قومی

قدرتی آفات پر سیاست افسوسناک، شدید بارش میں "پیک لوڈ پریشر” ناگزیر ہے: شرجیل انعام میمن

سندھ حکومت شہری مسائل کے حل کے لیے متحرک، بارش کے دوران تنقید سے اداروں کے مورال پر اثر پڑتا ہے، اتحاد کی ضرورت پر زور


کراچی میں حالیہ بارشوں کے تناظر میں سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ قدرتی آفات جیسے حالات میں سیاست کرنا نہایت افسوسناک عمل ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ غیر معمولی بارشوں یا اچانک شدت اختیار کرنے والی موسمی صورتحال میں "پیک لوڈ پریشر” ایک ناگزیر حقیقت ہے، جس سے دنیا کا کوئی بھی بڑا شہر مکمل طور پر محفوظ نہیں رہ سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ شہری انفراسٹرکچر ایک مخصوص گنجائش کے تحت ڈیزائن کیا جاتا ہے، اور جب بارش اس حد سے تجاوز کر جاتی ہے تو عارضی مسائل پیدا ہونا ایک فطری امر ہے۔
انہوں نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ پانی کے بہاؤ اور نکاسی کا ایک قدرتی وقت ہوتا ہے، اور کسی بھی شہر میں یکسر فوری نکاسی ممکن نہیں ہوتی۔ بارش کے دوران سڑکوں اور نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونا وقتی صورتحال ہوتی ہے جسے متعلقہ ادارے مسلسل محنت کے ذریعے معمول پر لاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کو چاہیے کہ وہ ان معاملات کو حقیقت پسندانہ انداز میں دیکھیں اور غیر ضروری تنقید سے گریز کریں۔
شرجیل انعام میمن نے اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ جیسے ہی بارش شروع ہوتی ہے، کچھ عناصر صرف تنقید برائے تنقید کے لیے میدان میں آ جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ رویہ نہ صرف غیر ذمہ دارانہ ہے بلکہ اس سے ان اداروں کے مورال پر بھی منفی اثر پڑتا ہے جو دن رات عوام کی خدمت میں مصروف ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق، ایسے حالات میں اداروں کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے تاکہ وہ مزید بہتر انداز میں اپنی ذمہ داریاں انجام دے سکیں۔
انہوں نے ترقی یافتہ ممالک کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں بھی شدید بارشوں کے دوران وقتی طور پر پانی جمع ہونا ایک عام بات ہے۔ دنیا کے بڑے بڑے شہر بھی موسمی شدت کے سامنے مکمل طور پر محفوظ نہیں ہوتے، تاہم وہاں کے ادارے منظم انداز میں صورتحال کو کنٹرول کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بھی متعلقہ ادارے اسی طرح اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں اور مسلسل کام کے ذریعے شہریوں کو درپیش مشکلات کو کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
سینئر وزیر نے کہا کہ حکومت سندھ نے بارشوں سے نمٹنے کے لیے پیشگی اقدامات کیے ہیں، جن میں نکاسی آب کے نظام کی بہتری، اضافی مشینری کی فراہمی، اور عملے کی دستیابی کو یقینی بنانا شامل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مختلف علاقوں میں ڈی واٹرنگ پمپس نصب کیے گئے ہیں تاکہ بارش کے پانی کو جلد از جلد نکالا جا سکے۔ اس کے علاوہ، ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے متعلقہ محکموں کے عملے کی چھٹیاں بھی منسوخ کی گئی ہیں تاکہ کسی بھی وقت فوری کارروائی ممکن ہو۔
شرجیل انعام میمن نے کہا کہ حکومت شہریوں کو درپیش مشکلات کے ازالے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ جہاں کہیں بھی مسائل کی نشاندہی ہوگی، وہاں فوری اقدامات کیے جائیں گے۔ ان کے مطابق، حکومت کا اولین مقصد شہریوں کو ریلیف فراہم کرنا اور معمولات زندگی کو جلد از جلد بحال کرنا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بارش کے دوران بعض اوقات سوشل میڈیا پر گمراہ کن معلومات اور پروپیگنڈا بھی پھیلایا جاتا ہے، جس سے عوام میں بے چینی پیدا ہوتی ہے۔ انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ ایسی معلومات پر دھیان نہ دیں اور صرف مستند ذرائع پر ہی اعتماد کریں۔ ان کے مطابق، افواہوں اور غلط معلومات سے نہ صرف صورتحال خراب ہوتی ہے بلکہ اداروں کے کام میں بھی رکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ قدرتی آفات کے دوران اتحاد اور یکجہتی ہی سب سے مؤثر حکمت عملی ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے مشکل وقت میں حکومت، اداروں اور عوام کو مل کر کام کرنا چاہیے تاکہ مسائل کا بہتر حل نکالا جا سکے۔ ان کے مطابق، باہمی تعاون اور مثبت رویہ ہی وہ عوامل ہیں جو کسی بھی بحران سے نکلنے میں مدد دیتے ہیں۔
شرجیل انعام میمن نے کہا کہ یہ وقت الزام تراشی یا سیاست کا نہیں بلکہ عملی اقدامات کا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اپنی ذمہ داریوں سے آگاہ ہے اور ہر ممکن کوشش کر رہی ہے کہ شہریوں کو کم سے کم مشکلات کا سامنا کرنا پڑے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عوام کا تعاون بھی اس عمل میں نہایت اہم ہے، اور اگر سب مل کر کام کریں تو کسی بھی مشکل صورتحال پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
آخر میں انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں اور متعلقہ اداروں کے ساتھ تعاون کریں۔ انہوں نے کہا کہ بارشوں جیسے قدرتی عوامل کو مکمل طور پر کنٹرول کرنا ممکن نہیں، لیکن بہتر منصوبہ بندی اور اجتماعی کوششوں کے ذریعے ان کے اثرات کو ضرور کم کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت سندھ مستقبل میں بھی ایسے اقدامات جاری رکھے گی تاکہ شہریوں کو زیادہ سے زیادہ سہولت فراہم کی جا سکے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے مؤثر انداز میں نمٹا جا سکے۔

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button