پہلی بریفنگ کے دوران کیا۔

اس موقع پر سیکریٹری ایکسائز و ٹیکسیشن و نارکوٹکس کنٹرول خالد الیاس، ڈائریکٹر جنرل عبدالعلیم خان، ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرلز، ڈائریکٹرز، آر ٹی اوز اور ای ٹی اوز سمیت تمام افسران موجود تھے۔

صوبائی وزیر سید فخر جہان کو اجلاس میں محصولات، انسدادِ منشیات کارروائیوں اور دیگر ذمہ داریوں سے متعلق جامع بریفنگ دی گئی۔

انہوں نے کہا کہ محکمہ کے وقار اور تکریم کی بحالی افسران کے ہاتھ میں ہے، اس لیے تمام افسران اپنی پیشہ ورانہ کارکردگی کو بہتر بنانے پر بھرپور توجہ دیں اور اس محکمے کو ایک باوقار برانڈ کے طور پر پیش کریں۔

صوبائی وزیر نے کہا کہ محکمہ کے بارے میں منفی امیج ختم کرنا ہے اور اسے سروس ڈلیوری کا ایک ماڈل بنانا ہے۔

انھوں نے کہا کہ وہ افسران اور عملے کو ہر ممکن مدد فراہم کریں گے تاکہ وہ عملی میدان میں بہتر نتائج دے سکیں۔

انہوں نے نشہ اور شے ائیس کے خلاف سخت ترین کارروائیوں کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ آئس کے نشہ آور مواد کے خلاف گلی محلوں کی سطح پر آپریشنز کیے جائیں اور معلومات حاصل کرنے پر اسکی بنانے والی فیکٹریوں کو بھی سیل کیا جائے گا۔

صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ اس لعنت میں ملوث ڈیلرز کو واضح پیغام ہے کہ قوم کے بچوں کی زندگیوں سے کھیلنے والوں کیلئے اس صوبے کی زمین تنگ کر دی جائے گی۔

انہوں نے نوشہرہ روڈ پر آئس کے خلاف کامیاب کارروائی کرنے والی ٹیم کو سراہا اور انہیں شاباش دی۔

سید فخر جہان نے کہا کہ انسداد منشیات کے لیئے مؤثر کارروائی اور میکنزم اپنانے کیلئےانٹی نارکوٹکس فورس کا قیام عمل میں لایا جائے گا جبکہ عملے کی حفاظت کیلئے قانون میں ضروری ترامیم لائی جائیں گی اور اسمبلی سے قانون پاس کراؤں گا تاکہ وہ بلاخوف و خطر اپنی ذمہ داریاں اور کارروائیاں ادا کرسکیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ صوبے بھر میں تعلیمی اداروں اور جامعات میں انسدادِ منشیات آگاہی پروگرامز شروع کیے جائیں گے جبکہ عوامی سطح پر براہ راست رابطے کیلئے ماہانہ ایک کھلی کچہری منعقد کی جائے گی تاکہ عوامی مسائل سے براہ راست آگاہی حاصل کر کے ان کا بروقت حل ممکن بنایا جا سکے۔

صوبائی وزیر نے کہا کہ بانی چیئرمین عمران خان کا ویژن اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کی واضح ہدایات ہیں کہ صوبے میں منشیات کے معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ "نو ڈرگز” کے ویژن پر عملدرآمد کیا جائے گا اور ایکسائز و نارکوٹکس کنٹرول کے تھانوں کو مزید مضبوط بنانے کے ساتھ عملے کی کمی پوری کرنے کیلئے مؤثر اقدامات کیے جائیں گے۔

انھوں نے افسران پر محصولات کے حصول میں مزید بہتری لانے کی ہیدایت کی اور کہا کہ ٹیکسیشن اور ایکسائز کے دائرے میں اپنی کارکردگی کو مزید بڑھائیں۔

صوبائی وزیر نے نوجوانوں اور طلبہ سے اپیل کی کہ وہ اپنے اردگرد ایسے عناصر کی نشاندہی کریں جو منشیات کے کاروبار میں ملوث ہیں تاکہ ان کے خلاف فوری کارروائی کی جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ وہ اس مشن کی غرض سے براہ راست رابطہ کیلئے اپنا نمبر بھی فراہم کریں گے تاکہ کسی بھی جگہ آئس و دیگر منشیات کے عفریت کی شکایت ملنے پر اسکے خلاف موثر کاروائیاں عمل میں لائی جائیں۔

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button