معزز قارئین! اتنے سارے خشک موضوعات پر لکھ چکی ہوں۔ آج سوچا ایسے موضوع پر لکھوں جو آج کی ہماری نوجوان نسل کا پسندیدہ ترین موضوع ہے۔ جی تو کیا خیال ہے آ پ کا آج کی ڈیجیٹل محبت اور پرانے دور کی شرمیلی محبت کے بارے میں۔ آج کی محبتیں ڈیجیٹل محبتیں کہلاتی ہیں۔ چند رومانوی باتوں، فون کالز، تحائف کا لین دین،سیر سپاٹے، ہوٹلوں میں چائے اور آخر میں ہوٹل کے کمرے میں سچی محبت کا ثبوت دینے کے بعد دم توڑ جاتی ہے۔ پھر بے رخی، بے چینی، ندامت،شرمندگی اور ذلالت کے سوا کچھ نہیں بچتا۔اصل میں یہ محبت نہیں کہلاتی یہ ایک قسم کی مخالف جنس کی کشش ہوتی ہے جس کو ہماری نوجوان نسل محبت کا نام دے کر خود کو عاشق سمجھتی ہے۔ وہ لوگ جو محبت کا نام تک نہیں جانتے وہ خود کو کھلاڑی سمجھتے ہیں۔ہماری پرانی معصوم اور شرمیلی محبتوں کے بارے میں ان کو کیا خبر کے کیا ہوتی تھیں…….کیسے جذبات ہوتے تھے کیسے عزتوں کا مان رکھا جاتا تھا…….کیسے والدین کو اہمیت دی جاتی تھی……..کیسے اپنی معصوم محبتوں کو والدین کی عزتوں پر قربان کیا جاتا تھا……..کیسے عاشق تھے جو محبوبہ کو براہ راست نہیں دیکھتے تھے۔۔۔کیسے اچانک نظریں ملنے پر دونوں کانپ جاتے تھے…….کیسے سالوں بات کرنے کے بہانے ڈھونڈے جاتے تھے۔۔۔محبوبائیں محبوبوں کے آنے پر دوپٹہ سنوار کے سر جھکا لیتی تھیں……
ایسی ہی ایک کہانی آج کے دور میں مجھے سننے کو ملی سوچا کیو ں نا اسے لفظوں میں ڈھال کے پبلش کروائی جائے تاکہ ڈیجٹل عاشقوں کو پتہ چلے کہ محبت ہوتی کیا ہے؟ اس کے تقاضے کیا ہیں؟ کسی جبر اور ڈیمانڈ ز کا دور دور تک اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ایک سمیر نامی شخص کی کہانی ہے۔سمیر بہت محنتی اور قابل انسان تھا۔ اپنے والدین کا لائق اور کماؤ پتر۔ اس کے دوستوں کی اپنی ایک ٹیم تھی جو مختلف تقریبات پر تھیٹر ڈرامہ کرتے تھے۔ اسے اپنے ایک استاد کی طرف سے آفر آئی کے بھٹہ مزدوروں کے لیے فنڈ اکٹھا کرنا ہے تو اس کے لیے اپنی ٹیم کو لے کے آئے۔ سمیر حکم کی تعمیل کرتے ہوئے اپنی ٹیم کو لے آیا۔ استاد نے اپنے کچھ شاگردوں کو بھی اس ٹیم کا حصہ بننے کے لیے کہا۔ ٹیم میں چند لڑکے اور لڑکیاں مختلف کردار ادا کرنے والے تھے۔مزے کی بات یہ تھی کہ ان میں مسلمان اور غیر مسلم دونوں تھے لیکن کبھی کسی نے مذہب کی آڑ میں بحث نہیں کی تھی۔ وقت گزرنے لگا۔
ساری ٹیم جوش و خروش سے تیاری میں مصروف تھی۔ ایک چھوٹی سی معصوم سی اور ہمیشہ مسکرانے والی لڑکی تھی۔ جس کا نام سمیر نے پری رکھا ہوا تھا۔وہ ایک مسلم لڑکی تھی، بہت کم بولتی تھی بس اپنی کتابوں میں ہی مگن رہتی تھی۔ ساری ٹیم سے الگ تھلگ رہتی تھی۔ اسے اس کی شخصیت کے مطابق ایک شہری اور پڑھی لکھی سہیلی کا کردار ملا تھا۔ وہ اپنے ڈائیلاگ یاد کرتی اور اور پرفارم کرتی۔ ایک دن ٹریننگ کے دوران خود عتمادی کو بڑھانے کے لیے کچھ مشقیں کروائی گئیں۔ ان مشقو ں میں جیسے اس کی مسکراہٹ دھیمی پڑ گئی۔ سمیر نے جو ہمیشہ اس پر نظر رکھتا اس نے بھانپ لیا کہ اسے لڑکوں کے ساتھ مل کر مشقیں کرنا پسند نہیں ہے۔ وہ بس اپنی سہیلی کے ساتھ اپنے مکالموں کو دہرانا پسند کرتی تھی نا کہ کسی لڑکے کہ ساتھ۔ جب کبھی بات کرنی پڑ بھی جائے تو وہ سر ہلانے یا جی کہنے پر ہی اکتفا کرتی۔ یہ دیکھ کر سمیر نے اسے لڑکیوں کے ساتھ ہی مشقیں کروائی۔ جب بھی کوئی لڑکا اس کے ساتھ بیٹھنے کی یا بات کرنے کی کوشش کرتا تو وہ مرجھا سی جاتی۔ سمیر اسے کسی کام کے بہانے سائیڈ پر کر دیتا۔ سمیر کی اس حرکت پر جیسے وہ اپنی مسکراتی نظروں سے شکرگزار ہوتی دکھائی دیتی۔
سمیر دن بدن یہ سوچنے پر مجبور ہو تا گیا کہ آج کہ اس ڈیجیٹل دور میں اس قسم کی لڑکی بھی ہو سکتی ہے۔ وہ 25 ضلعے گھوم چکا تھامگر اتنی سادہ اور باحیا لڑکی ا س نے پہلی بار دیکھی تھی۔اس کا دل کرتا کہ وہ اس سے ڈھیروں باتیں کرے لیکن کس موضو ع پر یہ اس کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا۔ پھر ایک دن جب اپنے ڈائیلاگ سنانے کے بعد وہ اپنی کتاب کھولنے لگی تو سمیر نے بے ساختہ ہو کر کہا آپ کے کیا کیا شوق ہیں کتابوں کے علاوہ؟ اس بات پر پہلے تو وہ سوچ میں پڑ گئی پھرسمیر کی طرف دیکھ کہ بولی سر مجھے بہت سارے شوق ہیں لیکن ان میں سستا ترین شوق کتاب پڑھنا ہے، یہ کہہ کی چپ ہو گئی۔ اس جملے میں جیسے اس نے بہت کچھ کہہ دیا۔سمیر اس سے مزید بات کرنا چاہتا تھا لیکن وہ بات ختم کر کے سمیر پر سے توجہ ہٹا چکی تھی………(جاری ہے)



