معاشرے میں بگاڑ کی بڑی وجہ ہماری اپنی مذہبی تعلیمات سے دوری ہے,خلیل جارج وفاقی وزیر انسان حقوق
معاشرے میں بگاڑ کی بڑی وجہ ہماری اپنی مذہبی تعلیمات سے دوری ہے اپنی مذہبی روایات کو ترک کرنے کی وجہ سے ہماری خاندانی زندگیاں انتہائی کمزور ہوچکی ہیں اگر ہم معاشرے میں بہتری لانا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے گھروں سے برابری کے اصولوں کو اپنانے کی شروعات کرنا ہونگی Resilient Woman Network اور Freedom of Religion or Believe leadership Network کے زیر اہتمام مذہبی و سماجی ہم آہنگی، تنوع اور درپیش چیلنجز کے موضوع پر ہونے والی دوسری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مہمان خصوصی خلیل جارج وفاقی وزیر انسان حقوق اور دیگر مقررین کا کہنا تھا کہ چند شرپسند مذہب کی آڑ میں وطن عزیز میں امن اور استحکام کو نقصان پہنچانے کے مذموم مقاصد رکھتے ہیں آج ہمارے بچوں کو تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت دینے کی بھی ضرورت ہے تاکہ وہ معاشرے میں ایک فعال کردار ادا کرنے والے بن سکیں اور اس میں ہمارے اساتذہ پر بھاری زمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنا کردار بنتا ہے ہمیں دیکھنا ہوگا کہ ہم کہاں کھڑے ہیں اور اگر ہم دنیا کے ساتھ آگے بڑھنا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے معاشرے میں رہنے والے دیگر مذاھب کے ماننے والوں کو نہ صرف قبولیت بلکہ احترام انسانیت بھی دینا ہوگا کیونکہ ہمارے مذاہبِ ہمیں ایک دوسرے کے عقائد ونظریات کا احترام کی تعلیم دیتے ہیں ہمیں بلا تفریق رنگ نسل و مذہب ظالم کیخلاف مظلوم کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا اس موقع پر سینٹر رخسانہ بشپ عرفان جمیل ، راشد ذکا، مفتی گلزار نعیمی ، مسرت قدیم ، ڈاکٹر اخلاق آلحق اسرار احمد ایڈووکیٹ ، ڈاکٹر زبانی فیاض، ڈاکٹر آمنہ محمود ، ڈاکٹر اختر عباس ، ڈاکٹر اکرام آلحق سبین رضوی ، ثریا اصغر ، اور چیئرپرسن Resilient Woman Network آسیہ ناصر نے بھی خطاب کیا


