قومی

محکمہ ایکسائز میں کیش لیس نظام شروع کرنے جا رہے ہیں,شرجیل انعام میمن

سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن کہا ہے کہ کے ای، حیسکو، سیپکو کے ذریعے بجلی فراہمی کے حوالے سے کمیٹی کا اجلاس ہوا حیسکو، سیپکو اور کے ای کے ایشوز کو حل کرنا کمیٹی کا مینڈیٹ تھا، انہوں نے کہا کہ اسپیکر صاحب رولنگ دیں کہ کمیٹی کے فیصلوں پر عمل درآمد کیا جائے اور تینوں کمپنیوں کے سربراہوں کو یہاں بلوائیں کمیٹی نے جو رائے دی تھی ان پر عملدرآمد کروائیں اگر نہیں کر سکتے تو ان کے خلاف قانون کے دائرے کے مطابق کارروائی کی جائے۔

سندھ اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ، ایکسائز، ٹیکسیشن و نارکوٹکس کنٹرول شرجیل انعام میمن نے کہا کہ خیراتی ادارے سرٹیفائی ہوتے ہیں اور ان کو ہی ٹیکس استثنا حاصل ہوتا ہے، قدرتی آفتوں سیلاب یا زلزلے میں کوئی باہر سے امداد لاتا ہے تو اس سے ٹیکس نہیں لیا جاتا۔

انہوں نے کہا کہ خیراتی اداروں کی گاڑی کے ذاتی استعمال سے متعلق سوال مفروضوں پر مبنی ہےخیراتی ادارے کی گاڑی ذاتی استعمال میں لانے سے گاڑی ضبط بھی ہوسکتی ہے اور جرمانہ بھی عائد ہو سکتا ہے۔ خیراتی اداروں کو معلوم ہے کہ ان کو کون کون سی مراعات حاصل ہیں۔

سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ ہم محکمہ ایکسائز میں متعدد اصلاحات لے آئے ہیں اور انقلابی مثالیں قائم کی ہیں سوک سینٹر میں قطار کا نظام لایا گیا ہے، وہاں آنے والے شہریوں کے لئے ایئرکنڈیشنر و پانی وغیرہ کا بندوبست کیا گیا ہے۔ ہم نے کوشش یہ کی کہ پورے نظام کو آن لائن کی طرف لے جائیں تاکہ لوگوں کو آفس آنے کی زحمت اٹھانی نہ پڑے۔

انہوں نے کہا کہ محکمہ ایکسائز میں کیش لیس نظام شروع کرنے جا رہے ہیں، جو آن لائن سے واقف نہیں وہ محکمہ ایکسائز کے دفتر سے صرف چالان حاصل کر سکیں گے اور بینک میں جمع کرائیں گے، محکمہ ایکسائز کی ایپ کو بہت ہی آسان رکھا گیا ہے اب لوگ گھر بیٹھے رجسٹریشن کروا سکتے ہیں، تاہم، صرف ایک قلیل فیس ادا کرنی ہوگی، ملک میں پہلی بار ایسا صرف سندھ میں ہوا ہے کہ اب کوئی بھی غیر رجسٹرڈ گاڑی سڑکوں پر نہیں چل سکے گی اگر پورٹ پر دوسرے صوبے کی گاڑی آئے گی تو پورٹ سے کیریئر پر وہ گاڑی دوسرے صوبے میں جا سکے گی۔

سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ پریمئم نمبر پلیٹس کی نیلامی کی ایک پلیٹ 10 کروڑ میں بھی فروخت ہوئی اس سے جمع ہونے والے پیسے سیلاب متاثرین کے گھر بنانے کے لئے دیئے جا رہے ہیں ۔ ہم کسی سے رضاکارانہ طور پر پیسے جمع کروا رہے ہیں، کوشش ہوگی کہ ادارے کو ماڈل بنایا جائے۔

انہوں نے کہا کہ چنگچی رکشائوں پر پابندی ہے، وہ عدالت کی جانب سے اسٹے کی بنیاد پر چل رہے ہیں ۔کراچی شہر سے بس اڈے ختم کر دیئے گئے ہیں، حکومت نے مسافروں کو شہر سے باہر پہنچانے کے لئے شٹل سروس بھی شروع کی گئی ہے۔

سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ ہوائی اڈوں اور سرحدی علاقوں پر منشیات کے خلاف اے این ایف کام کر رہا ہے شہروں میں بھی موبائل سروس اور چیکنگ کا نظام شروع کیا گیا ہے ہمارے پاس 10 چیک پوسٹس نوٹیفائڈ ہیں، جن کی بدولت اچھی کارروائیاں ہوئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ منشیات کے خلاف پیپلز پارٹی کا اعلان جنگ ہے، ہمیں آپ سب کی مدد اور معاونت کی ضرورت ہے، منشیات کے خاتمے کے لئے سب کو اقدامات اٹھانے ہونگے، جو بھی منشیات میں ملوث ہوگا اس کے خلاف کارروائی ہوگی، وفاقی حکومت کی جانب سے اے این ایف ہمارے ساتھ مکمل تعاون کر رہا ہے۔

سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ سندھ میں جو بحالی مراکز چل رہے ہیں ان کو حکومت سندھ فنڈنگ کر رہی ہے، عوام الناس کی آگہی کے لئے کام ہو رہے ہیں، سندھ اسمبلی میں منشیات کے خلاف ایک تحریک التوا آئی تھی جسکی ایم کیو ایم اور جماعت اسلامی سمیت تمام جماعتوں نے حمایت کی، یونیورسٹیز میں منشیات کے خلاف کارروائیاں شروع کی گئی ہیں، کچھ ملازمین کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ نے ٹیکس کے مد میں 125 ارب جمع کئے، کچھ لوگوں نے اس کے استعمال پر کورٹ سے اسٹے کیا، حکومت سندھ کیس۔جیت گئی تو یہ لوگ سپریم کورٹ میں چلے گئے، اس وقت بھی ہمارے 120 ارب روپے سپریم کورٹ میں پھنسے ہوئے ہیں، سب کی ذمہ داری ہے کہ اس پر آواز اٹھائیں، سڑکیں ہماری استعمال ہو رہی ہیں، اسٹرکچر ہمارا خراب ہو رہا ہے، ہمیں رقم واپس کروائی جائے، تاکہ ہم کام کروا سکیں۔

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button