آج کے کالمزکالمز

محافظ جمہوریت آصف علی زرداری کو سالگرہ مبارک

شرجیل انعام میمن

صدر مملکت آصف علی زرداری کی آج 70 ویں سالگرہ منائی جا رہی ہے۔ اس موقع پر انہیں مبارک باد اور خراج تحسین پیش کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ان کی شخصیت اور ان کی سیاست کا اس طرح ادراک کیا جائے، جس طرح حقیقت میں وہ ہیں۔
آصف علی زرداری کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ پاکستان کی تاریخ کے پہلے سویلین صدر ہیں، جو دو مرتبہ جمہوری طریقے سے اس منصب جلیلہ کے لیے منتخب ہوئے ہیں اور وہ آج بھی اس عہدے پر براجمان ہیں۔ اس اعزاز کی وجہ سے دنیا ان کی سیاسی صلاحیتوں کی معترف ہو چکی ہے کیونکہ پاکستان جیسے ملک میں ایسا ہونا غیر معمولی واقعہ ہے۔ دنیا آج اس امر کو بھی کھلے دل سے تسلیم کر رہی ہے کہ پاکستان میں 2008 ء سے اب تک یعنی 17 سالوں سے جمہوری نظام کا جو تسلسل ہے، اس کا سہرا بھی صدر آصف علی زرداری کے سر جاتا ہے۔ اس طرح پاکستان میں جمہوری نظام کے جاری و ساری رہنے کی ایک نئی تاریخ رقم ہو گئی ہے۔
دنیا کو یہ احساس بھی ہو گیا ہے کہ آصف علی زرداری نے مملکت پاکستان کے آئینی سربراہ ہونے کا اعلی ترین منصب عام سیاست دانوں کی طرح طاقت اور منصب حاصل کرنے کی عمومی خواہش کے تحت حاصل نہیں کیا بلکہ اس عہدے پر پہنچنے کے لیے ان کا ایک عظیم مقصد تھا اور وہ مقصد یہ تھا کہ پاکستان میں جمہوری نظام کو مضبوط کیا جائے اور ایوان صدر کو جمہوریت کا محافظ بنا دیا جائے، جو قبل ازیں جمہوریت کے لیے ایک مستقل خطرہ اور سازشوں کا ایوان تصور کیا جاتا تھا۔ اپنے پہلے دور صدارت میں آصف علی زرداری نے 18 ویں آئینی ترمیم کے ذریعہ وہ صدارتی اختیارات نہ صرف پارلیمنٹ اور منتخب وزیر اعظم کو منتقل کرائے، جن کی وجہ سے صدر اپنی مرضی سے یا کسی دباو کے تحت جمہوری حکومتوں کا تختہ الٹ دیا کرتا تھا بلکہ اسی آئینی ترمیم کے ذریعہ جمہوری عمل کو سبوتاژ کرنے کے دیگر راستے بھی مسدود کر دیئے۔ آصف علی زرداری کا پہلا دور صدارت مکمل ہوا تو جمہوری طریقے سے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ممنون حسین اور پھر پاکستان تحریک انصاف کے ڈاکٹر عارف علوی صدر منتخب ہوئے۔ اس دوران کئی بڑے سیاسی بحران آئے لیکن بے انتہا کوششوں کے باوجود ایوان صدر کو جمہوری نظام ”ڈی ریل“ کرنے کے لیے استعمال نہ کیا جا سکا۔ اس کا کریڈٹ صرف اور صرف آصف علی زرداری کو جاتا ہے۔ سیاسی بحران اب بھی موجود ہے لیکن جمہوریت پسندوں کو اس بات کا اطمینان ہے کہ جمہوریت کے محافظ آصف علی زرداری بھی ایک بار پھر ایوان صدر میں موجود ہیں۔
27 دسمبر 2007 ء کو جب محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کا عظیم سانحہ رونما ہوا تو کچھ لوگوں نے یہ تاثر دینا شروع کیا کہ آصف علی زرداری حادثاتی سیاست دان ہیں کیونکہ محترمہ کی شہادت کے بعد پیپلز پارٹی اور بھٹو خاندان کی سیاست کو سنبھالنے کی ذمہ داری اچانک ان پر آن پڑی ہے اور وہ شاید یہ ذمہ داری نہیں سنبھال سکیں گے۔ یہ تاثر ان حلقوں نے پیدا کیا، جو آصف علی زرداری کے خاندانی سیاسی پس منظر سے واقف نہیں تھے۔ ان کے والد محترم حاکم علی زرداری سندھ کے ایک بااثر اور ترقی پسند جمہوری سوچ رکھنے والے سیاست دان تھے۔ پاکستان بھر کی ترقی پسند جمہوری قوتوں اور سیاسی رہنماوں سے نہ صرف ان کے گہرے مراسم تھے بلکہ وہ ترقی پسند جمہوری تحریکوں اور شخصیات کی مالی معاونت بھی کرتے رہتے تھے۔ پاکستان کو کس طرح ایک ترقی پسند اور جمہوری ملک بنانا ہے اور اس مقصد کے لیے کس طرح جدوجہد کرنی ہے، اس حوالے سے غیر مبہم اور واضح سوچ آصف علی زرداری کو اپنے والد سے ورثے میں ملی۔ انہوں نے اپنے والد کے سیاسی تعلقات کو نہ صرف سنبھالا بلکہ وسعت دی۔ ان کے بارے میں یہ تاثر بھی غلط ہے کہ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو انہیں اپنی زندگی میں سیاست سے دور رکھتی تھیں۔ شہید بی بی کے ترجمان اور پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما فرحت اللہ بابر نے اپنی کتاب ”THE ZARDARI PRESIDENCY“ میں کئی اہم واقعات کا حوالہ دے کر اس تاثر کو زائل کر دیا ہے۔ اس کتاب میں کہا گیا ہے کہ 1990 ء میں جب اپوزیشن نے شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کو وزارت عظمی سے ہٹانے کے لیے تحریک عدم اعتماد لانے کی کوشش کی تو شہید بی بی نے اس تحریک کو ناکام بنانے کی ساری ذمہ داری آصف علی زرداری کو سونپی اور زرداری صاحب کی کوششوں سے یہ تحریک عدم اعتماد ناکام ہوئی۔ آصف علی زرداری نے دیگر بہت سے مواقع پر بھی بی بی شہید کے کہنے پر کئی اہم سیاسی اور حکومتی معاملات میں ان کی معاونت کی۔ وہ شہید بی بی کو اپنا لیڈر سمجھتے تھے اور ان کی فکر اور فلسفے سے ہم آہنگ تھے۔
اب دنیا پر یہ بات بھی واضح ہو چکی ہے کہ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی وجہ سے آصف علی زرداری کو جھوٹے مقدمات میں پھنسایا گیا اور سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے 11 سال کے طویل عرصے تک قیدو بند کی صعوبتوں کو انتہائی صبر کے ساتھ برداشت کرکے یہ ثابت کیا کہ شہید بھٹو اور شہید بی بی کے مشن کو آگے بڑھانے کے لیے ان کے قدم کبھی نہیں لڑکھڑائیں گے۔ شہید بی بی کے بعد بھی انہوں نے اپنے سیاسی تدبر اور استحقامت سے کام لیا اور نہ صرف پیپلز پارٹی کو ایک سیاسی جماعت کے طور پر پاکستان کی سیاسی تاریخ میں تاریخی کردار ادا کرنے کے قابل بنائے رکھا بلکہ پیپلز پارٹی کے قائدین کے فلسفہ کے مطابق پاکستان کو ایک جمہوری ریاست بنانے میں اہم کامیابیاں بھی حاصل کیں۔ وہ بھٹو کے سیاسی ورثے کے حقیقی جانشین ثابت ہوئے۔
پاکستان پیپلز پارٹی ہمیشہ سیاسی قوتوں کے درمیان مفاہمت کی بات کرتی رہی ہے۔ 30 نومبر 1967 ء کو پاکستان پیپلز پارٹی کے تاسیسی اجلاس میں شہید ذوالفقار علی بھٹو نے جو بنیادی دستاویز پیش کی، اس پر مفاہمت پر ایک الگ باب شامل ہے۔ اسی طرح پیپلز پارٹی کے ہر انتخابی منشور میں بھی سیاسی مفاہمت کو فروغ دینے کی بات کی گئی۔ شہید بی بی نے اپنی کتاب ”مفاہمت“ میں نہ صرف پاکستان بلکہ عالمی سطح پر مفاہمت کا فلسفہ دیا کیونکہ مفاہمت سے ہی کمزور طبقات، قوموں اور گروہوں کو آگے بڑھنے کا راستہ ملتا ہے۔ بشرطیکہ وہ اپنے مقاصد اور اہداف پر سختی سے قائم رہیں۔ بلاول بھٹو زرداری بھی اسی فلسفہ پر گامزن ہیں۔ آصف علی زرداری نے اسی فلسفہ پر کام کرتے ہوئے پاکستان میں جمہوری نظام کو استحکام بخشا۔ وہ ہمیشہ یہ کہتے ہیں کہ جمہوریت سے ہی وہ کچھ حاصل کیا جا سکتا ہے، جو ٹکراو سے حاصل نہیں ہوتا۔ انہیں جدید سیاست میں مفاہمت کا بادشاہ کہا جاتا ہے۔ 18 ویں آئینی ترمیم، فاٹا اصلاحات، صوبہ سرحد کا نام تبدیل کرکے خیبر پختونخوا رکھنے سے اس صوبے کو ثقافتی اور تاریخی شناخت دینا، خارجہ پالیسی میں پاکستان کے مفادات کے مطابق شفٹ، صوبوں کو زیادہ سے زیادہ خود مختاری اور مالیاتی وسائل کا رخ عوام کی طرف موڑنے جیسی عظیم کامیابیاں آصف علی زرداری کی مفاہمت کی پالیسی کا نتیجہ ہیں۔ ان کا فلسفہ یہ ہے کہ جمہوری عمل جاری رہنے سے عوام دوست قوتوں کو مزید پیش قدمی کرنے کی گنجائش پیدا ہوتی رہے گی اور پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ جمہوری عمل سے مطابقت پذیری کرتی رہے گی۔ اسٹیبلشمنٹ کے ادارے بھی اپنے ادارے ہیں۔ مکمل جمہوریت کے لیے بھی ان اداروں کا مضبوط ہونا ضروری ہے۔
ایک اور بات جس کا آج دنیا اعتراف کر رہی ہے، وہ یہ ہے کہ آصف علی زرداری نے اپنے کام اور عمل پر توجہ دی۔ انہوں نے اپنے خلاف ہونے والے منفی پروپیگنڈے کی کبھی پروا نہیں کی۔ ان کا فلسفہ یہ ہے کہ تاریخ کی کسوٹی غلط اور صحیح کو پرکھ لیتی ہے۔ منفی پروپیگنڈے میں الجھ کر انسان کو اپنے مقصد سے نہیں ہٹنا چاہئے۔ وقت سب سے بڑا منصف ہے۔ انہوں نے نہ صرف اپنے خلاف منفی پروپیگنڈے کی پروا نہیں کی بلکہ اپنی ”امیج بلڈنگ“ کے لیے پروپیگنڈے کا سہارا بھی لیا۔ آج وہ لوگ انہیں ایک مدبر اور عظیم مقصد رکھنے والا سیاست دان تسلیم کرتے ہیں، جو کبھی ان کی کردار کشی کیا کرتے تھے۔ آصف علی زرداری نے ثابت کیا کہ جو لوگ وقتی حالات میں الجھے بغیر تاریخی ادراک کے ساتھ کسی بڑے مقصد کے لیے صبر، استحقامت اور تدبر کے ساتھ کام کرتے رہتے ہیں، وہی اپنے عہد کے عوام کے ساتھ ساتھ تاریخ کے بھی حقیقی لیڈر ہوتے ہیں۔

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button