آج کے کالمزکالمز

منافق لوگ اور موجودگی سیاست

باعث افتخار انجنیئر افتخار چودھری

پاکستان کی سیاست میں فوج کا کردار ہمیشہ ایک اہم موضوع رہا ہے۔ ماضی میں کئی سیاستدان فوج کے خلاف سخت موقف اپناتے رہے، جبکہ آج وہی لوگ اپنے سیاسی مفادات کے لیے فوج کے خیرخواہ بننے کا ڈھونگ رچا رہے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ پیپلز پارٹی، ن لیگ اور ان کے حامی صحافی ہمیشہ سے فوج کے خلاف بیانیہ بناتے رہے ہیں، جبکہ آج تحریک انصاف کی مخالفت میں یہ فوج کے قریب ہونے کا دعویٰ کر رہے ہیں
پیپلز پارٹی کی تاریخ فوج مخالف سرگرمیوں سے بھری پڑی ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں فوج کے ساتھ تناؤ دیکھنے میں آیا، لیکن اصل دشمنی اس وقت شروع ہوئی جب جنرل ضیاءالحق نے اقتدار سنبھالا۔ بھٹو کو پھانسی دی گئی تو ان کے بیٹوں، مرتضیٰ بھٹو اور شاہنواز بھٹو نے الذولفقارتنظیم بنائی، جس نے پاکستان کے خلاف ہتھیار اٹھائے۔
1981 میں، اس تنظیم نے پی آئی اے کا طیارہ اغوا کر لیا، جس میں فوجی افسران سمیت کئی پاکستانی یرغمال بنائے گئے۔ یہ کون تھے؟ یہ پیپلز پارٹی کے ہی لوگ تھے! آج یہی پیپلز پارٹی فوج کی اتحادی بننے کی کوشش کر رہی ہے۔
آصف علی زرداری کی فوج مخالف گفتگو بھی ریکارڈ پر ہے۔ انہوں نے کھلے عام کہا تھا کہ "بھئی، تم تو تین سال کے لیے آتے ہو، چلے جاتے ہو، ہم تو یہیں رہتے ہیں!” ان کا یہ طعنہ فوج کو کمزور اور بے اختیار سمجھنے کے مترادف تھا۔
نواز شریف بھی ہمیشہ سے فوج کے مخالف رہے ہیں، بلکہ وہ اقتدار میں آ کر ہمیشہ فوج کے ساتھ تصادم میں چلے جاتے تھے۔ میں خود گواہ ہوں کہ مدینہ منورہ میں نواز شریف نے کہا تھا کہ "فوج کے ساتھ ایسا سلوک ہونا چاہیے کہ ان کو چوک میں کھڑا کر کے ان کی ۔۔۔۔۔اتاری جائے”۔ یہ الفاظ کسی فوج دوست سیاستدان کے نہیں ہو سکتے۔
جب 1999 میں جنرل پرویز مشرف نے اقتدار سنبھالا تو نواز شریف نے فوج کے خلاف ہر ممکن قدم اٹھایا۔ 2008 میں جب ن لیگ کی حکومت بنی، تو بھی نواز شریف اور ان کے حواری فوج کو کنٹرول کرنے کی کوشش کرتے رہے، لیکن ناکام رہے۔
یہی ن لیگ 2017 میں دوبارہ فوج سے ٹکرا گئی جب نواز شریف کو نااہل کیا گیا۔ اس کے بعد "ووٹ کو عزت دو” کا نعرہ لگا کر ن لیگ نے فوج کو مسلسل نشانہ بنایا۔ ، یہی نواز شریف اور ان کے حامی فوج کی حمایت کا دعویٰ کر رہے ہیں؟اصل میں یہ فوج کے اندر سے دشمن ہے اور اداروں کے خلاف بھی یہ بہت اگے بڑھ کر مخالفت کرنے والے ہیں جسٹس سجاد قاضی کی سپریم کورٹ موجودگی پر ان لوگوں کا رویہ کس قدر ختم نبک کہ ان لوگوں نے پاکستان کی سب سے بڑی عدلیہ پر حملہ کیا تھا
عرفان صدیقی جیسے لوگ ہمیشہ مفاد پرستی کی سیاست کرتے ہیں۔ میں خود اس بات کا گواہ ہوں کہ یہ وہی عرفان صدیقی ہیں جو فوج کے خلاف لکھتے تھے اور ان کے بیانیے کو کمزور کرنے کی کوشش کرتے تھے۔
مجلس ظفر علی خان میں رؤف طاہر اور ان کے ساتھی فوج کے خلاف زہر اگل رہے تھے۔ میں نے خود روف طاہر سے سخت بحث کی تھی، جو فوج کے خلاف بات کر رہا تھا۔ اسی بحث کی وجہ سے میری 10 سالہ دوستی ختم ہو گئی، مگر میں نے ہمیشہ فوج کے ساتھ کھڑے ہونے کا فیصلہ کیا۔میرا سابق دوست یہ سمجھتا تھا کہ جنرل دورانی نے مجھے جدہ جیل میں بند کیا تھا تو اس وجہ سے میں فوج کے خلاف ہوں لیکن میں اس کی توقع پورا نہیں اترا اور محفل کا بائیکاٹ کر کے نکل گیا اس بات کی گواہی خالد منہاس بھی دیں گے
عمران خان اور تحریک انصاف ہمیشہ سے فوج کے حمایتی رہے ہیں۔ عمران خان نے ہمیشہ کہا کہ "فوج ہماری ہے”۔
یہ وہی فوج تھی جس نے عمران خان کے دور میں ان کا ساتھ دیا، مگر جب مفادات ٹکرائے تو ن لیگ اور پیپلز پارٹی نے اسے تحریک انصاف کے خلاف استعمال کرنا شروع کر دیا۔
9 مئی کے واقعات کے بعد تحریک انصاف کو "فوج دشمن” قرار دینے کی کوشش کی گئی، لیکن حقیقت یہ ہے کہ تحریک انصاف ہمیشہ فوج کے ساتھ کھڑی رہی ہے۔
آج ن لیگ اور پیپلز پارٹی فوج کی حمایت کا دعویٰ کر رہے ہیں، مگر یہی وہ لوگ تھے جو ماضی میں فوج کے سب سے بڑے دشمن تھے۔
پیپلز پارٹی نے طیارے اغوا کرائے، ن لیگ نے "ووٹ کو عزت دو” کا نعرہ لگا کر فوج کو کمزور کرنے کی کوشش کی، اور عرفان صدیقی جیسے صحافی فوج کے خلاف پروپیگنڈا کرتے رہے۔ مگر آج یہ سب تحریک انصاف کی مخالفت میں فوج کے ساتھ کھڑے ہونے کا ناٹک کر رہے ہیں۔
پاکستان کی سیاست میں فوج کو ہمیشہ مختلف جماعتوں نے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا۔ تحریک انصاف کی مخالفت میں ن لیگ اور پیپلز پارٹی آج فوج کی حمایتی بننے کی کوشش کر رہے ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ماضی میں یہی لوگ فوج کے سب سے بڑے دشمن رہے ہیں۔
قوم کو یہ دوغلا پن سمجھنا ہوگا اور یہ دیکھنا ہوگا کہ کون اصل میں فوج کے ساتھ ہے، اور کون موقع پرستی کی سیاست کر رہا ہے۔

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button